صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب اسْتِحُبَابِ لَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالْقَصْعَةِ، وَأَكُلِ اللُّقْمَةِ السَّاقِطَةِ بَعْدَ مَسْحِ مَا يُصِيبُهَا مِنّ أَذًي، وَّكَراهَةِ مَسْح الْيَدِ قَبْلَ لَعْقِهَا لِاحْتِمَالِ كَوْنِ بَرَكَةِ الطَّعَامِ فَي ذٰلِكَ الْبَاقِي وَ أَنَّ السُّنَّةُ الْأَكْلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ
باب: کھانے (کے بعد) انگلیاں چاٹنا مستحبب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2035 ترقیم شاملہ: -- 5307
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنی انگلیوں کو چاٹ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5307]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے، کس حصے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5307]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2035
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2035 ترقیم شاملہ: -- 5308
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَلْيَسْلُتْ أَحَدُكُمُ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ أَوْ يُبَارَكُ لَكُمْ.
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی، مگر انہوں نے کہا: ”تم میں سے ہر ایک پیالہ صاف کرے۔“ اور فرمایا: ”تمہارے کس کھانے (کے کس حصے) میں برکت ہے، یا (فرمایا:) کس کھانے میں تمہارے لیے برکت ڈالی جاتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5308]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اتنا فرق ہے کہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک اپنی پلیٹ تھالی صاف کر لے۔“ اور فرمایا: ”تمہارے کس کھانے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5308]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2035
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
19. باب مَا يَفْعَلُ الضَّيْفُ إِذَا تَبِعَهُ غَيْرُ مَنْ دَعَاهُ صَاحِبُ الطَّعَامِ وَاسْتِحْبَابُ إِذْنِ صَاحِبِ الطَّعَامِ لِلتَّابِعِ.
باب: اگر مہمان کے ساتھ کوئی طفیلی ہو جائے تو کیا کرے؟
ترقیم عبدالباقی: 2036 ترقیم شاملہ: -- 5309
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وتقاربا في اللفظ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ وَيْحَكَ اصْنَعْ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةِ نَفَرٍ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، قَالَ: فَصَنَعَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَاهُ خَامِسَ خَمْسَةٍ وَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا اتَّبَعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ رَجَعَ"، قَالَ: لَا بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: انصار میں ایک آدمی جس کا نام ابوشعیب تھا، جس کا ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا۔ اس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک معلوم ہوئی تو اپنے غلام سے کہا کہ ہم پانچ آدمیوں کے لیے کھانا تیار کر کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرنا چاہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ آدمیوں میں پانچویں ہوں گے۔ راوی کہتا ہے کہ اس نے کھانا تیار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ میں پانچویں تھے۔ ان کے ساتھ ایک آدمی ہو گیا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر پہنچے تو (صاحب خانہ سے) فرمایا کہ یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے، اگر تو چاہے تو اس کو اجازت دے، ورنہ یہ لوٹ جائے گا۔ اس نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! بلکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5309]
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوشعیب نامی انصاری کا ایک گوشت فروش غلام تھا، انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر بھوک کے اثرات محسوس کر لیے تو اپنے غلام سے کہا: تم پر افسوس! ہمارے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر، کیونکہ میں پانچوں میں پانچواں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینا چاہتا ہوں، اس نے کھانا تیار کیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پانچوں میں پانچواں آپ کو بلایا اور ایک آدمی نے ان کا پیچھا کیا، تو جب دروازے پر پہنچ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے، اگر چاہو تو اسے اجازت دے دو اور چاہو تو یہ واپس چلا جائے۔“ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! واپس نہ جائے، بلکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5309]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2036
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2036 ترقیم شاملہ: -- 5310
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَاه نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَتِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ،
ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں یہی حدیث ابومعاویہ سے بیان کی، نیز یہ حدیث ہمیں نصر بن علی جہضمی اور ابوسعید اشج نے بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی، عبیداللہ بن معاذ نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، نیز ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن یوسف نے سفیان سے حدیث بیان کی، ان سب (ابومعاویہ، شعبہ اور سفیان) نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے ابومسعود سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جس طرح جریر کی حدیث ہے۔ نصر بن علی نے اس حدیث کی اپنی روایت میں کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش سے شقیق بن سلمہ سے، انہوں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے، پھر پوری حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5310]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی حدیث اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے اعمش رحمہ اللہ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5310]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2036
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2036 ترقیم شاملہ: -- 5311
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّاد ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ وَهُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
عمار بن رزیق نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز زہیر نے کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے، انہوں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، نیز (زہیر نے) اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5311]
امام صاحب یہی حدیث مختلف سندوں سے حضرت ابومسعود اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5311]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2036
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2037 ترقیم شاملہ: -- 5312
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ، فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ: وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، فَعَادَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ: لَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ: نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شوربا تیار کیا، پھر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”ان کو بھی دعوت ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں)“ وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو بھی؟“ اس نے کہا: نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نہیں۔“ وہ پھر دعوت دینے کے لیے آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو بھی؟“ تو تیسری بار اس نے کہا: ہاں۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5312]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی شوربہ بہت اچھا تیار کرتا تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شوربہ تیار کیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ؟“ یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا، اس نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی نہیں“، اس نے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ؟“ اس نے کہا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہ بارہ دعوت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ؟“ اس نے تیسری دفعہ کہا: جی ہاں، تو آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے تیزی سے چل پڑے حتیٰ کہ اس کے گھر پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5312]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2037
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
20. باب جَوَازِ اسْتِتْبَاعِهِ غَيْرَهُ إِلَى دَارِ مَنْ يَثِقُ بِرِضَاهُ بِذَلِكَ وَيَتَحَقَّقُهُ تَحَقُّقًا تَامًّا وَاسْتِحْبَابِ الاِجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ:
باب: اگر مہمان کو یقین ہو کہ میزبان دوسرے کسی شخص کو ساتھ لے جانے سے ناراض نہ ہو گا تو ساتھ لے جا سکتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2038 ترقیم شاملہ: -- 5313
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ:" مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟"، قَالَا: الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا"، فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ، فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ، قَالَتْ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ فُلَانٌ؟، قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ، فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي"، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ، فَقَالَ: كُلُوا مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ"، فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ، وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا، فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ، ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ".
خلف بن خلیفہ نے یزید بن کیسان سے، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ رات یا دن کو باہر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو پوچھا کہ تمہیں اس وقت کون سی چیز گھر سے نکال لائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بھوک کے مارے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں، چلو۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر آئے، وہ اپنے گھر میں نہیں تھا۔ اس کی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں شخص (اس کے خاوند کے متعلق فرمایا) کہاں گیا ہے؟ وہ بولی کہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گیا ہے (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عذر سے اجنبی عورت سے بات کرنا اور اس کو جواب دینا درست ہے، اسی طرح عورت اس مرد کو گھر بلا سکتی ہے جس کے آنے سے خاوند راضی ہو) اتنے میں وہ انصاری مرد آ گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج کے دن کسی کے پاس ایسے مہمان نہیں ہیں جیسے میرے پاس ہیں۔ پھر گیا اور کھجور کا ایک خوشہ لے کر آیا جس میں گدر، سوکھی اور تازہ کھجوریں تھیں اور کہنے لگا کہ اس میں سے کھائیے پھر اس نے چھری لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دودھ والی بکری مت کاٹنا۔ اس نے ایک بکری کاٹی اور سب نے اس کا گوشت کھایا اور کھجور بھی کھائی اور پانی پیا۔ جب کھانے پینے سے سیر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں سوال ہو گا کہ تم اپنے گھروں سے بھوک کے مارے نکلے اور نہیں لوٹے یہاں تک کہ تمہیں یہ نعمت ملی۔ (اس فضل پر سوال ضرور ہو گا) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5313]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن یا رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس وقت کس بنا پر گھروں سے نکلے ہو؟“ دونوں نے جواب دیا: بھوک کے سبب، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! مجھے بھی اس چیز نے گھر سے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے، اٹھو۔“ تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری آدمی کے گھر آئے تو وہ گھر میں موجود نہیں تھا، جب اس کی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: ”فلاں کہاں ہے؟“ اس نے کہا: وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گیا ہے، اتنے میں وہ انصاری بھی آ گیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا: اللہ کا شکر ہے، آج مجھ سے زیادہ کسی کے مہمان معزز نہیں ہیں، پھر وہ گیا اور کھجوروں کا ایک گچھا لے آیا جس میں کچی پکی، خشک اور تازہ کھجوریں تھیں اور عرض کی: اس سے کھا لیں، اور اس نے چھری پکڑ لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”دودھیاری سے احتراز کرنا۔“ اس نے ان کے لیے بکری ذبح کی اور ان حضرات نے بکری کا گوشت اور اس گچھے سے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا، تو جب وہ سیر اور سیراب ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا، تم اپنے گھروں سے بھوک کے سبب نکلے تھے، پھر تم گھروں کو اس وقت تک نہیں لوٹے جب تک تمہیں یہ نعمتیں نہیں مل گئیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5313]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2038
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2038 ترقیم شاملہ: -- 5314
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ يَعْنِي المُغِيرَةَ بْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: بَيْنَا أَبُو بَكْرٍ قَاعِدٌ وَعُمَرُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَقْعَدَكُمَا هَاهُنَا، قَالَا: أَخْرَجَنَا الْجُوعُ مِنْ بُيُوتِنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ.
عبدالواحد بن زیاد نے کہا: ہمیں یزید نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوحازم نے حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک روز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟“ دونوں نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! ہمیں بھوک نے اپنے گھروں سے نکالا ہے۔ پھر خلف بن خلیفہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5314]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران کہ وہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھایا ہے؟“ دونوں نے کہا: ”ہمیں ہمارے گھروں سے بھوک نے نکالا ہے، اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے!“ پھر مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5314]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2038
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2039 ترقیم شاملہ: -- 5315
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مِنْ رُقْعَةٍ عَارَضَ لِي بِهَا ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَيَّ، قَالَ: أَخْبَرَنَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي، فَقُلْتُ لَهَا: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا، فَأَخْرَجَتْ لِي جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ، قَالَ: فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتْ فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي، فَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ، قَالَ: فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَدْ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَتْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا، فَتَعَالَ أَنْتَ فِي نَفَرٍ مَعَكَ، فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ:" إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ لَكُمْ سُورًا فَجِئْتُ بِكُمْ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَتَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ"، فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي، فَقَالَتْ: بِكَ وَبِكَ، فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ لِي، فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينَتَنَا، فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا، فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ:" ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا" وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَتَنَا أَوْ كَمَا، قَالَ الضَّحَّاكُ: لَتُخْبَزُ كَمَا هُوَ.
حجاج بن شاعر نے کہا: ضحاک بن مخلد نے مجھے ایک رقعے سے حدیث بیان کی، اسے میرے سامنے رکھا پھر اسے پڑھا، کہا: مجھے حنظلہ بن عثمان نے اس کے بارے میں بتایا، کہا: ہمیں سعید بن میناء نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: کہ جب (مدینہ کے گرد) خندق کھودی گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پایا۔ میں اپنی بیوی کے پاس لوٹا اور کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بھوکا پایا ہے۔ اس نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کا پلا ہوا بچہ تھا، میں نے اس کو ذبح کیا اور میری عورت نے آٹا پیسا۔ وہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہوئی میں نے اس کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پلٹنے لگا تو عورت بولی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے سامنے رسوا نہ کرنا (کیونکہ کھانا تھوڑا ہے کہیں بہت سے آدمیوں کی دعوت نہ کر دینا)۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا جو ہمارے پاس تھا، تیار کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر تشریف لائیے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اور فرمایا کہ اے خندق والو! جابر نے تمہاری دعوت کی ہے تو چلو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی ہانڈی کو مت اتارنا اور آٹے کی روٹی مت پکانا، جب تک میں نہ آ جاؤں۔ پھر میں گھر میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے آگے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ میں اپنی عورت کے پاس آیا، وہ بولی کہ تو ہی پریشان ہو گا اور لوگ تجھے ہی برا کہیں گے۔ میں نے کہا کہ میں نے تو وہی کیا جو تو نے کہا تھا (لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا اور سب کو دعوت سنا دی) میں نے وہ آٹا نکالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لب مبارک اس میں ڈالا اور برکت کی دعا کی، پھر ہماری ہانڈی کی طرف چلے اور اس میں بھی تھوکا اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد (میری عورت سے) فرمایا کہ ایک روٹی پکانے والی اور بلا لے جو تیرے ساتھ مل کر پکائے اور ہانڈی میں سے ڈوئی نکال کر نکالتی جا، اس کو اتارنا مت۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے، پس میں قسم کھاتا ہوں کہ سب نے کھایا، یہاں تک کہ چھوڑ دیا اور لوٹ گئے اور ہانڈی کا وہی حال تھا، ابل رہی تھی اور آٹا بھی ویسا ہی تھا، اس کی روٹیاں بن رہی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5315]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھوک کا اثر محسوس کیا تو میں اپنی بیوی کی طرف لوٹا اور اس سے پوچھا: کیا تیرے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بھوک لگی ہے، اس نے مجھے ایک چمڑے کا تھیلا پیش کیا، جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس ایک چھوٹا سا پالتو چھترا تھا، میں نے اسے ذبح کیا اور اس نے جو پیس لیے اور میرے ساتھ ہی اس سے فارغ ہو گئی، میں نے گوشت چھوٹا چھوٹا کر کے ہانڈی میں ڈالا، پھر واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھیوں سمیت لا کر مجھے رسوا نہ کرنا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سرگوشی کی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے اپنا ایک چھوٹا سا پالتو چھترا ذبح کیا اور بیوی نے ہمارے پاس ایک صاع جو تھے، پیس لیے ہیں تو آپ چند ساتھیوں کے ہمراہ تشریف لے آئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: ”اے خندق والو! جابر (رضی اللہ عنہ) نے تمہاری دعوت کی ہے تو جلدی کرو“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ہانڈی ہرگز نہ اتارنا اور آٹے کی روٹیاں نہ پکانا، حتیٰ کہ میں آ جاؤں۔“ میں چل پڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے آگے چل پڑے، حتیٰ کہ میں بیوی کے پاس پہنچ گیا، (اس کو صورتِ حال بتائی) اس نے کہا: تیری وجہ سے ایسا ہوا تو ہی رسوا ہو گا، میں نے کہا: میں نے تو تیری بات پر عمل کیا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گندھا ہوا آٹا پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں لعابِ مبارک ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ہانڈی کا رخ کیا، اس میں لعابِ دہن ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا: ”ایک روٹی پکانے والی بلا لو، وہ تمہارے ساتھ روٹیاں پکائے اور اپنی ہانڈی سے چمچہ سے سالن نکالنا اور اس کو چولہے سے نہ اتارنا۔“ آپ کے ساتھی ایک ہزار تھے، میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، سب نے کھایا، حتیٰ کہ اس کو باقی چھوڑ کر چلے گئے اور ہماری ہانڈی پہلے کی طرح جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا اس طرح پکایا جا رہا تھا، جو لفظ ضحاک نے کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2039
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2040 ترقیم شاملہ: -- 5316
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْم: قَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟"، قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" أَلِطَعَامٍ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ:" قُومُوا"، قَالَ: فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ: قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتْ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ"، فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا، فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًا أَوْ ثَمَانُونَ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ہے کمزور تھی۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک لگی ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی لی اس کے ایک حصے میں روٹیاں لپیٹیں، پھر ان کو میرے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا اور اس (اوڑھنی) کا بقیہ حصہ چادر کی طرح میرے اوپر ڈال دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان روٹیوں کو لے کر گیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں بیٹھے پایا اور آپ کے ساتھ دوسرے لوگ موجود تھے، میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کھانے کے لیے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”چلو“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور میں ان کے آگے آگے چل پڑا، یہاں تک کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو بتایا۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (باقی) لوگوں سمیت آ گئے ہیں، اور ہمارے پاس اتنا (کھانا) نہیں ہے کہ ان کو کھلا سکیں۔ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور (جا کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ آئے اور وہ دونوں گھر میں داخل ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ۔“ وہ یہی روٹیاں لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا، ان (روٹیوں) کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے گئے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنا گھی کا کپہ (چمڑے کا گول برتن) ان (روٹیوں) پر نچوڑ کر سالن شامل کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جو کچھ اللہ نے چاہا پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو آنے کی اجازت دو۔“ انہوں (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) نے دس آدمیوں کو اجازت دی، انہوں نے کھانا کھایا حتی�> سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو اجازت دو۔“ انہوں نے اجازت دی، ان سب نے کھایا سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو اجازت دو“ یہاں تک کہ سب لوگوں نے کھا لیا اور سیر ہو گئے۔ وہ ستر یا اسی لوگ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5316]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمزور آواز سنی ہے، جس سے میں نے بھوک محسوس کی ہے، تو کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی لی اور اس کے کچھ حصے میں روٹیاں لپیٹ دیں، پھر اسے میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور اوڑھنی کا باقی حصہ مجھ پر ڈال دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیج دیا، میں اس کو لے کر چلا گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں بیٹھے پایا اور لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے، میں جا کر ان کے پاس ٹھہر گیا، (کہ اب کیسے پیش کروں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کھانے کے لیے؟“ میں نے کہا: جی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چل پڑا، حتیٰ کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا اور انہیں صورت حال سے آگاہ کیا، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ساتھیوں سمیت آ رہے ہیں اور ہمارے پاس ان کو کھلانے کا انتظام نہیں ہے، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ چل پڑے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ آگے بڑھے، یہاں تک کہ دونوں گھر میں داخل ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! جو کچھ تیرے پاس ہے لاؤ۔“ تو انہوں نے وہ روٹیاں پیش کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا حکم دیا، ایسا ہی کیا گیا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان ٹکڑوں پر کُپّہ (چمڑے کا گول برتن) نچوڑا اور ان کو سالن والا بنا دیا، پھر ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دعا پڑھی جو اللہ کو منظور تھی، پھر فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ انہوں نے انہیں اجازت دی، انہوں نے کھایا، حتیٰ کہ سیر ہو کر نکل گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس کو اجازت دو۔“ حتیٰ کہ تمام لوگوں نے کھایا اور سیر ہو گئے، لوگوں کی تعداد ستر (70) یا اَسی (80) تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5316]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2040
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة