🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
629. باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريمها في المعصية
باب: غیر معصیت میں بادشاہ یا حاکم یا امام کی اطاعت واجب ہے اور گناہ میں اطاعت حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1203
1203 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ (أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولى الأَمْرِ مِنْكُمْ) ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ، إِذْ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت ﴿اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے حاکموں کی﴾ [سورة النساء: 59] عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مہم پر بطور افسر روانہ کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1203]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 4 سورة النساء: 11 باب قوله (أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1204
1204 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصى اللهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَد أَطَاعِني، وَمَنْ عَصى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے (مقرر کیے ہوئے) امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی۔“ (لیکن اگر امیر کا حکم قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ کر قرآن و حدیث پر عمل کرنا ہو گا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1204]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 1 باب قول الله تعالى (أطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم»
وضاحت: لیکن اگر امیر کا حکم قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ کر قرآن و حدیث پر عمل کرنا ہو گا۔ (راز)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے ملاتے ہوئے ان کی شان اور تعظیم کا جو اہتمام کیا ہے امام خطابی اس کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قریش اور ان کے عرب پیرو کار اور حلیف امارت کو نہیں جانتے تھے اور اپنے قبیلوں کے سرداروں کے علاوہ کسی کی اطاعت اور پیروی قبول نہیں کرتے تھے جب اسلام آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے امیر اور والی مقرر کیے تو انہیں یہ ناگوار گذرا اور بعض نے پیروی کرنے سے نکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ ان کی اطاعت میری اطاعت سے مربوط ہے اور ان کی نا فرمانی میری نا فرمانی سے مربوط ہے۔ اس طرح انہیں امراء کی اطاعت پر آمادہ کیا تاکہ کلمہ ایک رہے اور اُمت کا شیرازہ نہ بکھر جائے۔ (مرتب)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1205
1205 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ؛ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے، پھر جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے نہ اطاعت کرنا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1205]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 4 باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1206
1206 صحيح حديث عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ فَغَضِبَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي قَالُوا: بَلَى قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَمَا جَمَعْتُمْ حَطَبًا وَأَوْقَدْتُمْ نَارًا ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِيهَا فَجَمَعُوا حَطَبًا، فَأَوْقَدُوا فَلَمَّا هَمُّوا بِالدُّخُولِ، فَقَامَ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ، قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا تَبِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارًا مِنَ النَّارِ، أَفَنَدْخُلُهَا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذلِكَ إِذْ خَمَدَتِ النَّارُ، وَسَكَنَ غَضَبُهُ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوف
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستہ روانہ کیا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر مقرر فرمایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں۔ پھر امیر فوج کے لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا: ”کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ضرور دیا ہے۔“ اس پر انہوں نے کہا: ”میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو۔“ لوگوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی۔ جب انہوں نے کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا: ”ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری آگ سے بچنے ہی کے لیے تو کی تھی، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں؟“ اسی دوران آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے، «إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ» ”اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔““ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 4 باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1207
1207 صحيح حديث عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ جُنَادةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ، قُلْنَا: أَصْلَحَكَ اللهُ، حَدِّثْ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهِ، سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دَعَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا، أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأُثْرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانٌ
جنادہ بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے، وہ مریض تھے۔ ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے، کوئی حدیث بیان کیجیے جس کا نفع آپ کو اللہ تعالیٰ پہنچائے۔ (انہوں نے بیان کیا کہ) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے «لَيْلَةُ الْعَقَبَةِ» ”لیلۃ العقبہ“ میں سنا ہے کہ آپ نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی۔ جن باتوں کا آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ ”خوشی و ناگواری، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو علانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں، اگر وہ علانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس دلیل مل جائے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1207]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 92 كتاب الفتن: 2 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم سترون بعدي أمورًا تنكرونها»
وضاحت: امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیںحدیث کا معنی یہ ہے کہ حکمرانوں سے ان کی حکمرانی میں جھگڑا نہ کرو نہ ان کی مخالفت کرو سوائے اس کے کہ وہ اسلام کے احکام کے خلاف صریح کفر کا ارتکاب کریں۔جب ایسا کفر دیکھو تو ان کی مخالفت کرو باقی ان کے خلاف بغاوت اور خروج اور ان سے لڑنا حرام ہے جس پر مسلمانوں کا اجماع ہے اگرچہ وہ فاسق و فاجر اور ظالم ہوں۔ (مرتب)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
630. باب الأمر بالوفاء ببيعة الخلفاء الأول فالأول
باب: خلیفہ سے کی ہوئی بیعت پوری کرنا ضروری ہے اور جس سے پہلے بیعت ہو اس کی اطاعت پہلے کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1208
1208 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كَلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُون خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ: فُوا بِبَيْعَةِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے، جب بھی ان کا کوئی نبی ہلاک ہو جاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے، لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں میرے نائب ہوں گے اور بہت ہوں گے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ان کے متعلق آپ کا ہمیں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلے جس سے بیعت کر لو، بس اسی کی وفاداری پر قائم رہو اور ان کا جو حق ہے اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 50 باب ما ذكر عن بني إسرائيل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1209
1209 صحيح حديث ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَتَكونُ أُثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ: تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكمْ وَتَسْأَلُونَ اللهَ الَّذِي لَكمْ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میرے بعد) تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے“، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
631. باب الأمر بالصبر عند ظلم الولاة واستئثارهم
باب: حاکموں کے ظلم اور بے جا ترجیح پر صبر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1210
1210 صحيح حديث أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلاَ تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلاَنًا قَالَ: سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں شخص کی طرح مجھے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاکم بنا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد (دنیاوی معاملات میں) تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 8 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم للأنصار اصبروا حتى تلقوني على الحوض»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
632. باب الأمر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة إلى الكفر
باب: فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوںکی جماعت کے ساتھ رہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1211
1211 صحيح حديث حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللهُ بِهذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ: نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ قَالَ: قَوْمٌ يَهْدُونَ بَغَيْرِ هَدْيي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ: نَعَمْ، دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا فَقَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي، إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذلِكَ
ابو ادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہیں میں اس میں نہ پھنس جاؤں۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت (اسلام کی) عطا فرمائی، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے سوال کیا، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہو گا۔“ میں نے عرض کیا، وہ دھواں کیا ہوگا؟ آپ نے جواب دیا: ”ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور میرے طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے، ان میں کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری۔“ میں نے سوال کیا، کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ بھی آئے گا؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجیے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے، ہماری ہی زبان بولیں گے۔“ میں نے عرض کیا، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے آپ کا حکم کیا ہے؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے تابع رہنا۔“ میں نے عرض کیا، اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو۔ آپ نے فرمایا: ”پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا، اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تیری موت آ جائے اور تو اسی حالت پر ہو۔“ (تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہوگا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1212
1212 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فلْيَصْبِرْ؛ فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے کیونکہ (خلیفہ کی) اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 92 كتاب الفتن: 2 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم سترون بعدي أمورًا تنكرونها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں