اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
643. باب فضل الشهادة في سبيل الله تعالى
باب: اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1233
1233 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ، قَالَ: لاَ أَجِدُهُ قَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ، إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ، أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ وَلاَ تَفْتُرَ، وَتَصُومَ وَلاَ تُفْطِرَ قَالَ: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لیے) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور (نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور (کوئی دن) بغیر روزے کے نہ گزرے؟“ ان صاحب نے عرض کیا: بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 1 باب فضل الجهاد والسير»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
644. باب فضل الغدوة والروحة في سبيل الله
باب: اللہ کی راہ میں صبح یا شام گذارنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1234
1234 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ رَوْحَة خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح یا ایک شام دنیا سے اور جو کچھ دنیا میں ہے، سب سے بہتر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 5 باب الغدوة والروحة في سبيل الله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1235
1235 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الرَّوْحَةُ وَالْغَدْوَةُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَفْضَلُ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح و شام دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، سب سے بڑھ کر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1235]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 5 باب الغدوة والروحة في سبيل الله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1236
1236 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِمَّا تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام چلنا ان سب چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1236]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 5 باب الغدوة والروحة في سبيل الله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
645. باب فضل الجهاد والرباط
باب: جہاد اور دشمن کی نگرانی کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1237
1237 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ قَالُوا: ثُمَّ مَنْ قَالَ: مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کون شخص سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اور اس کے بعد کون؟ فرمایا: ”مومن جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں رہنا اختیار کرے، اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہو اور لوگوں کو چھوڑ کر اپنی برائی سے ان کو محفوظ رکھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 2 باب أفضل الناس مؤمن يجاهد بنفسه وماله في سبيل الله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
646. باب بيان الرجلين يقتل أحدهما الآخر يدخلان الجنة
باب: دو ایسے آدمیوں کا ذکر کہ ایک آدمی دوسرے کا قاتل ہو گا اور دونوں جنتی ہوں گے
حدیث نمبر: 1238
1238 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: (يَضْحَكُ اللهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ يَدْخُلاَنِ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هذَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُسْتَشْهَدُ)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر ہنس دے گا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا تھا اور پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہو گئے۔ پہلا وہ جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہ شہید ہو گیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قاتل کو توبہ کی توفیق دی (یعنی قاتل مسلمان ہو گیا) اور وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔ (اس طرح دونوں قاتل و مقتول بالآخر جنت میں داخل ہو گئے۔)“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1238]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 28 باب الكافر يقتل المسلم ثم يسلم فيسدد بعد ويقتل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
647. باب فضل إِعانة الغازي في سبيل الله بمركوب وغيره، وخلافته في أهله بخير
باب: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مدد سواری وغیرہ کے ساتھ کرنے کی فضیلت اور اس کے گھر والوں کی دیکھ بھال نیکی ہے
حدیث نمبر: 1239
1239 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو ساز و سامان دیا تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا اور جس نے خیر خواہانہ طریقے پر غازی کے گھر بار کی نگرانی کی تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 38 باب فضل من جهز غازيًا أو خلفه بخير»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
648. باب سقوط فرض الجهاد عن المعذورين
باب: معذور پر جہاد فرض نہیں
حدیث نمبر: 1240
1240 صحيح حديث الْبَرَاءِ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ) دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ فَكَتَبَهَا، وَشَكَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ، فَنَزَلَتْ (لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ)
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النساء: 95] نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ (جو کاتبِ وحی تھے) کو بلایا، آپ ایک چوڑی ہڈی ساتھ لے کر حاضر ہوئے اور اس آیت کو لکھا، اور جب ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو آیت یوں نازل ہوئی ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير؛ 31 باب قول الله تعالى (لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولى الضرر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
649. باب ثبوت الجنة للشهيد
باب: شہید کے لیے جنت کا ثابت ہونا
حدیث نمبر: 1241
1241 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ: فِي الْجَنَّةِ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ احد کے موقع پر پوچھا: یا رسول اللہ! اگر میں قتل کر دیا گیا تو میں کہاں جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں۔“ انہوں نے وہ کھجوریں پھینک دیں جو ان کے ہاتھ میں تھیں اور لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 17 باب غزوة أُحد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1242
1242 صحيح حديث أَنَسِ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ إِلَى بَنِي عَامِرٍ، فِي سَبْعِينَ فَلَمَّا قَدِمُوا، قَالَ لَهُمْ خَالِي: أَتَقَدَّمُكُمْ، فَإِنْ أَمَّنُونِي حَتَّى أُبَلِّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلاَّ كُنْتُمْ مِنِّي قَرِيبًا فَتَقَدَّمَ، فَأَمَّنُوهُ فَبَيْنَمَا يُحَدِّثُهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَطَعَنَهُ فَأَنْفَذَهُ، فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثُمَّ مَالوا عَلَى بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ فَقَتَلُوهُمْ، إِلاَّ رَجُلٌ أَعْرَجُ صَعِدَ الْجَبَلَ قَالَ هَمَّامٌ (أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ) فَأُرَاهُ آخَرَ مَعَهُ؛ فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ فَكُنَّا نَقْرَأُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا، أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا، وَأَرْضَانَا ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ فَدَعَا عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَبَنِي لِحْيَانَ، وَبَنِي عُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ستر آدمی (جو قاری تھے) بنو عامر کے یہاں بھیجے۔ جب یہ سب حضرات (بئر معونہ) پر پہنچے تو میرے ماموں حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں (بنو عامر کے یہاں) آگے جاتا ہوں، اگر مجھے انہوں نے اس بات کا امن دے دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ان تک پہنچاؤں تو بہتر، ورنہ تم لوگ میرے قریب تو ہو ہی۔“ چنانچہ وہ ان کے یہاں گئے اور انہوں نے امن بھی دے دیا۔ ابھی وہ قبیلہ کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنا ہی رہے تھے کہ قبیلہ والوں نے اپنے ایک آدمی (عامر بن طفیل) کو اشارہ کیا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے برچھا پیوست کر دیا جو آر پار ہو گیا۔ اس وقت ان کی زبان سے نکلا: «اللهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ”اللہ اکبر، میں کامیاب ہو گیا، کعبہ کے رب کی قسم!“ اس کے بعد قبیلہ والے حرام رضی اللہ عنہ کے دوسرے ساتھیوں کی طرف (جو ستر کی تعداد میں تھے) بڑھے اور سب کو قتل کر دیا۔ البتہ ایک صاحب جو لنگڑے تھے، پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ہمام (راوی حدیث) نے بیان کیا: میں سمجھتا ہوں کہ ایک صاحب اور ان کے ساتھی (پہاڑ پر چڑھے تھے)۔ اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے جا ملے ہیں، پس اللہ خود بھی ان سے خوش ہے اور انہیں بھی خوش کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہم (قرآن کی دوسری آیتوں کے ساتھ یہ آیت بھی) پڑھتے تھے: «أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا» ”ہماری قوم کے لوگوں کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آ ملے ہیں، پس ہمارا رب خود بھی خوش ہے اور ہمیں بھی خوش کر دیا ہے۔“ اس کے بعد یہ آیت منسوخ ہو گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس دن تک صبح کی نماز میں قبیلہ رعل، ذکوان، بنی لحیان اور بنی عصیہ کے لیے بددعا کی تھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1242]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 9 باب من ينكب في سبيل الله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»