🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
650. باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو فِي سبيل الله
باب: جو شخص اللہ کا دین غالب کرنے کے لیے لڑے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1243
1243 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللهِ قَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی (لاحق بن ضمیرہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے غنیمت حاصل کرنے کے لیے، ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے ناموری کے لیے، ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے تاکہ اس کی بہادری کی دھاک بیٹھ جائے تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون لڑتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس ارادہ سے جنگ میں شریک ہوا کہ اللہ ہی کا کلمہ بلند رہے، صرف وہی اللہ کے راستے میں لڑتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1243]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 15 باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا»
وضاحت: مقصد یہ ہے کہ اصل چیز خلوص ہے۔ اگر یہ ہے تو سب کچھ ہے۔ یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ قیامت کے دن کتنے سخی، کتنے قاری اور کتنے مجاہد دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ یہ وہ ہوں گے جن کا مقصد صرف ریا اور نمود تھا۔ اس لیے ان کو سیدھا دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1244
1244 صحيح حديث أَبِي مُوسى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ (قَالَ، وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا) فَقَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں لڑائی کی کیا صورت ہے؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصے کی وجہ سے اور کوئی غیرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سر اٹھایا، اور سر اسی لیے اٹھایا کہ پوچھنے والا کھڑا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے کلمے کو سر بلند کرنے کے لیے لڑے، وہ اللہ کی راہ میں (لڑتا) ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 45 باب من سأل وهو قائم عالمًا جالسًا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
651. باب قوله صلی اللہ علیہ وسلم إِنما الأعمال بالنية وأنه يدخل فيه الغزو وغيره من الأعمال
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’ہر عمل کا ثواب نیت سے ہوتا ہے‘‘ میں جہاد اور دوسرے اعمال شامل ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1245
1245 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لاِمْرِى مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ؛ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو وہ واقعی اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کی نیت سے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے ارادے سے ہو، اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1245]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 23 باب النية في الأيمان»
وضاحت: امام نووی صحیح مسلم پر اپنی شرح میں لکھتے ہیں اس حدیث کی عظمت، بلند مقام، اس کے کثیر فوائد اور اس کی صحت پر تمام مسلمانوں کا اجتماع ہے۔ امام شافعی اور دیگر علماء فرماتے ہیں یہ تہائی اسلام ہے۔ اور امام شافعی فرماتے ہیں فقہ کے ستر دروازوں میں داخل ہوتی ہے (یعنی اس میں ستر فقہی مسائل کا حکم موجود ہے) عبدالرحمن بن مہدی وغیرہ کہتے ہیں کہ جو شخص بھی تصنیف کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ ابتداء اس حدیث سے کرے تاکہ طالب اور قاری کو نیت کی تصحیح پر تنبیہہ ہو۔ (مرتب)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
652. باب فضل الغزو في البحر
باب: سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1246
1246 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَتْ: فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غَزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ، فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعتْ عَنْ دَابَّتِهَا، حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے (یہ انس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں، جو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں، اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کیے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لیے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں، یا جیسے بادشاہ تختِ رواں پر سوار ہوتے ہیں۔“ (یہ شک اسحاق راوی کو تھا۔) ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے، اس مرتبہ بھی آپ جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کس بات پر آپ مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کیے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں پہلے کی طرح۔“ اس مرتبہ بھی فرمایا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے میرے لیے دعا کیجیے کہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہو گی (جو بحری راستے سے جہاد کرے گی)۔“ چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہا نے بحری سفر کیا، پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرا دیا اور اسی حادثہ میں ان کی وفات ہو گئی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 3 باب الدعاء بالجهاد والشهادة للرجل والنساء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
653. باب بيان الشهداء
باب: شہداء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1247
1247 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ، فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ ثُمَّ قَالَ: الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کہیں جا رہا تھا، راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کر دیا، اللہ تعالیٰ (صرف اسی بات پر) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں: طاعون میں مرنے والے، پیٹ کے عارضے (ہیضے وغیرہ) میں مرنے والے، اور ڈوب کر مرنے والے، اور جو دیوار وغیرہ کسی بھی چیز سے دب کر مر جائے اور خدا کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) شہید ہونے والے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1247]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 32 باب فضل التهجير إلى الظهر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1248
1248 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون کی موت ہر مسلمان کے لیے شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1248]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 30 باب الشهادة سبع سوى القتل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
654. باب قوله صلی اللہ علیہ وسلم لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لا يضرهم من خالفهم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اس کی مخالفت کرنے والا اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1249
1249 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ ہمیشہ غالب رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت یا موت آئے گی، اس وقت بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1249]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 28 باب حدثني محمد بن المثنى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1250
1250 صحيح حديث مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللهِ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلاَ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ عَلَى ذلِكَ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ فرما رہے تھے: ”میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حالت پر رہیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1250]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 28 باب حدثني محمد بن المثنى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
655. باب السفر قطعة من العذاب واستحباب تعجيل المسافر إِلى أهله بعد قضاء شغله
باب: سفر ایک عذاب ہے۔ اس لیے مسافر کو اپنے کام سے فارغ ہوتے ہی فوراً گھر لوٹنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1251
1251 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ، فَإِذَا قَضى نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، یہ آدمی کو کھانے، پینے اور سونے (ہر ایک چیز) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کر چکے تو وہ فوراً گھر واپس آ جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1251]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 19 باب السفر قطعة من العذاب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
656. باب كراهة الطروق وهو الدخول ليلاً لمن ورد من سفر
باب: سفر سے واپسی پر رات گئے گھر آنے کی کراہت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1252
1252 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَطْرُقُ أَهْلَهُ، كَانَ لاَ يَدْخلُ إِلاَّ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر سے) رات میں گھر نہیں پہنچتے تھے، یا صبح کے وقت پہنچ جاتے یا دوپہر کو (بعد زوال سے لے کر غروب آفتاب تک کسی بھی وقت تشریف لاتے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1252]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 26 كتاب العمرة: 15 باب الدخول بالعشى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں