🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
389. باب إِهلال النبي صلی اللہ علیہ وسلم وهديه
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ کہنا اور قربانی کے جانور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 781
781 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَدِمَ عَلِيٌّ رضي الله عنه، عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْلاَ أَنَّ مَعِي الْهدْيَ لأَحْلَلْتُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا کہ ”کس طرح کا احرام باندھا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ جس طرح کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہو، اس پر آپ نے فرمایا کہ ”اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہو جاتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 781]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 32 باب من أهل في زمن النبي صلی اللہ علیہ وسلم كإهلال النبي صلي الله عليه وسلم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
390. باب بيان عدد عمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم وزمانهن
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے اور ان کے اوقات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 782
782 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلاَّ الَّتِي اعْتَمَرَ مَعَ حَجَّتِهِ: عُمْرَتَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَمِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَمِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاروں عمرے ذی القعدہ میں کیے سوائے اس عمرے کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیبیہ کا عمرہ کیا اور دوسرا آئندہ سال اس کی قضا کا عمرہ کیا تھا اور (تیسرا) جعرانہ کا عمرہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی، پھر ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 782]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 3 باب كم اعتمر النبي صلي الله عليه وسلم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 783
783 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قِيلَ لَهُ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ قَالَ: تِسْعَ عَشَرَةَ قِيلَ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ: سَبْعَ عَشَرَة قِيلَ: فَأَيُّهُمْ كَانَتْ أَوَّلَ قَالَ: الْعُسَيْرَةُ أَوِ الْعُشَيْرُ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کیے؟ انہوں نے کہا کہ انیس۔ پوچھا گیا کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سترہ میں، پھر پوچھا گیا کہ آپ کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ کہا کہ عسیرہ یا عشیرہ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 783]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 1 باب غزوة العُشَيرة أو العُسَيرة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 784
784 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَمَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً، لَمْ يَحُجَّ بَعْدَهَا، حَجَّةَ الْوَدَاعِ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوے کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع کیا، اس کے بعد کوئی حج نہیں کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 784]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى: 77 باب حجة الوداع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 785
785 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَإِذَا نَاسٌ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ صَلاَةَ الضُّحى قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلاَتِهِمْ؛ فَقَالَ: بِدْعَةٌ ثُمَّ قَالَ لَهُ: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعَ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ فَكَرِهْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ: وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّاهْ، يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلاَ تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمنِ قَالَتْ: مَا يَقُولُ قَالَ: يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمُرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، قَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ، مَا اعْتَمَرَ عُمْرَةً إِلاَّ وَهُوَ شَاهِدُهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ
مجاہد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے، وہاں سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ مسجد نبوی میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ہم نے سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان لوگوں کی اس نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ بدعت ہے، پھر ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ انہوں نے کہا کہ چار، ایک ان میں سے رجب میں کیا تھا، لیکن ہم نے پسند نہیں کیا کہ ان کی اس بات کی تردید کریں۔ مجاہد نے بیان کیا کہ ہم نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے ان کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ نے پوچھا: اے میری ماں! اے ام المومنین! ابو عبدالرحمن کی بات آپ سن رہی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ عروہ نے کہا: وہ کہہ رہے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے جن میں سے ایک رجب میں کیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ ابو عبدالرحمن پر رحم کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی عمرہ ایسا نہیں کیا جس میں وہ (ابن عمر) خود موجود نہ رہے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں تو کبھی عمرہ ہی نہیں کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 785]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 3 باب كم اعتمر النبي صلي الله عليه وسلم»
وضاحت: چاشت کی نماز صحیح احادیث سے ثابت ہے اور پڑھنا مسنون ہے۔ رہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکا نفی کرنا تو وہ ان کے اپنے علم کی حد تک ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نماز چاشت ہمیشہ اور باقاعدہ پڑھنے کی نفی ہے۔ اور جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے اسے بدعت کہا ہے تو ان کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ جب مسجد میں اہتمام کے ساتھ نماز چاشت پڑھی جائے۔ جیسا کہ اس روایت میں لوگوں کا فعل ذکر ہے دوسرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہمیشگی اور مواظبت کا اعتقاد رکھنے کی صورت پر محمول ہوگا۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
391. باب فضل العمرة في رمضان
باب: رمضان المبارک میں عمرے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 786
786 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لاِمْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ: مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّينَ مَعَنَا قَالَتْ: كَانَ لَنَا نَاضِحٌ فَرَكِبَهُ أَبُو فُلاَنٍ وَابْنُهُ (لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا) وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ أَوْ نَحْوًا مِمَّا قَالَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری خاتون (ام سنان) سے پوچھا: ”تم ہمارے ساتھ حج کیوں نہیں کرتی ہو؟“ تو وہ کہنے لگی کہ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا جس پر ابو فلاں (یعنی اس کا خاوند) اور اس کا بیٹا سوار ہو کر (حج کے لیے) چل دیے اور ایک اونٹ انہوں نے چھوڑا ہے جس سے پانی لایا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے“ یا اسی جیسی کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 786]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 4 باب عمرة في رمضان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
392. باب استحباب دخول مكة من الثنية العليا، والخروج منها من الثنية السفلى ودخول بلده من طريق غير التي خرج منها
باب: مکہ میں دخول بلند راستے سے اور خروج نشیب سے مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 787
787 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ کے راستے سے گزرتے ہوئے معرس کے راستے سے مدینہ آتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ جاتے تو شجرہ کی مسجد میں نماز پڑھتے، لیکن واپسی میں ذوالحلیفہ کے نشیب میں نماز پڑھتے، آپ رات وہیں گزارتے تاآنکہ صبح ہو جاتی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 15 باب خروج النبي صلی اللہ علیہ وسلم على طريق الشجرة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 788
788 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بلند گھاٹی (یعنی جنت المعلی) کی طرف سے داخل ہوتے اور ثنی سفلی یعنی نیچے کی گھاٹی کی طرف سے باہر نکلتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 40 باب من أين يدخل مكة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 789
789 صحيح حديث عَائَشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا جَاءَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ أَعْلاَهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لائے تو اوپر کی بلند جانب سے شہر کے اندر داخل ہوئے اور (مکہ سے) جب واپس گئے تو نیچے کی طرف سے نکل گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 789]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 41 باب من أين يخرج من مكة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 790
790 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ وَخَرَجَ مِنْ كُدًا مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر شہر میں کداء کی طرف سے داخل ہوئے اور کدی کی طرف سے نکلے جو مکہ کی بلند جانب ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 790]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 41 باب من أين يخرج من مكة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں