🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
818. باب ذكر حديث أم زرع
باب: حدیث ام زرع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1590
1590 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَلَسَ إِحْدى عَشْرَةَ امْرَأَةً، فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لاَ يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا قَالَتِ الأُولَى: زَوْجِي لَحْم جَمَلٍ غَثٍّ، عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ، لاَ سَهْلٍ فَيُرْتَقَى، وَلاَ سَمِينٍ فَيُنْتَقَلُ قَالَتِ الثَّانِيَةُ: زَوْجِي لاَ أَبُثُّ خَبَرَه، إِنِّي أَخَافُ أَنْ لاَ أَذَرَهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ قَالَتِ الثَّالِثَةُ: زَوْجِي الْعَشَنَّقُ، إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ قَالَتِ الرَّابِعَةُ: زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ، لاَ حَرٌّ وَلاَ قُرٌّ، وَلاَ مَخَافَةَ وَلاَ سَآمَةَ قَالَتِ الْخَامِسَةُ: زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ، وَلاَ يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ قَالَتِ السَّادِسَةُ: زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِنِ اضطَجَعَ الْتَفَّ، وَلاَ يُولِجُ الْكَفَّ، لِيَعْلَمَ الْبَثَّ قَالَتِ السَّابِعَةُ: زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ، طَبَاقَاءُ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ، شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ، أَوْ جَمَعَ كُلاًّ لَكِ قَالَتِ الثَّامِنَةُ: زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ قَالَتِ التَّاسِعَةُ: زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ، طَوِيلُ النِّجَادِ، عَظِيمُ الرَّمَادِ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ قَالَتِ الْعَاشِرَةُ: زَوْجِي مَالِكٌ، وَمَا مَالِكٌ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذلِكَ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ، قَلِيلاَتُ الْمَسَارِحِ، وَإِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ: زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ، فَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ، وَمَلأَ مِنْ شَحْمِ عَضُدَيَّ، وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنيْمَةٍ بَشِقٍّ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلاَ أُقَبَّحُ، وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ، وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ، وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا ابْنُ أبي زَرْعٍ مَضْجِعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طُوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا، وَمِلْءُ كِسَائِهَا، وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لاَ تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا، وَلاَ تُنَّقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَلاَ تَمْلأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا قَالَتْ: خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالأَوْطَابُ تُمْخَضُ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ، يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ، فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلاً سَرِيًّا، رَكِبَ شَرِيًّا، وَأَخَذَ خَطِّيًّا، وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا وَقَالَ: كُلِي، أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ قَالَتْ: فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ، مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لأُمِّ زَرْعٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کریں، کوئی بات نہ چھپاویں۔ چنانچہ پہلی عورت بولی: میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گوشت جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو، نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آئے اور نہ ہی وہ گوشت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لانے کے لیے اس پہاڑ پر چڑھنے کی تکلیف گوارا کرے۔ دوسری عورت (عمرہ بنت عمرو تمیمی نامی) کہنے لگی: میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک بیان کروں (اس میں اتنے عیب ہیں)، میں ڈرتی ہوں کہ سب بیان نہ کر سکوں گی، اس پر بھی اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے سارے عیب بیان کر سکتی ہوں۔ تیسری عورت (حیی بنت کعب یمانی) کہنے لگی: میرا خاوند کیا ہے ایک تاڑ کا تاڑ (لمبا تڑنگا) ہے، اگر اس کے عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے، اگر خاموش رہوں تو ادھر لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت (مہدو بنت ابی ہردمہ) کہنے لگی کہ میرا خاوند ملک تہامہ کی رات کی طرح معتدل ہے، نہ زیادہ گرم نہ بہت ٹھنڈا، نہ اس سے مجھ کو خوف ہے نہ اکتاہٹ ہے۔ پانچویں عورت (کبشہ نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند ایسا ہے کہ گھر میں آتا ہے تو وہ ایک چیتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر (بہادر) کی طرح ہے۔ جو چیز گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا ہی نہیں (کہ وہ کہاں گئی؟)، اتنا بے پرواہ ہے جو آج کمایا اسے کل کے لیے اٹھا کر رکھتا ہی نہیں، اتنا سخی ہے۔ چھٹی عورت (ہند نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند جب کھانے پر آتا ہے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے پر آتا ہے تو ایک بوند بھی باقی نہیں چھوڑتا اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور الگ پڑ کر سو جاتا ہے۔ میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ بھی نہیں ڈالتا کہ کبھی میرا دکھ درد کچھ تو معلوم کرے۔ ساتویں عورت (حیی بنت علقمہ) کہنے لگی: میرا خاوند تو جاہل یا مست ہے۔ صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے لگا کر اوندھا پڑ جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے عیب لوگوں میں ایک ایک کر کے جمع ہیں وہ سب اس کی ذات میں جمع ہیں (کم بخت سے بات کروں تو) سر پھوڑ ڈالے یا ہاتھ توڑ ڈالے یا دونوں کام کر ڈالے۔ آٹھویں عورت (یاسر بنت اوس) کہنے لگی: میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں سونگھو تو زعفران جیسا خوشبو دار ہے۔ نویں عورت (نام نامعلوم) کہنے لگی کہ میرے خاوند کا گھر بہت اونچا اور بلند ہے، وہ قد آور بہادر ہے، اس کے یہاں کھانا اس قدر پکتا ہے کہ راکھ کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہیں (غریبوں کو خوب کھلاتا ہے)، لوگ جہاں صلاح و مشورہ کے لیے بیٹھتے ہیں (یعنی پنچائت گھر) وہاں سے اس کا گھر بہت نزدیک ہے۔ دسویں عورت (کبشہ بنت رافع) کہنے لگی: میرے خاوند کا کیا پوچھنا، جائیداد والا ہے، جائیداد بھی کیسی بڑی جائیداد، ویسی کسی کے پاس نہیں ہو سکتی، بہت سارے اونٹ جو جا بجا اس کے گھر کے پاس جٹے رہتے ہیں اور جنگل میں چرنے کم جاتے ہیں۔ جہاں ان اونٹوں نے باجے کی آواز سنی ان کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو گیا۔ گیارہویں عورت (ام زرع بنت اکیمل بن ساعدہ) کہنے لگی: میرا خاوند ابو زرع ہے، اس کا کیا کہنا، اس نے میرے کانوں کو زیوروں سے بوجھل کر دیا ہے اور میرے دونوں بازو چربی سے پھلا دیے ہیں، مجھے خوب کھلا کر موٹا کر دیا ہے کہ میں بھی اپنے تئیں خوب موٹی سمجھنے لگی ہوں۔ شادی سے پہلے میں تھوڑی سی بھیڑ بکریوں میں تنگی سے گزر بسر کرتی تھی۔ ابو زرعہ نے مجھ کو نکاح میں لا کر گھوڑوں، اونٹوں، کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا ہے۔ اتنی بہت جائیداد ملنے پر بھی اس کا مزاج اتنا عمدہ ہے کہ بات کہوں تو برا نہیں مانتا، مجھ کو کبھی برا نہیں کہتا۔ سوئی پڑی رہوں تو صبح تک مجھے کوئی نہیں جگاتا۔ پانی پیوں تو خوب سیراب ہو کر پی لوں۔ رہی ابو زرعہ کی ماں (میری ساس) تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں، اس کا توشہ خانہ مال و اسباب سے بھرا ہوا، اس کا گھر بہت ہی کشادہ۔ ابو زرعہ کا بیٹا وہ بھی کیسا اچھا خوبصورت (نازک بدن دبلا پتلا) ہری چھالی یا ننگی تلوار کے برابر، اس کے سونے کی جگہ ایسی، کم خوراک کہ بکری کے چار ماہ کے بچے کے دست کا گوشت اس کا پیٹ بھر دے۔ ابو زرعہ کی بیٹی وہ بھی سبحان اللہ، کیا کہنا، اپنے باپ کی پیاری، اپنی ماں کی پیاری (تابع فرمان اطاعت گزار)، کپڑا بھرپور پہننے والی (موٹی تازی)۔ سوکن کی جلن، ابو زرعہ کی لونڈی، اس کی بھی کیا پوچھتے ہو، کبھی کوئی بات ہماری مشہور نہیں کرتی (گھر کا بھید ہمیشہ پوشیدہ رکھتی ہے)، کھانے تک نہیں چراتی، گھر میں کوڑا کچرا نہیں چھوڑتی۔ مگر ایک دن ایسا ہوا کہ لوگ مکھن نکالنے کو دودھ بلو رہے تھے (صبح ہی صبح)، ابو زرعہ باہر گیا، اچانک اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتوں کی طرح اس کی کمر کے تلے دو اناروں سے کھیل رہے تھے۔ ابو زرعہ نے مجھ کو طلاق دے کر اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اور شریف سردار سے نکاح کر لیا جو گھوڑے کا اچھا سوار، عمدہ نیزہ باز ہے، اس نے بھی مجھ کو بہت سارے جانور دے دیے ہیں اور ہر قسم کے اسباب میں سے ایک ایک جوڑا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع! خوب کھا پی، اپنے عزیز و اقرباء کو بھی خوب کھلا پلا، تیرے لیے عام اجازت ہے۔ مگر یہ سب کچھ بھی جو میں نے تجھ کو دیا ہوا ہے، اگر اکٹھا کروں تو تیرے پہلے خاوند ابو زرعہ نے جو تجھ کو دیا تھا اس میں کا ایک چھوٹا برتن بھی نہ بھرے۔ (یعنی ابو زرعہ کے مال کے سامنے یہ سارا مال بے حقیقت ہے مگر میں تجھ کو (ابو زرعہ کی طرح طلاق دینے والا نہیں ہوں)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ یہ سارا واقعہ سنانے کے بعد آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! میں بھی تیرے لیے ایسا خاوند ہوں جیسے ابو زرع، ام زرع کے لیے تھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1590]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 82 باب حسن المعاشرة مع الأهل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
819. باب فاطمة بنت النبيّﷺ
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1591
1591 صحيح حديث الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلَيٍّ، رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا فَقُلْتُ لَهُ: لاَ فَقَالَ لَهُ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ، لاَ يُخْلَصُ إِلَيْهِمْ أَبدًا حَتَّى تُبْلَغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ، عَلَى مِنْبَرِهِ هذَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ: إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلاً، وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا، وَلكِنْ، وَاللهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ أَبَدًا
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ علی بن حسین رحمہ اللہ (سیدنا زین العابدین رحمہ اللہ) نے بیان کیا کہ جب ہم سب حضرات حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے یہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے ملاقات کی، اور کہا: اگر آپ کو کوئی ضرورت ہو تو مجھے حکم فرما دیجیے۔ (سیدنا زین العابدین نے بیان کیا کہ) میں نے کہا: مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: تو کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار عنایت فرمائیں گے؟ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کچھ لوگ اسے آپ سے نہ چھین لیں اور اللہ کی قسم! اگر وہ تلوار آپ مجھے عنایت فرما دیں تو کوئی شخص بھی جب تک میری جان باقی ہے اسے چھین نہیں سکے گا۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے ایک قصہ بیان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں ابوجہل کی ایک بیٹی (جمیلہ) کو پیغام نکاح دے دیا تھا۔ میں نے خود سنا کہ اسی مسئلے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسی منبر پر کھڑے ہو کر صحابہ کو خطاب فرمایا۔ میں اس وقت بالغ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں فرمایا: ”فاطمہ مجھ سے ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ (اس رشتے کی وجہ سے) کسی گناہ میں نہ پڑ جائے کہ اپنے دین میں وہ کسی فتنے میں مبتلا ہو۔“ اس کے بعد آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان بنی عبد شمس کے ایک اپنے داماد (عاص بن ربیع) کا ذکر کیا اور دامادی سے متعلق آپ نے ان کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے مجھ سے جو بات کہی سچ کہی۔ جو وعدہ کیا، اسے پورا کیا۔ میں کسی حلال (یعنی نکاح ثانی) کو حرام نہیں کر سکتا، اور نہ کسی حرام کو حلال بناتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1591]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 5 باب ما ذكر من درع النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وعصاه وسيفه»
وضاحت: امام نووی شرح مسلم میں نقل کرتے ہیں کہ علماء نے فرمایا ہے اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر حالت میں اور ہر طریقے سے ایذا دینا حرام ہے اگرچہ اس ایذا کی اصل شرعی اعتبار سے مباح ہو اور آپ زندہ تھے۔ لیکن اس میں دوسروں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ ابوجہل کی بیٹی کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکاح مباح ہے کیونکہ فرمایا میں حلال کو حرام نہیں کرتا۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پختہ اسباب کی وجہ سے دونوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا۔ (۱) اس طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو تکلیف ہو گی جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف ہو گی تو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا ہے وہ ہلاک ہو گا۔ اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اپنی کامل شفقت کی وجہ سے انہیں اس فعل سے منع فرما دیا۔ (۲) سوکن کے آنے سے غیرت کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ پر فتنے اور آزمائش کا خوف تھا۔ (مرتب) دین میں فتنے سے مراد یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسری بیوی لائیں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سوکن بننے کی عداوت سے جو ہر عورت کے دل میں ہوتی ہے، کسی گناہ میں مبتلا ہو جائیں مثلاً خاوند کو ستائیں، ان کی نا فرمانی کریں یا سوکن کو برا بھلا کہیں۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1592
1592 صحيح حديث الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَسَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّكَ لاَ تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ يَقُولُ: أَمَّا بَعْدُ، أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحدَّثَنِي وَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسُوءَهَا وَاللهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ، عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو (جو مسلمان تھیں) پیغامِ نکاح دیا، اس کی اطلاع جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی خاطر (جب انہیں کوئی تکلیف دے) کسی پر غصہ نہیں آتا۔ اب دیکھیے یہ علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے سنا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد! میں نے ابو العاص بن ربیع سے (زینب رضی اللہ عنہا کی) شادی کی (آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی) تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ فاطمہ بھی میرے (جسم کا) ایک ٹکڑا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہو سکتیں۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1592]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 16 باب ذكر أصهار النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ منهم أبو العاص بن الربيع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1593
1593 صحيح حديث عَائِشَةَ، وَفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ عَنْ عَائِشَةَ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا، أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ تَمْشِي، لاَ، وَاللهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مَشْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ قَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ فَقُلْتُ لَهَا، أَنَا مِنْ بَيْنَ نِسَائِهِ: خَصَّكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا: عَمَّا سَارَّكِ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ فَلَمَّا تُوُفِيَ قُلْتَ لَهَا: عَزَمْتُ عَلَيْكِ، بَمَا لِي عَلَيْكِ مَنَ الْحَقِّ، لَمَّا أَخْبَرْتِنِي قَالَتْ: أَمَّا الآنَ، فَنَعَمْ فَأَخْبَرَتْنِي، قَالَتْ: أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الأَمْرِ الأَوَّلِ، فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي: أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ، الْعَامَ، مَرَّتَيْنِ، وَلاَ أَرَى الأَجَلَ إِلاَّ قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، قَالَ: يَا فَاطِمَةُ أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هذِهِ الأُمَّةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ تمام ازواجِ مطہرات (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی (بلکہ بہت ہی مشابہ تھی)، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”بیٹی! «مَرْحَبًا» ”خوش آمدید““ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں۔ چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا: ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال انہوں نے مجھ سے دو مرتبہ دور کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں“۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: ”فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1593]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 43 باب من ناجى بين يدي الناس ومن لم يخبر بسر صاحبه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
820. باب من فضائل أم سلمة أم المؤمنين رضی اللہ عنہ
باب: ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاکی خوبیاں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1594
1594 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ جَبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُمِّ سَلَمَةَ: مَنْ هذَا قَالَ، قَالَتْ: هذَا دِحْيَةُ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: ايْمُ اللهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلاَّ إِيَّاهُ، حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ جِبْرِيلَ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبریل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب سیدنا جبریل علیہ السلام چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟“ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام (کی آمد) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ سیدنا جبریل علیہ السلام تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1594]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
وضاحت: حضرت جبریل علیہ السلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں آنا مشہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ جس صورت میں چاہیں آ سکتے ہیں۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
821. باب من فضائل زينب أم المؤمنين رضی اللہ عنہ
باب: ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی خوبیاں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1595
1595 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا قَالَ: أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا فَعَلِمْنَا بَعْدُ، أَنَّمَا كَانَتْ طُولَ يَدِهَا الصَّدَّقَةُ، وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ، وَكَانَتْ تُحِبُ الصَّدَقَةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے ہم میں آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون جا کر ملے گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو گا۔“ اب ہم نے لکڑی سے ناپنا شروع کر دیا تو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سب سے لمبے ہاتھ والی نکلیں، ہم نے بعد میں (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفات پر) سمجھا کہ لمبے ہاتھ سے ہونے والی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صدقہ زیادہ کرنے والی تھی اور وہ ہم میں سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملیں، صدقہ کرنا انہیں بہت محبوب تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1595]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 11 باب أي الصدقة أفضل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
822. باب من فضائل أم سليم أم أنس بن مالك
باب: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1596
1596 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ بَيْتًا بِالْمَدِينَةِ، غَيْرَ بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ، إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ: إِنِّي أَرْحَمُهَا، قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں اپنی بیویوں کے سوا اور کسی کے گھر نہیں جایا کرتے تھے مگر ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”مجھے اس پر رحم آتا ہے، اس کا بھائی (حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ) میرے کام میں شہید کر دیا گیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 38 باب فضل من جهز غازيًا أو خلفه بخير»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
823. باب من فضائل عبد الله بن مسعود وأمه رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1597
1597 صحيح حديث أَبي مُوسى الأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: قَدِمْتُ، أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكثْنَا حِينًا مَا نُرَى إِلاَّ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کا (بکثرت) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 37 باب مناقب عبد الله بن مسعود رضي الله عنه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1598
1598 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ خَطَبَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَاللهِ لَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي مِنْ أَعْلَمِهِمْ بِكِتَابِ اللهِ، وَمَا أَنَا بِخَيْرِهِم قَالَ شَقِيقٌ (رَاوِي الْحَدِيثِ) : فَجَلَسْتُ فِي الْحِلَقِ أَسْمعُ مَا يَقُولُونَ، فَمَا سَمِعْتُ رَدًّا يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے ستر سے کچھ زائد سورتیں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر حاصل کی ہیں۔ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ان سب سے زیادہ قرآن مجید کا جاننے والا ہوں، حالانکہ میں ان سے بہتر نہیں ہوں۔ شقیق (راویِ حدیث) نے بیان کیا کہ پھر میں مجلس میں بیٹھا تاکہ صحابہ کی رائے سن سکوں کہ وہ کیا کہتے ہیں، لیکن میں نے کسی سے اس بات کی تردید نہیں سنی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1598]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 8 باب القراء من أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1599
1599 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لاَ إِلهَ غَيْرُهُ مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ مِنْ كِتَابِ اللهِ إِلاَّ وَأَنَا أَعْلَمُ أَيْنَ أُنْزِلَتْ وَلاَ أُنْزِلَتْ آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللهِ إِلاَّ وَأَنَا أَعْلَمُ فِيمَ أُنْزِلَتْ وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنِّي بِكِتَابِ اللهِ تُبَلِّغُهُ الإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: «وَالَّذِي لَا إِلٰهَ غَيْرُهُ» ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں“، کتاب اللہ کی جو سورت بھی نازل ہوئی ہے اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی اور کتاب اللہ کی جو آیت بھی نازل ہوئی اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے خبر ہو جائے کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا جاننے والا ہے اور اونٹ ہی اس کے پاس مجھے پہنچا سکتے ہیں (یعنی ان کا گھر بہت دور ہے) تب بھی میں سفر کر کے اس کے پاس جا کر اس سے اس علم کو حاصل کروں گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 8 باب القراء من أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں