صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب اسْتِحُبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكُلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنّ أَذًي، وَّكَراهَةِ مَسْح الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا لِاحْتِمَالِ كَوْنِ بَرَكَةِ الطَّعَامِ فَي ذٰلِكَ الْبَاقِي وَ أَنَّ السُّنَّةُ الْأَكْلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ
باب: کھانے (کے بعد) انگلیاں چاٹنا مستحبب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2032 ترقیم شاملہ: -- 5297
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ وَيَلْعَقُ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يَمْسَحَهَا ".
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے عبدالرحمان بن سعد سے، انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور صاف کرنے سے پہلے اپنا ہاتھ (تین انگلیاں) چاٹ لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5297]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں کہ ابن کعب اپنے باپ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور اپنے ہاتھ کو صاف کرنے سے پہلے چاٹ لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5297]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2032
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2032 ترقیم شاملہ: -- 5298
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَوْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ أَخْبَرَه، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ فَإِذَا فَرَغَ لَعِقَهَا ".
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے عبدالرحمان بن سعد سے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان بن کعب یا عبداللہ بن کعب نے اپنے والد کعب (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو ان کو چاٹ لیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5298]
حضرت عبدالرحمٰن بن کعب یا عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور جب فارغ ہوتے تو ان کو چاٹ لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5298]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2032
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2032 ترقیم شاملہ: -- 5299
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، حَدَّثَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
(عبداللہ) ابن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے عبدالرحمان بن سعد سے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان بن کعب بن مالک اور عبداللہ بن کعب دونوں نے یا ان میں سے ایک نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5299]
یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن کعب اور عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہما دونوں نے یا ان میں سے ایک نے روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5299]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2032
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5300
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ، وَقَالَ: " إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّهِ الْبَرَكَةُ ".
سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم نہیں جانتے اس کے کس حصے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5300]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں اور پلیٹ کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم نہیں جانتے اس کے کس حصے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5300]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5301
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ ".
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سفیان (ثوری) رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھا لے اور اس پر جو ناپسندیدہ چیز (تنکا، مٹی) لگی ہے اس کو اچھی طرح صاف کر لے اور اسے کھا لے، اس لقمے کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور جب تک اپنی انگلیوں کو چاٹ نہ لے، اس وقت تک اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5301]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس کو اٹھائے اور اس کو لگنے والی تکلیف دہ چیز (مٹی، ریت اور تنکے وغیرہ) دور کر کے اس کو کھا لے اور جب تک اپنی انگلیاں چاٹ نہ لے، اپنا ہاتھ رومال سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کس حصہ میں خیر و برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5302
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِهِمَا وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا وَمَا بَعْدَهُ.
ابوداود حفری اور عبدالرزاق دونوں نے سفیان (ثوری) رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے: ”اور اپنا ہاتھ رومال سے نہ پونچھے حتیٰ کہ اسے چاٹ لے یا چٹوائے“ اور اس کے بعد والے الفاظ بھی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5302]
یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے بھی بیان کرتے ہیں، ان کی حدیث میں بھی ہے: ”وہ اپنا ہاتھ تولیے سے صاف نہ کرے حتیٰ کہ اسے چاٹ لے یا چٹوائے“ اور اس کے بعد والا حصہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5302]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5303
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ، فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ، فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”شیطان تم میں سے ہر ایک کی ہر حالت میں اس کے پاس حاضر ہوتا ہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی، جب تم میں سے کسی سے لقمہ گر جائے تو جو کچھ اسے لگ گیا ہے، اسے صاف کر کے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور جب (کھانے سے) فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5303]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”شیطان تمہارے ہر معاملے کے وقت آ جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ تمہارے کھانے کے وقت بھی آ جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کسی سے کوئی لقمہ گر جائے تو وہ اس سے اذیت کا باعث چیز زائل کر کے اس کو کھا لے، اس کو شیطان کے لیے نہ پڑا رہنے دے اور جب فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ اسے علم نہیں ہے اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5303]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5304
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ.
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے“ آخر تک اور حدیث کا ابتدائی حصہ: ”شیطان تمہارے پاس حاضر ہوتا ہے“ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5304]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں ” «إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ» “ ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5304]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2033 ترقیم شاملہ: -- 5305
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِكْرِ اللَّعْقِ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَان َ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ اللُّقْمَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا.
محمد بن فضیل نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح اور ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (انگلیاں) چاٹنے کے بارے میں روایت بیان کی اور ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، اور لقمے کا ذکر کیا، ان دونوں (جریر اور ابومعاویہ) کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5305]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوصالح رحمہ اللہ اور ابوسفیان رحمہ اللہ دونوں سے چاٹنے کا ذکر کرتے ہیں اور ابوسفیان رحمہ اللہ سے لقمہ والا حصہ بیان کرتے ہیں، جیسا کہ اوپر والے دونوں اساتذہ بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5305]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2034 ترقیم شاملہ: -- 5306
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، قَالَ: وَقَالَ: " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَةَ "، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ ".
بہز نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت کھانا کھاتے تو (آخر میں) اپنی تین انگلیوں کو چاٹتے اور کہا: آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے ناپسندیدہ چیز کو دور کر لے اور کھا لے اور اس کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔“ اور آپ نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5306]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے اذیت دہ چیز زائل کر دے اور اس کو کھا لے اور شیطان کے لیے اسے نہ چھوڑے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کس کھانے میں برکت اور فیض بخشی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5306]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2034
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة