اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
372. باب جواز الحجامة للمحرم
باب: محرم کے لیے پچھنے لگانے کا جواز
حدیث نمبر: 751
751 صحيح حديث ابْنِ بُحَيْنَةَ رضي الله عنه، قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، بِلَحْيِ جَمَلٍ، فِي وَسَطِ رَأْسِهِ
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام لحی جمل میں جب کہ آپ محرم تھے اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 751]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 28 كتاب جزاء الصيد: 11 باب الحجامة للمحرم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
373. باب جواز غسل المحرم بدنه ورأسه
باب: محرم کے لیے بدن اور سر دھونا جائز ہے
حدیث نمبر: 752
752 صحيح حديث أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ حُنَيْنٍ، قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْعَبَّاسِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ؛ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ؛ وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لاَ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ؛ فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ، وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هذَا فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ، فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ: اصْبُبْ؛ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ؛ وَقَالَ: هكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
عبداللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا مقام ابواء میں (ایک مسئلہ پر) اختلاف ہوا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو یہ کہتے تھے کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے لیکن سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ محرم سر نہ دھوئے، پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں (مسئلہ پوچھنے کے لیے) بھیجا، میں جب ان کی خدمت میں پہنچا تو وہ کنویں کی دو لکڑیوں کے بیچ میں غسل کر رہے تھے، ایک کپڑے سے انہوں نے پردہ کر رکھا تھا، میں نے پہنچ کر سلام کیا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ کون ہو؟ میں نے عرض کی کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں، آپ کی خدمت میں مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے، دریافت کرنے کے لیے کہ احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک کس طرح دھوتے تھے؟ یہ سن کر انہوں نے کپڑے پر (جس سے پردہ تھا) ہاتھ رکھ کر اسے نیچے کیا، اب آپ کا سر دکھائی دے رہا تھا، جو شخص ان کے بدن پر پانی ڈال رہا تھا اس سے انہوں نے پانی ڈالنے کے لیے کہا، اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے ہلایا اور دونوں ہاتھ آگے لے گئے اور پھر پیچھے لائے، فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (احرام کی حالت) میں اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 752]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 28 كتاب جزاء الصيد: 14 باب الاغتسال للمحرم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
374. باب ما يفعل المحرم إِذا مات
باب: محرم مر جائے تو کیا کریں
حدیث نمبر: 753
753 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَوَقَصَتْهُ، أَوْ قَالَ، فَأَوْقَصَتْهُ؛ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص میدانِ عرفہ میں (احرام باندھے ہوئے) کھڑا ہوا تھا کہ اپنی سواری سے گر پڑا اور سواری نے انہیں کچل دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا کہ ”پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں میں انہیں کفن دو“ اور یہ بھی ہدایت فرمائی کہ ”انہیں خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ان کا سر چھپاؤ کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتا ہوا اٹھے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 20 باب الكفن في ثوبين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
375. باب جواز اشتراط المحرم التحلل بعذر المرض ونحوه
باب: محرم کی شروط (محرم مرض یا کسی اور عذر کی وجہ سے احرام کھولنے کی شرط لگا سکتا ہے)
حدیث نمبر: 754
754 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ قَالَتْ: وَاللهِ لاَ أَجِدُنِي إِلاَّ وَجِعَةً فَقَالَ لَهَا: حُجِّى وَاشْتَرِطِي، قُولِي: اللهُمَّ مَحِلِّى حَيْثُ حَبَسْتَنِي وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس گئے (یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے) اور ان سے فرمایا: ”شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”پھر بھی حج کا احرام باندھ لو، البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا: «اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے (مرض کی وجہ سے) روک لے گا“۔“ اور (ضباعہ) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 754]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 15 باب الأكفاء في الدين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
376. باب بيان وجوه الإحرام وأنه يجوز إِفراد الحج والتمتع والقران وجواز إِدخال الحج على العمرة، ومتى يحل القارن من نسكه
باب: احرام کی قسموں کا بیان حج مفرد۔ تمتع اور قران اور عمرے کے ساتھ حج کو شامل کیا جا سکتا ہے اور قارن کے حلال ہونے کا وقت
حدیث نمبر: 755
755 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:38] فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لاَ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَميعًا فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْقُضِى رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِى وَأَهِلِّى بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: هذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوافًا وَاحِدًا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَأَمَّا الَّذيِنَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوافًا وَاحِدًا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، پہلے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ قربانی ہو تو اسے عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لینا چاہیے، ایسا شخص درمیان میں حلال نہیں ہو سکتا بلکہ حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ حلال ہو گا۔“ میں بھی مکہ آئی تھی، اس وقت میں حائضہ ہو گئی، اس لیے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی، میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر کھول ڈال، کنگھا کر اور عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھ لے۔“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم بھیجا، میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا (اور عمرہ ادا کیا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلے میں ہے (جسے تم نے چھوڑ دیا تھا)۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے (حجۃ الوداع میں) صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ بیت اللہ کا طواف، صفا اور مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گئے، پھر منی سے واپس ہونے پر دوسرا طواف (یعنی طواف الزیارۃ) کیا، لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا یعنی طواف الزیارۃ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج 31 باب كيف تهل الحائض والنفساء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 756
756 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيُحْلِلْ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ قالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلاَّ بِعُمْرَةٍ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ، وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ ذلِكَ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّى؛ فَبَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ، مَكَانَ عُمْرَتِي، مِنَ التَّنْعِيمِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سفر میں نکلے، ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا، پھر ہم مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی (قربانی کا جانور) ساتھ نہ لایا ہو تو وہ حلال ہو جائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی بھی ساتھ لایا ہو تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہ ہوگا اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو تو اسے حج پورا کرنا چاہیے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہوگئی اور عرفہ کا دن آ گیا، میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا، مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ: ”میں اپنا سر کھول لوں، کنگھا کر لوں اور حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ چھوڑ دوں۔“ میں نے ایسا ہی کیا اور اپنا حج پورا کر لیا، پھر میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور مجھ سے فرمایا کہ: ”میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کے عوض تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 18 باب كيف تهل الحائض بالحج والعمرة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 757
757 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا لاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، قَالَ: مَا لَكِ، أَنُفِسْتِ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: إِنَّ هذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِى مَا يَقْضِى الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی اور اس رنج میں رونے لگی۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا؟ کیا حائضہ ہوگئی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے تم بھی حج کے افعال پورے کر لو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 757]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 6 كتاب الحيض: 1 باب كيف كان بدء الحيض»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 758
758 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ، فَنَزَلْنَا سَرِفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ َلاصْحَابِهِ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلاَ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ذَوِي قُوَّةٍ الْهَدْىُ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ عُمْرَةً، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ َلأصْحَابِكَ مَا قُلْتَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ، قَالَ: وَمَا شَأْنُكِ قُلْتُ: لاَ أُصَلِّي قَالَ: فَلاَ يَضُرَّكِ، أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كُتِبَ عَلَيْكِ مَا كُتِبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ، عَسى اللهُ أَنْ يَرْزُقَكِهَا قَالَتْ: فَكُنْتُ، حَتَّى نَفَرْنَا مِنْ مِنًى، فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمنِ، فَقَالَ: اخْرُجْ بِأخْتِكَ الْحَرَمَ، فَلْتَهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِكمَا أَنْتَظِرْكُمَا ههُنَا فَأَتَيْنَا فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: فَرَغْتُمَا قُلْتُ: نَعَمْ فَنَادَى بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ وَمَنْ طَافَ بِاللَّيْلِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ مُوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حج کے مہینوں اور آداب میں ہم حج کا احرام باندھ کر مدینہ سے چلے اور مقام سرف میں پڑاؤ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”جس کے ساتھ قربانی نہ ہو اور وہ چاہے کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ سے بدل دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعض مقدور (استطاعت) والوں کے ساتھ قربانی تھی اس لیے ان کا (احرام صرف) عمرہ کا نہیں رہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”رو کیوں رہی ہو؟“ میں نے کہا: آپ نے اپنے اصحاب سے جو کچھ فرمایا وہ میں سن رہی تھی اب تو میرا عمرہ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہوئی؟“ میں نے کہا کہ نماز نہیں پڑھ سکتی (حیض کی وجہ)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، تو بھی آدم کی بیٹیوں میں سے ایک ہے اور جو ان سب کے مقدر میں لکھا ہے وہی تمہارا بھی مقدر ہے، اب حج کا احرام باندھ لے شاید اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ بھی نصیب کرے۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے حج کا احرام باندھ لیا پھر جب ہم (حج سے فارغ ہو کر اور) منیٰ سے نکل کر محصب میں اترے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کو بلایا اور ان سے کہا: ”اپنی بہن کو حدِ حرم سے باہر لے جا (تنعیم) تاکہ وہ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لیں، پھر طواف و سعی کرو، ہم تمہارا انتظار یہیں کریں گے۔“ ہم آدھی رات کو آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا فارغ ہو گئے؟“ میں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اصحاب میں کوچ کا اعلان کر دیا، بیت اللہ کا طوافِ وداع کرنے والے لوگ صبح کی نماز سے پہلے ہی روانہ ہو گئے اور مدینہ کی طرف چل دیے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 758]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 9 باب المعتمر إذا طاف طواف العمرة ثم خرج هل يجزئه من طواف الوداع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 759
759 صحيح حديث عَائِشَةَ، خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ نُرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ، فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ: وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ: لاَ قَالَ: فَاذْهَبِى مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّى بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ: مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَهُمْ قَالَ: عَقْرَى حَلْقَى أَوَ مَا طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ، قُلْتُ: بَلَى قَالَ: لاَ بَأْسَ، انْفِرِى قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا، أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حج کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہماری نیت حج کے سوا اور کچھ نہ تھی، جب ہم مکہ پہنچے تو (اور لوگوں نے) بیت اللہ کا طواف کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ ”جو قربانی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے“ چنانچہ جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہو گئے (افعالِ عمرہ کے بعد)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات ہدی نہیں لے گئی تھیں، اس لیے انہوں نے بھی احرام کھول ڈالے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی تھی، اس لیے میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی (یعنی عمرہ چھوٹ گیا اور حج کرتی چلی گئی)۔ جب محصب کی رات آئی، میں نے کہا: یا رسول اللہ! اور لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا جب ہم مکہ آئے تھے تو تم طواف نہ کر سکی تھیں؟“ میں نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ (پھر عمرہ ادا کر)، ہم لوگ تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے۔“ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ معلوم ہوتا ہے میں بھی آپ لوگوں کو روکنے کا سبب بن جاؤں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرمنڈی! کیا تو نے یومِ نحر کا طواف نہیں کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میں تو طواف کر چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں، چل کوچ کر۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے جاتے ہوئے اوپر کے حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی، یا یہ کہا کہ میں اوپر چڑھ رہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس چڑھاؤ کے بعد اتر رہے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 759]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 34 باب التمتع والإقران والإفراد بالحج وفسخ الحج لمن لم يكن معه هدي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 760
760 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ وَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سواری پر لے جائیں اور تنعیم سے انہیں عمرہ کرا لائیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 6 باب عمرة التنعيم»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو محمد تھی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی تھے۔ جاہلیت میں ان کا نام عبدالکعبہ تھا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل دیا تھا۔ سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ صلح حدیبیہ کے سال اسلام قبول کیا۔ آٹھ احادیث کے راوی ہیں جن میں سے تین متفق علیہ ہیں۔ ۵۸ہجری کو وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»