🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
638. باب بيان سنّ البلوغ
باب: آدمی کب بالغ ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1223
1223 صحيح حديث ابْنِ عَمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي، ثُمَّ عَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَأَجَازَنِي
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (جنگ پر جانے کے لیے) پیش ہوئے تو انھیں اجازت نہیں ملی، اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی۔ پھر غزوۂ خندق کے موقع پر پیش ہوئے تو اجازت مل گئی۔ اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 52 كتاب الشهادات: 18 باب بلوغ الصبيان وشهادتهم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
639. باب النهي أن يسافر بالمصحف إِلى أرض الكفار إِذا خيف وقوعه بأيديهم
باب: قرآن حکیم کافروں کے ملک میں لے جانا منع ہے جب یہ ڈر ہو کہ ان کے ہاتھ لگ جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1224
1224 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1224]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 129 باب السفر بالمصاحف إلى أرض العدو»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
640. باب المسابقة بين الخيل وتضميرها
باب: گھوڑ دوڑ کا بیان اور گھوڑوں کو مقابلہ کے لیے تیار کرن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1225
1225 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی جنہیں (جہاد کے لیے) تیار کیا گیا تھا، مقام «حَفْيَاء» سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد «ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ» تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے، ان کی دوڑ «ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ» سے «مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ» تک کرائی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس گھوڑ دوڑ میں شرکت کی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1225]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 41 باب هل يقال مسجد بني فلان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
641. باب الخيل في نواصيها الخير إِلى يوم القيامة
باب: گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے خیر و برکت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1226
1226 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت وابستہ رہے گی۔“ (کیونکہ اس سے جہاد میں کام لیا جاتا رہے گا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 43 باب الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1227
1227 صحيح حديث عُرْوَةَ الْبَارِقِيّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ
سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیر و برکت قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ بندھی رہے گی، یعنی آخرت میں ثواب اور دنیا میں مال غنیمت ملتا رہے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1227]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 44 باب الجهاد ماض مع البر والفاجر»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت عروہ بن الجعد البارقی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں کوفے میں پہلے قاضی یہی مقرر ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے تھے۔ کتب صحاح ستہ میں ان کی روایات موجود ہیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1228
1228 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں برکت بندھی ہوئی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 43 باب الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
642. باب فضل الجهاد والخروج في سبيل الله
باب: جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1229
1229 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: انْتَدَبَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، أَنْ أَرْجِعَهُ، بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، أَوْ أُدْخِلَه الْجَنَّةَ وَلَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ، وَلَوَدِدْت أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أُقْتلُ، ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلا، اللہ اس کا ضامن ہو گیا۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) میری ذات پر یقین اور میرے پیغمبروں کی تصدیق نے اس کو (اس سرفروشی کے لیے گھر سے) نکالا ہے۔ (میں اس بات کا ضامن ہوں) کہ یا تو اس کو واپس کر دوں ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ، یا (شہید ہونے کے بعد) جنت میں داخل کر دوں۔“ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اور اگر میں اپنی امت پر (اس کام کو) دشوار نہ سمجھتا تو لشکر کا ساتھ نہ چھوڑتا، اور میری خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1229]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 26 باب الجهاد من الإيمان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1230
1230 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَكَفَّلَ اللهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ، بأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے، جہاد ہی کی نیت سے نکلے، اللہ کے کلام (اس کے وعدے) کو سچ جان کر، تو اللہ اس کا ضامن ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید کر کے جنت میں لے جائے گا، یا اس کو ثواب اور غنیمت کا مال دلا کر اس کے گھر لوٹا لائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1230]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 8 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم أحلت لكم الغنائم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1231
1231 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللهِ يَكون يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذْ طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر زخم جو اللہ کی راہ میں مسلمان کو لگے، وہ قیامت کے دن اسی حالت میں ہو گا جس طرح وہ لگا تھا، اس میں سے خون بہتا ہو گا، جس کا رنگ (تو) خون کا سا ہو گا اور خوشبو مشک کی سی ہو گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1231]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 67 باب ما يقع من النجاسات في السمن والماء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
643. باب فضل الشهادة في سبيل الله تعالى
باب: اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1232
1232 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، إِلاَّ الشَّهِيدُ، يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے ساری دنیا مل جائے، سوائے شہید کے؛ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو (اللہ کے راستے میں) کیونکہ وہ شہادت کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1232]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 21 باب تمنى المجاهد أن يرجع إلى الدنيا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں