اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
402. باب استحباب زيادة التغليس بصلاة الصبح يوم النحر بالمزدلفة والمبالغة فيه بعد تحقق طلوع الفجر
باب: مزدلفہ میں عید کی صبح کو بہت سویرے صبح کی نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 811
811 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى صَلاَةً بِغِيْرِ مِيقَاتِهَا، إِلاَّ صَلاَتَيْنِ: جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيقَاتِهَا
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو نمازوں کے سوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور کوئی نماز بغیر وقت نہیں پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھیں اور فجر کی نماز بھی اس دن (مزدلفہ میں) معمولی وقت سے پہلے ادا کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 99 باب متى يصلي الفجر بجمع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
403. باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مزدلفة إِلى منى في أواخر الليل قبل زحمة الناس، واستحباب المكث لغيرهم حتى يصلوا الصبح بمزدلفة
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو مزدلفہ سے سویرے روانہ کرنا مستحب
حدیث نمبر: 812
812 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: نَزَلْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتْ امْرَأَةً بَطِيئَةً، فَأَذِنَ لَهَا؛ فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَأَقَمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا نَحْنُ، ثُمَّ دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ؛ فَلأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے مزدلفہ میں قیام کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے ازدحام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت دے دی تھی، وہ بھاری بھرکم بدن کی خاتون تھیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، چنانچہ وہ ازدحام سے پہلے روانہ ہو گئیں لیکن ہم لوگ وہیں ٹھہرے رہے اور صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، اگر میں بھی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتی تو مجھ کو تمام خوشی کی چیزوں میں یہ بہت ہی پسند ہوتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 812]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 98 باب من قدَّم ضعفة أهله بليل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 813
813 صحيح حديث أَسْمَاءَ عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمَعٍ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقَامَتْ تُصَلِّي، فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ: لاَ؛ فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا؛ فَارْتَحَلْنَا، وَمَضَيْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا يَا هَنْتَاهْ مَا أُرَانَا إِلاَّ قَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ: يَا بُنَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے غلام عبداللہ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رات کی رات میں ہی مزدلفہ پہنچ گئیں اور کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں، کچھ دیر تک نماز پڑھنے کے بعد پوچھا: بیٹے! کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا کہ نہیں، اس لیے وہ دوبارہ نماز پڑھنے لگیں، کچھ دیر بعد پھر پوچھا: کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا کہ اب آگے چلو (منی کو)، چنانچہ ہم ان کے ساتھ آگے چلے، وہ (منی میں) رمی جمرہ کرنے کے بعد پھر واپس آ گئیں اور صبح کی نماز اپنے ڈیرے پر پڑھی، میں نے کہا: جناب! یہ کیا بات ہوئی کہ ہم نے اندھیرے ہی میں نماز صبح پڑھ لی؟ انہوں نے کہا: بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 813]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 98 باب من قدم ضعفة أهله بليل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 814
814 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور لوگوں کو مزدلفہ کی رات ہی میں منی بھیج دیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 814]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 98 باب من قدم ضعفة أهله بليل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 815
815 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ، فَيَذْكُرُونَ اللهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلاَةِ الْفَجْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوُا الْجَمْرَةَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: أَرْخَصَ فِي أُولئِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر کے کمزوروں کو پہلے ہی بھیج دیا کرتے تھے اور وہ رات ہی میں مزدلفہ میں مشعرِ حرام کے پاس آ کر ٹھہرتے اور اپنی طاقت کے مطابق اللہ کا ذکر کرتے تھے، پھر امام کے ٹھہرنے اور لوٹنے سے پہلے ہی (منی) آ جاتے تھے، بعض تو منی فجر کی نماز کے وقت پہنچتے اور بعض اس کے بعد، جب منی پہنچتے تو کنکریاں مارتے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں کے لیے یہ اجازت دی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 815]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 98 باب من قدم ضعفة أهله بليل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
404. باب رمي جمرة العقبة من بطن الوادي وتكون مكة عن يساره ويكبر مع كل حصاة
باب: جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 816
816 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ: وَالَّذِي لاَ إِلهَ غَيْرُهُ، هذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے نشیب «بَطْنِ الْوَادِي» میں کھڑے ہو کر کنکری ماری، تو میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کچھ لوگ تو وادی کے بالائی علاقے سے کنکری مارتے ہیں، انہوں نے یہ جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، یہی (بطن وادی) ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے (رمی کرتے وقت) جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 816]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 135 باب رمى الجمار من بطن الوادي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 817
817 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمنِ ابْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، حَتَّى حَاذَى بِالشَّجَرَةِ اعْتَرَضَهَا، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ: مِنْ ههُنَا، وَالَّذِي لاَ إِلهَ غَيْرُهُ، قَامَ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سلیمان اعمش رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے حجاج سے سنا، وہ منبر پر سورتوں کا یوں نام لے رہا تھا: وہ سورہ جس میں بقرہ (گائے) کا ذکر آیا ہے، وہ سورہ جس میں آل عمران کا ذکر آیا ہے، وہ سورہ جس میں نساء (عورتوں) کا ذکر آیا ہے۔ اعمش نے کہا: میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے عبدالرحمان بن یزید نے بیان کیا کہ جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو وہ ان کے ساتھ تھے، اس وقت وہ وادی کے نشیب میں اتر گئے اور جب درخت کے (جو اس وقت وہاں پر تھا) برابر نیچے اور اس کے سامنے ہو کر سات کنکریوں سے رمی کی، ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے جاتے تھے، پھر فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہیں وہ ذات بھی کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 138 باب يكبر مع كل حصاة»
وضاحت: تکبیر کی کیفیت جسے ماوردی نے امام شافعی سے نقل کیا ہے اس طرح کہے اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ و اللہ اکبر وللہ الحمد۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
405. باب تفضيل الحلق على التقصير وجواز التقصير
باب: سر مونڈنا افضل ہے، کترانا جائز ہے
حدیث نمبر: 818
818 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: حَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈوایا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 127 باب الحلق والتقصير عند الإحلال»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 819
819 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ اللهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقينَ قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ، يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: اللهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ، يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَالْمُقَصِّرِينَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما!“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اور کتروانے والوں پر بھی یا رسول اللہ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا کی: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما!“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پھر عرض کی: اور کتروانے والوں پر یا رسول اللہ؟ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کتروانے والوں پر بھی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 127 باب الحلق والتقصير عند الإحلال»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 820
820 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا: وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا: وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ: وَلِلْمُقَصِّرِينَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما!“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اور کتروانے والوں کے لیے بھی (یہی دعا فرمائیے)، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت کر۔“ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اور کتروانے والوں کی بھی! تیسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَلِلْمُقَصِّرِينَ» ”اور کتروانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 820]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 127 باب الحلق والتقصير عند الإحلال»
الحكم على الحديث:
«صحیح»