اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
807. باب من فضائل عمر رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1550
1550 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَخَلْت الْجَنَّةَ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا فَقُلْتُ: لِمَنْ هذَا قَالُوا: لِعُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلاَّ عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللهِ أَوَ عَلَيْكَ أَغَارُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) میں جنت میں گیا، وہاں میں نے ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اے اللہ کے نبی! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 107 باب الغيرة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1551
1551 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ قَالَ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هذَا الْقَصْرُ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبرًا فَبَكَى عُمَرُ، وَقَالَ: أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللهِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں جنت دیکھی، میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جو ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل ہے۔ مجھے ان کی غیرت یاد آئی اور میں وہاں سے فوراً لوٹ آیا۔“ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ رو دیے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے ساتھ بھی غیرت کروں گا؟ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 8 باب ما جاء في صفة الجنة وأنها مخلوقة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1552
1552 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ، وَيَسْكَثِرْنَهُ، عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: عَجِبْتُ مِنْ هؤُلاَءِ اللاَّتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ قَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ يَهَبْنَ ثُمَّ قَالَ: أَيْ عَدُوَّاتٍ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلاَ تَهَبْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قلْنَ: نَعَمْ أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا إِلاَّ سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت چند قریشی عورتیں (ازواج مطہرات) آپ کے پاس بیٹھی آپ سے گفتگو کر رہی تھیں اور آپ سے (خرچ) بڑھانے کا سوال کر رہی تھیں اور خوب آواز بلند کر رہی تھیں، لیکن جونہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی، وہ خواتین جلدی سے پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو ہنستا ہی رکھے، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا ابھی ابھی میرے پاس تھیں، لیکن جب تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ گئیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: لیکن اے اللہ کے رسول! آپ زیادہ اس کے مستحق تھے کہ آپ سے یہ ڈرتیں، پھر انہوں نے (ازواج مطہرات سے) کہا: اے اپنی جانوں کی دشمنو! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں۔ ازواج مطہرات بولیں کہ واقعی یہی بات ہے کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف مزاج میں بہت سخت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، (اے عمر!) اگر شیطان بھی کہیں راستے میں تم سے مل جائے، تو جھٹ وہ یہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 11 باب صفة إبليس وجنوده»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1553
1553 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ، جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ، فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيُصَلِّيَ، فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ رَبُّكَ أَنْ تُصلِّي عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللهُ فَقَالَ (اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً) وَسَأَزِيدُهُ عَلَى السَّبْعِينَ قَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ (وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ (جو پختہ مسلمان تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قمیص ان کے والد کے کفن کے لیے عنایت فرما دیں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے قمیص عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ بھی پڑھا دیں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی آگے بڑھ گئے۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے جا رہے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع بھی فرما دیا ہے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے، اس نے فرمایا ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] ”آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کے لیے استغفار کریں، خواہ نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے (تب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا)“ اس لیے میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا، شاید کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: لیکن یہ شخص تو منافق ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] ”اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر کبھی بھی نماز نہ پڑھیے اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 9 سورة براءة: 12 باب استغفر لهم أو لا تستغفر لهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
808. باب من فضائل عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1554
1554 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بَالْجَنَّةِ فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمدَ اللهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ: اللهُ الْمُسْتَعَانُ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے ایک باغ (بئر اریس) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آکر دروازہ کھلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو۔“ میں نے دروازہ کھولا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق جنت کی خوشخبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد کی۔ پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا: ”دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو۔“ میں نے دروازہ کھولا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہیں بھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر ایک تیسرے اور صاحب نے دروازہ کھلوایا، ان کے لیے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں (دنیا میں) واسطہ پڑے گا۔“ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے، جب میں نے ان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: «اَللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ» ”اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 6 باب مناقب عمر بن الخطاب أبي حفص القرشي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1555
1555 صحيح حديث أَبِي موسى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقلْتُ لأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلأَكُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هذَا، قَالَ: فَجَاءَ الْمَسْجِدَ فَسَأَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: خَرَجَ وَوَجَّهَ ههُنَا فَخَرَجْتُ عَلَى إِثْرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّى دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ، وَبَابهَا مِنْ جَرِيدٍ، حَتَّى قَضى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَاجَتَهُ فَتَوَضَّأَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ، وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا، وَكَشَف عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ فَقُلْتُ لأَكُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْيَوْمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَدَفَعَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هذَا فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأذِنُ فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى قُلْتُ لأَبِي بَكْر: ادْخُلْ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَلَسَ عَنْ يِمِينِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِّ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، كَمَا صنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ، وَقَدْ تَركْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي فَقُلْتُ: إِنْ يُرِدِ اللهُ بفُلاَنٍ خيْرًا (يُرِيدُ أَخَاهُ) يَأْتِ بِهِ فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرّكُ الْبَابَ فَقُلْتُ: مَنْ هذَا فَقَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: هذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْتأْذِن فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ، وَبَشَّرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْقُفِّ، عَنْ يَسَارِهِ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ: إِنْ يُرِدِ اللهُ بِفُلاَنٍ خَيْرًا يَأْتِ بِهِ فَجَاءَ إِنْسَانٌ يُحَرِّك الْبَابَ فَقُلْتُ: مَنْ هذَا فَقَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، عَلَى بَلْوَى تُصِيبهُ فَجِئْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: ادْخُلْ، وَبَشَّركَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُكَ فَدَخَلَ، فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِى َ، فَجَلَسَ وُجَاهَهُ مِنَ الشِّقِّ الآخَر قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ (رَاوِي الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي مُوسى) : فَأَوَّلْتهَا قُبُورَهُمْ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک دن اپنے گھر میں وضو کیا اور اس ارادے سے نکلے کہ آج دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر وہ مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تو وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو تشریف لے جا چکے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف تشریف لے گئے ہیں، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے نکلا اور آخر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (قبا کے قریب) بئر اریس میں داخل ہو رہے ہیں۔ میں دروازے پر بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر چکے اور وضو بھی کر لیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بئر اریس (اس باغ کے کنویں) کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اپنی پنڈلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھول رکھی ہیں اور کنویں میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر واپس آکر باغ کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے سوچا کہ آج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان رہوں گا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور دروازہ کھولنا چاہا تو میں نے پوچھا کہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا: ابوبکر! میں نے کہا: تھوڑی دیر ٹھہر جائیے، پھر میں آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ دروازے پر موجود ہیں اور اندر آنے کی اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چاہتے ہیں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی۔“ میں دروازے پر آیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور اسی کنویں کی منڈیر پر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی داہنی طرف بیٹھ گئے اور اپنے دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا لیے، جس طرح آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹکائے ہوئے تھے اور اپنی پنڈلیوں کو بھی کھول لیا تھا، پھر میں واپس آکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا، میں آتے وقت اپنے بھائی کو وضو کرتا ہوا چھوڑ آیا تھا۔ وہ میرے ساتھ آنے والے تھے، میں نے اپنے دل میں کہا، کاش! اللہ تعالیٰ فلاں کو خبر دے دیتا (ان کی مراد اپنے بھائی سے تھی) اور انہیں یہاں پہنچا دیتا۔ اتنے میں کسی صاحب نے دروازے پر دستک دی، میں نے پوچھا: کون صاحب ہیں؟ کہا کہ عمر بن خطاب! میں نے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جائیے۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کے بعد عرض کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی پہنچا دو۔“ میں واپس آیا اور کہا کہ اندر تشریف لے جائیے اور آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے۔ وہ بھی داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی منڈیر پر بائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا لیے۔ میں پھر دروازے پر آکر بیٹھ گیا اور سوچتا رہا کہ کاش اللہ تعالیٰ فلاں (سیدنا ابوموسیٰ کے بھائی) کے ساتھ خیر چاہتا اور انہیں یہاں پہنچا دیتا۔ اتنے میں ایک اور صاحب آئے اور دروازے پر دستک دی، میں نے پوچھا: کون صاحب ہیں؟ بولے کہ عثمان بن عفان! میں نے کہا: تھوڑی دیر کے لیے رک جائیے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو اور ایک مصیبت جو انہیں پہنچے گی، جنت کی بشارت پہنچا دو۔“ میں دروازے پر آیا اور ان سے کہا کہ اندر تشریف لے جائیے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے ایک مصیبت پر جو آپ کو پہنچے گی، وہ جب داخل ہوئے تو دیکھا چبوترہ پر جگہ نہیں ہے اس لیے وہ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے (حدیث کے راوی) کہا کہ میں نے اس سے ان کی قبروں کی تاویل لی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1555]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لو كنت متخذًا خليلاً»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
809. باب من فضائل عليّ بن أبي طالب رضی اللہ عنہ
باب: حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1556
1556 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَن رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرجَ إِلَى تَبُوكَ، وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا فَقَالَ: أَتخَلفُنِي فِي الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ قَالَ: أَلاَ تَرْضى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هارونَ مِنْ موسى إِلاَّ أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا، علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام تھے؟ لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 78 باب غزوة تبوك وهي غزوة العسرة»
وضاحت: امام نووی رحمہ اللہ مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں کہ قاضی عیاض نے فرمایا ہے اس حدیث سے روافض اور امامیہ فرقے نے بلکہ تمام شیعہ جماعتوں نے دلیل لی ہے کہ خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق تھا انہیں اس کی وصیت بھی کی گئی تھی۔ فرماتے ہیں پھر یہ فرقے خود اختلاف کا شکار ہو گئے ہیں۔ روافض نے تو تمام صحابہ کو کافر قرار دیا کیونکہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقدم نہیں رکھا اور بعض شیعوں نے مزید تجاوز کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی کافر قرار دیا کہ وہ اپنا حق طلب کرنے کے لیے کھڑے کیوں نہ ہوئے۔ یہ سب گھٹیا مذہب کے لوگ ہیں اور عقل کے اعتبار سے فاسد کہ ان کی بات کا رد کیا جائے یا ان سے مناظرہ کیا جائے۔ حالانکہ اس حدیث میں ان کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں کہ وہ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ کی(اصحابِ ثلاثہ پر) فضیلت کو ثابت کر سکیں۔ کیونکہ اس میں کوئی ایسا اشارہ موجود نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی سے افضل ہیں یا فلاں کے مثل ہیں۔ نہ اس میں یہ دلیل ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہوں گے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات اس وقت فرمائی تھی جب انہیں مدینہ میں امیر مقرر فرما کر خود باقی تمام صحابہ کو لے کر غزوہ تبوک کی طرف گئے تھے جس کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ نہیں بنے تھے بلکہ وہ تو موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے۔ حضرت ہارون کو تو موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت اپنا جانشین بنایا تھا جب خود اپنے رب سے مناجات و گفتگو کے لیے میقات (طور پہاڑ) کو روانہ ہوئے تھے۔ (مرتب)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1557
1557 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، يَوْمَ خَيْبَرَ: لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يَفتَحُ اللهُ عَلَى يَديْهِ فَقَامُوا يَرْجُونَ لِذلِكَ، أَيُّهُمْ يُعْطَى فَغَدَوْا وَكُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطِي فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيٌّ فَقِيلَ: يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَأَمَرَ، فَدُعِي لَهُ، فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، فَبَرَأَ مَكَانَهُ حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ فَقَالَ: نقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ: عَلَى رِسْلِكَ، حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ، فَوَاللهِ لأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا: ”میں یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔“ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیے جھنڈا کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی امید میں رہے کہ کاش! انہیں کو مل جائے، لیکن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن مبارک ان کی آنکھوں میں لگا دیا اور فوراً ہی وہ اچھے ہو گئے جیسے پہلے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ان (یہودیوں سے) اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک یہ ہمارے جیسے (مسلمان) نہ ہو جائیں، لیکن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اطمینان سے ان کے میدان میں اتر کر انہیں اسلام کی دعوت دو اور ان کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں ان کی خبر کر دو (پھر اگر وہ نہ مانیں تو لڑنا)، اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 102 باب دعاء النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إلى الإسلام والنبوة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1558
1558 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رضي الله عنه تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ، وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ، فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا فِي صَبَاحِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ قَالَ: لَيَأْخُذَنَّ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَوْ قَالَ: يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللهُ عَلَيْهِ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ، وَمَا نَرْجُوهُ فَقَالُوا: هذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا؟ چنانچہ وہ نکلے اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا“ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا): ”کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہو گا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ: ”جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی (کیونکہ وہ آشوبِ چشم میں مبتلا تھے) لوگوں نے کہا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا ان کو دیا، اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1558]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 121 باب ما قيل في لواء النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1559
1559 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْتَ فَاطِمَةَ، فَلَمْ يَجِدْ علِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ: أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ قَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي، فَخَرَجَ، فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لإِنْسَانٍ: انْظُرْ أَيْنَ هُوَ فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، وَأَصَابَهُ تُرَابٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ، وَيَقُولُ: قُمْ أَبا تُرَابٍ قُمْ أَبَا تُرَابٍ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے، دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آگئی اور وہ مجھ پر خفا ہو کر کہیں باہر چلے گئے ہیں اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”علی کو تلاش کرو کہاں ہیں؟“ وہ آئے اور بتایا کہ وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے، چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جسم سے دھول جھاڑتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے: «قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ» ”اٹھو ابو تراب! اٹھو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1559]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 58 باب نوم الرجال في المسجد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»