🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
439. باب فضل الصلاة بمسجدي مكة والمدينة
باب: مسجد مکہ اور مدینہ (مسجد نبوی) میں نماز کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 881
881 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلاَةٌ فِي مَسْجِدِي هذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں نماز، مسجد حرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 881]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 20 كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة: 1 باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
440. باب لا تشد الرحال إِلا إِلى ثلاثة مساجد
باب: سفر صرف تین مسجدوں کی طرف کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 882
882 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسْجِدِ الأَقْصى
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں (یعنی سفر نہ کیا جائے): ایک مسجدِ حرام، دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد اور تیسری مسجدِ اقصیٰ یعنی بیت المقدس۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 882]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 20 كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة: 1 باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة»
وضاحت: اب جو عوام اجمیر اور پاک پتن وغیرہ وغیرہ مزارات کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں، یہ ارشاد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے کی وجہ سے عاصی،نافرمان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی ٹھرتے ہیں۔ ہاں قبور مسلمین اپنے شہر یا قریہ میں ہوںوہ اپنوں کی ہو یا بیگانوں کی،وہاں مسنون طریقہ پر زیارت کرنا مشروع ہے کہ قبرستان والوں کے لیے دعائے مغفرت کریں اور اپنی موت کو یاد کرکے دنیا سے بے رغبتی اختیار کریں اور سنت طریقہ صرف یہی ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
441. باب فضل مسجد قباء وفضل الصلاة فيه وزيارته
باب: مسجد قبا کی فضیلت اور وہاں نماز پڑھنے اور اس کی زیارت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 883
883 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء کبھی پیدل اور کبھی سواری پر آتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 883]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 20 كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة: 4 باب إتيان مسجد قباء ماشيا وراكبا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں