🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
397. باب جواز الطواف على بعير وغيره، واستلام الحجر بمحجن ونحوه للراكب
باب: سواری پر طواف کرنا جائز ہے اور حجر اسود کو چھڑی سے چھوا جا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 801
801 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي أَشْتَكِي؛ قَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ فَطُفْتُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حجۃ الوداع میں) اپنی بیماری کا شکوہ کیا (میں نے کہا کہ میں پیدل طواف نہیں کر سکتی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے پیچھے رہ اور سوار ہو کر طواف کر“، پس میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیت اللہ کے قریب نماز میں آیت ﴿وَالطُّورِ * وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ﴾ [سورة الطور: 1-2] کی تلاوت کر رہے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 78 باب إدخال البعير في المسجد للعلة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
398. باب بيان أن السعى بين الصفا والمروة ركن لا يصح الحج إِلا به
باب: صفا مروہ کی سعی حج کا رکن ہے، اس کے بغیر حج صحیح نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 802
802 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا) فَلاَ أُرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَلاَّ، لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هذِهِ الآيَة فِي الأَنْصَارِ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا)
عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، ابھی میں نوعمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں﴾ [سورة البقرة: 158] ، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا، یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہرگز نہیں! اگر مطلب یہ ہوتا جیسا کہ تم بتا رہے ہو پھر تو ان کی سعی نہ کرنے میں واقعی کوئی حرج نہیں تھا، لیکن یہ آیت تو انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو منات بت کے نام کا احرام باندھتے تھے جو قدید کے مقابل میں رکھا ہوا تھا، وہ صفا اور مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ﴿صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں﴾ [سورة البقرة: 158] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 10 باب يفعل في العمرة ما يفعل في الحج»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 803
803 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ تَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا) فَوَاللهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لاَ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَتْ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِى، إِنَّ هذِهِ الآيَةَ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ لاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَتَطَوَّفَ بِهِمَا وَلكِنَّهَا أُنْزِلَتْ فِي الأَنْصَارِ؛ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَهَا عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، فَكَانَ مَنْ أَهَلَّ يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ) الآيَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ، وَقَدْ سَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ َلأحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا (قَالَ الزُّهْرِيُّ، رَاوِي الْحَدِيثِ) ثُمَّ أَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمنِ، فَقَالَ: إِنَّ هذَا لَعِلْمٌ مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالاً مَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَذْكُرُونَ أَنَّ النَّاسَ، إِلاَّ مَنْ ذَكَرَتْ عَائِشَةُ، مَمَّنْ كَانَ يُهِلُّ بِمَنَاةَ، كَانُوا يَطُوفُونَ كُلُّهُمْ، بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا ذَكَرَ اللهُ تَعَالَى الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَذْكُر الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ فِي الْقُرْآنِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كُنَّا نَطُوفُ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَإِنَّ اللهَ أَنْزَلَ الطَّوَافَ بِالْبَيتِ فَلَمْ يَذْكُرِ الصَّفَا، فَهَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ أَنْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ) الآيَةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَأَسْمَعُ هذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا: فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْجَاهِلَيَّةِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَالَّذِينَ يَطُوفُونَ ثُمَّ تَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بِهِمَا فِي الإِسْلاَمِ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَرَ بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الصَّفَا حَتَّى ذَكَرَ ذلِكَ بَعْدَمَا ذَكَرَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ
عروہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] (ترجمہ: صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لیے جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ قسم اللہ کی! پھر تو کوئی حرج نہ ہونا چاہیے اگر کوئی صفا اور مروہ کی سعی نہ کرنا چاہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بھتیجے! تم نے یہ بری بات کہی، اللہ کا مطلب یہ ہوتا تو قرآن میں یوں اترتا کہ ان کے طواف نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں، بات یہ ہے کہ یہ آیت تو انصار کے لیے اتری تھی جو اسلام سے پہلے منات بت کے نام پر، جو مشلل میں رکھا ہوا تھا اور جس کی یہ پوجا کیا کرتے تھے، احرام باندھتے تھے۔ یہ لوگ جب (زمانۂ جاہلیت میں) احرام باندھتے تو صفا و مروہ کی سعی کو اچھا نہیں خیال کرتے تھے۔ اب جب اسلام لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! ہم صفا اور مروہ کی سعی اچھی نہیں سمجھتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو پہاڑوں کے درمیان سعی کی سنت جاری کی ہے، اس لیے کسی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اسے ترک کر دے۔ (زہری راویِ حدیث) نے کہا کہ پھر میں نے اس کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمن سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو یہ علمی بات اب تک نہیں سنی تھی، بلکہ میں نے بہت سے اصحابِ علم سے تو یہ سنا ہے کہ وہ یوں کہتے تھے کہ عرب کے لوگ (ان لوگوں کے سوا جن کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا جو منات کے لیے احرام باندھتے تھے) سب صفا و مروہ کا پھیرا کیا کرتے تھے۔ جب اللہ پاک نے قرآن شریف میں بیت اللہ کے طواف کا ذکر فرمایا اور صفا و مروہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ لوگ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو جاہلیت کے زمانے میں صفا اور مروہ کا پھیرا کیا کرتے تھے اور اب اللہ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر تو فرمایا لیکن صفا مروہ کا ذکر نہیں کیا، تو کیا صفا و مروہ کی سعی کرنے میں ہم پر کچھ گناہ ہو گا؟ تب اللہ نے یہ آیت اتاری: صفا و مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ ابوبکر نے کہا: میں سنتا ہوں کہ یہ آیت دونوں فرقوں کے باب میں اتری ہے، یعنی اس فرقے کے باب میں جو جاہلیت کے زمانے میں صفا و مروہ کا طواف برا جانتا تھا اور اس کے باب میں جو جاہلیت کے زمانے میں صفا و مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، پھر مسلمان ہونے کے بعد اس کا کرنا، اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا و مروہ کا نہیں کیا، برا سمجھے، یہاں تک کہ اللہ نے بیت اللہ کے طواف کے بعد ان کا بھی ذکر فرما دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 79 باب وجوب الصفا والمروة وجُعِلَ من شعائر الله»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 804
804 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ َلانَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَكُنْتُمْ تَكْرَهُونَ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ: نَعَمْ َلأَنَّهَا كَانَتْ مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلَيَّةِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا)
سیدنا عاصم رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کو برا سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، کیونکہ یہ عہدِ جاہلیت کا شعار تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 80 باب ما جاء في السعى بين الصفا والمروة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
399. باب استحباب إِدامة الحاج التلبية حتى يشرع في رمى جمرة العقبة يوم النحر
باب: حاجی جمرہ عقبہ کی رمی شروع کرنے تک لبیک پکارتا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 805
805 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَالْفَضْلُ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ، فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا فَقُلْتُ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الصَّلاَةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ قَالَ كُرَيْبٌ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب روایت کرتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، مزدلفہ کے قریب بائیں طرف جو گھاٹی پڑتی ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو آپ نے اونٹ کو بٹھایا، پھر پیشاب کیا اور تشریف لائے تو میں نے آپ پر وضو کا پانی ڈالا، آپ نے ہلکا سا وضو کیا، میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! اور نماز؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے (یعنی مزدلفہ میں پڑھی جائے گی)“ پھر آپ سوار ہو گئے، جب مزدلفہ میں آئے تو (مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر) پڑھی، پھر مزدلفہ کی صبح (یعنی دسویں تاریخ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے، کریب نے کہا کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذریعہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتے رہے تا آنکہ جمرہ عقبہ پر پہنچ گئے (اور وہاں آپ نے کنکریاں ماریں)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 93 باب النزول بين عرفة وجمع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
400. باب التلبية والتكبير في الذهاب من منى إِلى عرفات في يوم عرفة
باب: لبیک اور تکبیر کہنا جب منیٰ سے عرفات کو عرفہ کے دن جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 806
806 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا، وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عرَفَاتٍ، عَنِ التَّلْبِيَةِ، كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يُلَبِّى الْمُلَبِّى، لاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ؛ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ، فَلاَ يُنْكَرُ عَلَيْهِ
محمد بن ابی بکر ثقفی نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تلبیہ کے متعلق دریافت کیا کہ آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسے کس طرح کہتے تھے؟ اس وقت ہم منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ تلبیہ کہنے والے تلبیہ کہتے اور اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور تکبیر کہنے والے تکبیر، اس پر بھی کوئی اعتراض نہ کرتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 12 باب التكبير أيام منى وإذا غدا إلى عرفة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
401. باب الإفاضة من عرفات إِلى المزدلفة، واستحباب صلاتي المغرب والعشاء جمعا بالمزدلفة في هذه الليلة
باب: عرفات سے مزدلفہ لوٹنا اور اسی رات مغرب وعشاء جمع کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 807
807 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: الصَّلاَةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَة، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات سے واپس ہوئے، جب گھاٹی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا، تب میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کا وقت (آ گیا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے“ (یعنی مزدلفہ چل کر پڑھیں گے)، جب مزدلفہ میں پہنچے تو آپ نے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر جماعت کھڑی کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی جگہ بٹھلایا، پھر عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 6 باب إسباغ الوضوء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 808
808 صحيح حديث أُسَامَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا اور میں بھی وہیں موجود تھا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس ہونے کی چال کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ پاؤں اٹھا کر چلتے تھے ذرا تیز، لیکن جب جگہ پاتے (ہجوم نہ ہوتا) تو (زیادہ) تیز چلتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في:25 كتاب الحج: 92 باب السير إذا دفع من عرفة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
809 صحيح حديث أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں آن کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ملا کر پڑھا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 96 باب من جمع بينهما ولم يتطوع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 810
810 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر سفر میں جلد چلنا منظور ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 810]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 13 باب الجمع في السفر بين المغرب والعشاء»
وضاحت: سفر میں ظہرو عصر اور مغرب و عشاء کا جمع کرنا اہلحدیث،امام احمد، امام شافعی، ثوریٰ اور اسحاق سب کے نزدیک جائز ہے۔ خواہ جمع تقدیم کرے یعنی ظہر کے وقت عصر اور مغرب کے وقت عشاء پڑھ لے خواہ جمع تاخیر کرے یعنی عصر کے وقت ظہر اور عشاء کے وقت مغرب پڑھ لے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں