🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب جَوَازِ أَكْلِ الْمَرَقِ وَاسْتِحْبَابِ أَكْلِ الْيَقْطِينِ وَإِيثَارِ أَهْلِ الْمَائِدَةِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا وَإِنْ كَانُوا ضِيفَانًا إِذَا لَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ صَاحِبُ الطَّعَامِ:
باب: شوربہ کھانا اور کدو کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2041 ترقیم شاملہ: -- 5327
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ، قَالَ ثَابِتٌ: فَسَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ بَعْدُ أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُصْنَعَ فِيهِ دُبَّاءٌ إِلَّا صُنِعَ.
معمر نے ثابت بنانی اور عاصم احول سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے جو درزی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اور یہ اضافہ کیا کہ ثابت نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: اس کے بعد جب بھی میرے لیے کھانا بنتا ہے اور میں ایسا کر سکتا ہوں کہ اس میں کدو ڈالا جائے تو ڈالا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5327]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک درزی آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد ثابت اس واقعہ میں یہ اضافہ کرتے ہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا: اس کے بعد، جو کھانا بھی میرے لیے تیار کیا گیا اور میرے لیے اس میں کدو ڈلوانا ممکن تھا تو اس میں کدو ڈالا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5327]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2041
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الضَّيْفِ لأَهْلِ الطَّعَامِ وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الضَّيْفِ الصَّالِحِ وَإِجَابَتِهِ لِذَلِكَ:
باب: کھجور کھاتے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2042 ترقیم شاملہ: -- 5328
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، قَالَ: فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ، فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى، قَالَ شُعْبَةُ: هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ، فَقَالَ أَبِي: وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَقَالَ: " بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں مہمان ہوئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا حلوہ پیش کیا، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر آپ کے سامنے کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ کھجوریں کھا رہے تھے۔ اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے جا رہے تھے۔ (کھانے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی اور درمیانی انگلی اکٹھی کی ہوئی تھیں۔ شعبہ نے کہا: میرا گمان (غالب) ہے اور ان شاء اللہ یہ بات یعنی گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنا اس (حدیث) میں ہے۔ پھر (آپ کے سامنے) مشروب لایا گیا۔ آپ نے اسے پیا، پھر اپنی دائیں جانب والے کو دے دیا۔ (عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے والد نے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی عرض کی: ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں ان کے لیے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5328]
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں ٹھہرے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا اور بَرنی کھجور، پنیر اور گھی کا حلوہ پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تناول فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خشک کھجوریں پیش کی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھا رہے تھے اور گٹھلی انگلیوں میں ڈالتے، شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان رکھ کر پھینکتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: میرے خیال میں ان شاء اللہ دو انگلیوں سے گٹھلی پھینکنا اس حدیث میں موجود ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی کر بعد میں اپنے دائیں جانب والے کو دے دیا، تو میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ کر درخواست کی کہ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! ان کو جو کچھ تو نے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے اور ان پر رحم فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5328]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2042
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2042 ترقیم شاملہ: -- 5329
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَشُكَّا فِي إِلْقَاءِ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ.
ابن ابی عدی اور یحییٰ بن حماد دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنے کے بارے میں شک (کا اظہار) نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5329]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے، شعبہ کی اس سند سے روایت کرتے ہیں اور دو انگلیوں میں رکھ کر گٹھلی پھینکنے کے بارے میں شک کا اظہار نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5329]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2042
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب أَكْلِ الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ:
باب: کھجور کے ساتھ ککڑی کھانا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2043 ترقیم شاملہ: -- 5330
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ ".
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے ہوئے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5330]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھیرے کے ساتھ تازہ کھجوریں کھاتے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5330]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2043
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب اسْتِحْبَابِ تَوَاضُعِ الآكِلِ وَصِفَةِ قُعُودِهِ:
باب: کیونکر بیٹھ کر کھانا چاہیے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2044 ترقیم شاملہ: -- 5331
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ كِلَاهُمَا، عَنْ حَفْصٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْعِيًا يَأْكُلُ تَمْرًا ".
حفص بن غیاث نے مصعب بن سلیم سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں گھٹنے کھڑے کر کے تھوڑے سے زمین پر لگ کر بیٹھے تھے۔ کھجوریں کھا رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5331]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرین کے بل بیٹھ کر، پنڈلیاں کھڑی کر کے کھجوریں کھاتے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5331]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2044
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2044 ترقیم شاملہ: -- 5332
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُهُ وَهُوَ مُحْتَفِزٌ يَأْكُلُ مِنْهُ أَكْلًا ذَرِيعًا "، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ أَكْلًا حَثِيثًا.
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سلیم سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے ان کو تقسیم فرمانے لگے جیسے آپ ابھی اٹھنے لگے ہوں (بیٹھنے کی وہی کیفیت جو پچھلی حدیث میں بیان ہوئی دوسرے لفظوں میں بتائی گئی ہے) اور آپ اس میں سے جلدی جلدی چند دانے کھا رہے تھے۔ زہیر کی روایت میں ذَریعًا کے بجائے حَثِیثًا کا لفظ ہے یعنی بغیر کسی اہتمام کے جلدی جلدی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5332]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اکڑوں بیٹھ کر تقسیم کرنے لگے، ان سے جلدی جلدی کھا رہے تھے، زہیر کی روایت میں «ذَرِيْعًا» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5332]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2044
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب نَهْيِ الآكِلِ مَعَ جَمَاعَةٍ عَنْ قِرَانِ تَمْرَتَيْنِ وَنَحْوِهِمَا فِي لُقْمَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ أَصْحَابِهِ:
باب: اجتماعی کھانے میں دو دو کھجوریں یا دو دو لقمے کھانے کی ممانعت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2045 ترقیم شاملہ: -- 5333
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَبَلَةَ بْنَ سُحَيْمٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ وَكُنَّا نَأْكُلُ، فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ، فَيَقُولُ: لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ "، قَالَ شُعْبَةُ: لَا أُرَى هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلَّا مِنْ كَلِمَةِ ابْنِ عُمَرَ يَعْنِي الِاسْتِئْذَانَ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا: میں نے جبلہ بن سحیم سے سنا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمیں کھجوروں کا راشن دیتے تھے ان دنوں لوگ قحط سالی کا شکار تھے۔ اور ہم (کھجوریں) کھاتے تھے۔ ہم کھا رہے ہوتے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ہمارے قریب سے گزرتے اور فرماتے: اکٹھی دو دو کھجوریں مت کھاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھی دو دو کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی اپنے (ساتھ کھانے والے) بھائی سے اجازت لے۔ شعبہ نے کہا: میرا یہی خیال ہے کہ یہ جملہ یعنی اجازت لینا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔ (انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کیا۔) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5333]
جبلہ بن سحیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہمیں کھجوریں دیتے تھے، کیونکہ لوگ ان دنوں (قحط سالی کی وجہ سے) ضرورت مند تھے، ہم کھا رہے تھے کہ ہمارے پاس سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرے اور فرمایا: ”ملا کر نہ کھاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ملانے سے منع فرمایا ہے“، شعبہ کہتے ہیں: اجازت لینے کی بات، میرے خیال میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اپنی بات ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5333]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2045 ترقیم شاملہ: -- 5334
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا قَوْلُ شُعْبَةَ، وَلَا قَوْلُهُ وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ.
عبید اللہ کے والد معاذ اور عبدالرحمٰن بن مہدی دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ان دونوں کی روایت میں شعبہ کا اور ان (جبلہ بن سحیم) کا یہ قول موجود نہیں، ”ان دنوں لوگ قحط سالی کا شکار تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5334]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اور اساتذہ سے شعبہ رحمہ اللہ ہی کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں شعبہ کا قول موجود نہیں ہے اور نہ یہ بات ہے کہ لوگ ان دنوں قحط سالی کا شکار تھے، یا مشقت میں مبتلا تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5334]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2045 ترقیم شاملہ: -- 5335
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ ".
سفیان نے جبلہ بن سحیم سے روایت کی کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص ساتھیوں سے اجازت لیے بغیر اکٹھی دو دو کھجوریں کھائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5335]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر دو کھجوریں ملا کر کھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5335]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب فِي ادِّخَارِ التَّمْرِ وَنَحْوِهِ مِنَ الأَقْوَاتِ لِلْعِيَالِ:
باب: کھجور یا اور کوئی غلہ وغیرہ بال بچوں کے لیے جمع کر رکھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2046 ترقیم شاملہ: -- 5336
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمُ التَّمْرُ ".
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے گھر کے لوگ بھوکے نہیں رہتے جن کے پاس کھجوریں ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5336]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر کے افراد بھوکے نہیں رہتے، جن کے پاس کھجوریں ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5336]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2046
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں