اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
422. باب ما يقول إِذا قفل من سفر الحج وغيره
باب: سفر حج وغیرہ سے واپس آکر کیا دعا پڑھے
حدیث نمبر: 851
851 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الأَرْضِ ثَلاَثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس ہوتے تو زمین سے ہر بلند چیز پر چڑھتے وقت تین تکبیریں کہا کرتے تھے، پھر دعا کرتے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، لوٹتے ہیں ہم توبہ کرتے ہوئے، اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور حمد بیان کرتے ہوئے، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا تمام لشکر کو شکست دی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 851]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 52 باب الدعاء إذا أراد سفرًا أو رجع»
وضاحت: بلندی پر چڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بلندی و بڑائی کو یاد رکھ کر نعرہ تکبیر بلند کرنا شان ایمانی ہے۔ ایسے عقیدہ و عمل والوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی بلندی دیتا ہے۔ لشکر کو شکست دینے کا اشارہ جنگ احزاب پر ہے جہاں کفار بڑی تعداد میں جمع ہوئے تھے مگر آخر میں خائب و خاسر ہوئے۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
423. باب التعريس بذى الحليفة والصلاة بها إِذا صدر من الحج أو العمرة
باب: ذوالحلیفہ میں اترنے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 852
852 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، يَفْعَلُ ذلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ذوالحلیفہ کے پتھریلے میدان میں اپنی سواری روکی اور پھر وہیں آپ نے نماز پڑھی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 852]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 14 باب حدثنا عبد الله بن يوسف»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 853
853 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رُئِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي، قِيلَ لَهُ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَة (قَالَ مُوسى بْنُ عُقْبَةَ، أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ) : وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ يَتَوَخَّى بِالْمُنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللهِ يُنِيخُ، يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي، بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ وَسَطٌ مِنْ ذلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معرس کے قریب ذوالحلیفہ کی بطن وادی (وادی عقیق) دکھایا گیا (جس میں) آپ سے کہا گیا تھا کہ ”آپ اس وقت بطحا مبارکہ میں ہیں“ موسیٰ بن عقبہ (سند میں سے ایک راوی) نے کہا کہ سالم رحمہ اللہ نے ہمیں بھی وہاں ٹھہرایا، وہ اس مقام کو ڈھونڈ رہے تھے جہاں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما اونٹ بٹھایا کرتے تھے، یعنی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اترا کرتے تھے، وہ مقام اس مسجد کے نیچے کی طرف ہے جو نالے کے نشیب میں ہے، اترنے والوں اور راستے کے بیچوں بیچ ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 16 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم العقيق واد مبارك»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
424. باب لا يحج البيت مشرك ولا يطوف بالبيت عريان وبيان يوم الحج الأكبر
باب: مشرک بیت اللہ کا حج نہ کرے اور برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کیا جائے اور یوم حج اکبر کا بیان
حدیث نمبر: 854
854 صحيح حديث أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضي الله عنه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَن أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رضي الله عنه، بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ، فِي رَهْطٍ، يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ: أَلاَ لاَ يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقع پر جس کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنایا تھا، انہیں دسویں تاریخ کو ایک مجمع کے سامنے یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ ”اس سال کے بعد کوئی مشرک حج بیت اللہ نہیں کر سکتا اور نہ کوئی شخص ننگا ہو کر طواف کر سکتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 854]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في:25 كتاب الحج: 67 باب لا يطوف بالبيت عريان ولا يحج مشرك»
وضاحت: عہد جاہلیت میں عام اہل عرب یہ کہہ کر کہ ہم نے ان کپڑوں میں گناہ کئے ہیں، ان کو اتار دیتے پھر یا تو قریش سے کپڑے مانگ کر طواف کرتے یا پھر ننگے ہی طواف کرتے۔ اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کرایا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
425. باب في فضل الحج والعمرة ويوم عرفة
باب: حج، عمرہ اور عرفہ کے دن کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 855
855 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 855]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 1 باب وجوب العمرة وفضلها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 856
856 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَجَّ هذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا اور اس میں نہ «رَفَث» (یعنی شہوت کی بات منہ سے نکالی) اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہوگا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا (یعنی تمام گناہوں سے پاک ہو کر لوٹے گا)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 856]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 27 كتاب المحصر: 9 باب قول الله تعالى (فلا رفث»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
426. باب النزول بمكة للحاج وتوريث دورها
باب: مکہ میں حاجیوں کے اترنے اور مکہ کے گھروں کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 857
857 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيْنَ تَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ: وَهَلْ تَرَكَ عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلاَ عَلِيٌّ شَيْئًا َلانَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقیل نے ہمارے لیے محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے؟“ (سب فروخت کر کے برابر کر دیے) عقیل اور طالب، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے، سیدنا جعفر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کو وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے تھے اور عقیل (ابتدا میں) اور طالب اسلام نہیں لائے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 857]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 44 باب توريث دور مكة وبيعها وشرائها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
427. باب جواز الإقامة بمكة للمهاجر منها بعد فراغ الحج والعمرة ثلاثة أيام بلا زيادة
باب: حج و عمرہ سے فراغت کے بعد مہاجر کے مکہ میں صرف تین دن رہنے کا ذکر
حدیث نمبر: 858
858 صحيح حديث العَلاَءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلاَثٌ لِلْمُهَاجِرِ بَعْدَ الصَّدَرِ
سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر کو (حج میں) طوافِ وداع کے بعد تین دن ٹھہرنے کی اجازت ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 858]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 47 باب إقامة المهاجر بمكة بعد قضاء نسكه»
وضاحت: مہاجر سے مراد وہ مسلمان ہیں جو مکہ سے مدینہ چلے گئے تھے۔ حج پر آنے کے لیے فتح مکہ سے قبل ان کے لیے یہ وقتی حکم تھا کہ وہ حج کے بعد مکہ مکرمہ میں تین دن قیام کرکے مدینہ واپس ہو جائیں۔ فتح مکہ کے بعد یہ مسئلہ ختم ہو گیا۔(راز) راوي حدیث: سیّدنا العلاء بن عبداللہ رضی اللہ عنہ حضرمی حصر موت کے رہنے والے تھے۔ مہاجرین میں سے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بحرین کا گورنر بنایا تھا پھر ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی وہاں کے گورنر رہے۔ ۲۱ ہجری میں وفات پائی۔ ان سے روایت کرنے والے سائب بن یزید ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
428. باب تحريم مكة وصيدها وخلاها وشجرها ولقطتها إِلا لمنشد على الدوام
باب: مکہ کی حرمت اور مکہ میں شکار وغیرہ کی حرمت
حدیث نمبر: 859
859 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ افْتَتَحَ مَكَّةَ: لاَ هِجْرَةَ [ص:78] وَلكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، فَإِنَّ هذَا بَلَدٌ حَرَّمَ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّموَاتِ وَالأَرْضَ، وَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ َلأحَدٍ قَبْلِى، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلاَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لاَ يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلاَ يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلاَّ مَنْ عَرَّفَهَا، وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ قَالَ: قَالَ: إِلاَّ الإِذْخِرَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے دن فرمایا: ”اب ہجرت فرض نہیں رہی لیکن (اچھی) نیت اور جہاد اب بھی باقی ہے، اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو تیار ہو جانا۔ اس شہر (مکہ) کو اللہ تعالیٰ نے اسی دن حرمت عطا کی تھی جس دن اس نے آسمان اور زمین پیدا کیے، اس لیے یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حرمت کی وجہ سے محترم ہے، یہاں کسی کے لیے بھی مجھ سے پہلے لڑائی جائز نہیں تھی اور مجھے بھی صرف ایک دن گھڑی بھر کے لیے (فتح مکہ کے دن اجازت ملی تھی)، اب ہمیشہ یہ شہر اللہ کی قائم کی ہوئی حرمت کی وجہ سے قیامت تک کے لیے حرمت والا ہے، پس نہ اس کا کانٹا کاٹا جائے، نہ اس کے شکار ہانکے جائیں اور اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو کوئی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر (ایک گھاس) کی اجازت تو دیجیے کیونکہ یہ یہاں کے کاریگروں اور گھروں کے لیے ضروری ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کی اجازت ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 859]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 28 كتاب جزاء الصيد: 10 باب لا يحل القتال بمكة»
وضاحت: فتح مکہ کے بعد چونکہ مکہ دارالسلام بن چکا ہے اس لیے اب یہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کا وجوب ختم ہو گیا ہے لیکن کافروں سے جہاد اور بھلائی کے کاموں میں اچھی نیت باقی ہے جن سے ہم وہ فضائل حاصل کر سکتے ہیں جو ہجرت سے حاصل ہوتے ہیں۔امام ماوردی، امام نووی کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حرم کے خصائص میں سے ہے کہ حرم میں رہنے والوں سے جنگ اور قتال منع ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ اہل عدل پر بغاوت کرتے ہیں تو بھی فقہاء نے ان سے لڑنے کی حرمت کا فتوٰی دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں مجبور کیا جائے گا کہ وہ اطاعت کی طرف لوٹ آئیں اور اہل عدل کے قوانین کی طرف رجوع کریں۔ جمہور علماء نے کہا ہے کہ جب بغاوت سے قتال کے بغیر انہیں لوٹانا ممکن نہ ہو تو پھر ان سے لڑنا جائز ہے کیونکہ باغیوں سے لڑائی کرنا حقوق اللہ میں سے ہے اور حقوق اللہ کا ضیاع جائز نہیں ہے۔ امام نووی نے بھی اس آخری بات کو ترجیح دی ہے۔(مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 860
860 صحيح حديث أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ؛ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلاَ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا إِنَّ اللهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لأبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ عَمْرٌو قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ مِنْكَ يَا شُرَيْحٍ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ
سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعید (والی مدینہ) سے جب وہ مکہ میں (ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے) فوجیں بھیج رہے تھے کہا کہ اے امیر! مجھے آپ اجازت دیں تو میں وہ حدیث آپ سے بیان کر دوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اس (حدیث) کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث فرما رہے تھے تو میری آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، آدمیوں نے حرام نہیں کیا۔ تو (سن لو) کہ کسی شخص کے لیے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں ہے کہ مکہ میں خون ریزی کرے، یا اس کا کوئی پیڑ کاٹے، پھر اگر کوئی اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم کے لڑنے) کی وجہ سے اس کا جواز نکالے تو اس سے کہہ دو: اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجازت دی تھی، تمہارے لیے نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ لمحوں کے لیے اجازت ملی تھی۔ آج اس کی حرمت لوٹ آئی، جیسی کل تھی۔ اور حاضر غائب کو (یہ بات) پہنچا دے۔“ (یہ حدیث سننے کے بعد راویِ حدیث) سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ (آپ کی یہ بات سن کر) عمرو نے کیا جواب دیا؟ فرمایا: (عمرو نے کہا) اے ابو شریح! حدیث کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، مگر حرم (مکہ) کسی خطا کار کو یا خون کر کے اور فتنہ پھیلا کر بھاگ آنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 860]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 37 باب ليبلغ العلم الشاهد الغائب»
وضاحت: امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ امام شافعی اور امام مالک سے منقول ہے کہ قتل اور دیگر حدود کی اقامت میں حرم کا حکم غیر حرم کی مثل ہے اس میں حدیں قائم کی جائیں گی اور قصاص بھی پورا کیا جائے گا خواہ ظلم حرم میں کیا ہو یا باہر کیا ہو بعد میں حرم میں پناہ لی ہو کیونکہ عاصی اور نافرمان خود اپنے نفس کی حرمت کو پامال کرکے اس رعایت کو باطل قرار دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے رکھی ہے۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»