🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
432. باب صيانة المدينة من دخول الطاعون والدجال إِليها
باب: طاعون اور دجال سے مدینہ طیبہ کا محفوظ رہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 871
871 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلاَئِكَةٌ لاَ يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلاَ الدَّجَّالُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کے راستوں پر فرشتے ہیں، اس میں نہ طاعون آ سکتا ہے اور نہ دجال۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 871]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 9 باب لا يدخل الدجال المدينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
433. باب المدينة تنفي شرارها
باب: مدینہ کا بری چیزوں کو اپنے سے دور کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 872
872 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک ایسے شہر میں ہجرت کا حکم ہوا ہے جو دوسرے شہروں کو کھا لے گا (یعنی ان سب کا سردار بنے گا) منافقین اسے یثرب کہتے ہیں، لیکن اس کا نام مدینہ ہے، وہ (برے) لوگوں کو اس طرح باہر کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 872]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 2 باب فضل المدينة وأنها تنفي الناس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 873
873 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى الأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبى؛ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبى؛ فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر اسے مدینہ میں بخار آ گیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا، پھر وہ دوبارہ آیا اور کہا: ”میری بیعت فسخ کر دیجیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انکار کیا، پھر وہ آیا اور بیعت فسخ کرنے کا مطالبہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ پھر انکار کیا، اس کے بعد وہ خود ہی (مدینہ سے) چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”مدینہ بھٹی کی طرح ہے، اپنی میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور خالص مال رکھ لیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 873]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 47 باب من بايع ثم استقال البيعة»
وضاحت: حدیث کا معنی یہ ہے کہ کہ مدینہ سے ہر وہ شخص نکل جائے گا جس کا ایمان خالص نہیں۔ اس میں صرف خالص ایمان والے رہ جائیں گے۔(مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 874
874 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مدینہ طیبہ ہے، یہ خباثت کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 874]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 4 سورة النساء: 15 باب فما لكم في المنافقين فئتين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
434. باب من أراد أهل المدينة بسوء أذابه الله
باب: اہل مدینہ سے جو برائی کا ارادہ کرے اللہ اس کو سزا دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 875
875 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلاَّ انْمَاعَ كَمَا يَنْمَاعُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ”اہلِ مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی فریب کرے گا وہ اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جایا کرتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 875]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 7 باب إثم من كاد أهل المدينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
435. باب رالترغيب في المدينة عند فتح الأمصار
باب: لوگوں کو مدینہ کی ترغیب دینا جب شہر فتح ہو جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 876
876 صحيح حديث سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ رضي الله عنه، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: تُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَتَفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ؛ وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور ان کو جو ان کی بات مان جائیں گے سوار کر کے مدینہ سے (واپس یمن کو) لے جائیں گے، کاش انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا، اور شام فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور تمام لوگوں کو جو ان کی بات مان جائیں گے اپنے ساتھ (شام واپس) لے جائیں گے، کاش انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا، اور عراق فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور جو ان کی بات مانیں گے اپنے ساتھ (عراق واپس) لے جائیں گے، کاش انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 876]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 5 باب من رغب عن المدينة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا سفیان بن ابی زہیر ازدی رضی اللہ عنہ کا تعلق ازد شنوۃ سے تھا۔باپ کا نام الفرد تھا۔ صحابی ہیں۔ مدینہ والوں میں شمار ہوئے ہیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
436. باب في المدينة حين يتركها أهلها
باب: مدینہ میں رہنے کی فضیلت جب لوگ مدینہ سے کوچ کر رہے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 877
877 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ لاَ يَغْشَاهَا إِلاَّ الْعَوَافِ يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ وَآخِر مَنْ يَحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ، يَنْعَقَانِ بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ مدینہ کو بہتر حالت میں چھوڑ جاؤ گے، پھر وہ ایسا اجاڑ ہو جائے گا کہ وہاں وحشی جانور، درندے اور پرندے بسنے لگیں گے، اور آخر میں مزینہ کے دو چرواہے مدینہ آئیں گے تاکہ اپنی بکریوں کو ہانک لے جائیں، لیکن وہاں انہیں صرف وحشی جانور نظر آئیں گے، یہاں تک کہ جب وہ ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 877]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 5 باب من رغب عن المدينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
437. باب ما بين القبر والمنبر روضة من رياض الجنة
باب: قبر نبوی اور منبر کے درمیان جگہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 878
878 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِى رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ
سیدنا عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے اس منبر کے درمیان کا حصہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 878]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 20 كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة: 5 باب فضل ما بين القبر والمنبر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 879
879 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی زمین جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر ہو گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 879]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 20 كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة: 5 باب فضل ما بين القبر والمنبر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
438. باب أحد جبل يحبنا ونحبه
باب: احد پہاڑ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 880
880 صحيح حديث أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: هذِهِ طَابَةُ وَهذَا أُحُدٌ، جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب پہنچے تو (مدینہ کی طرف اشارہ کر کے) فرمایا: ”یہ طابہ ہے اور یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 880]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى: 81 باب حدثنا يحيى بن بكير»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں