🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب ما جاء في الأطعمة
کھانوں کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى شَاةً مَيْتَةً لِبَعْضِ أَزْوَاجِهِ، فَقَالَ: أَلا دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا فَانْتَفَعْتُمْ بِهَا" ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَكَانَ قَدْ سَمِعَهُ قَبْلَهُ بِأَرْبَعِينَ سَنَةً، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کی مردہ بکری دیکھی، تو فرمایا: آپ نے اس کے چمڑے کو دباغت کیوں نہیں کی کہ اس سے استفادہ کر لیتے؟ عمرو بن دینار نے چالیس سال پہلے عطاء سے یہ روایت سنی تھی، انہوں نے ابن عباس سے اور انہوں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہم سے بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 873]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 364»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 874
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَرْفَعُهُ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چمڑا دباغت کیا جائے، وہ پاک ہو جاتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 874]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 366»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 875
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ أَنْ تُفْتَرَشَ" .
سیدنا اسامہ بن عمیر ہذلی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کے چمڑے کو بچھونا بنانے سے منع کیا ہے (ان پر بیٹھا نہ جائے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 875]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 74/5، 75، سنن أبي داود: 4132، سنن النسائي: 4258، سنن الترمذي: 1770، امام حاکم رحمہ اللہ (148/1) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ المعجم الکبیر للطبرانی (192/1) میں سعید بن ابی عروبہ کی متابعت شعبہ نے کر رکھی ہے، السنن الکبریٰ للبیہقی (218) میں اس کا بسندِ حسن شاہد بھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْحَدَّادُ ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الإِبِلِ، وَأَلْيَاتِ الْغَنَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتٌ" ، قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قَدْ حَدَّثَ يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ.
سیدنا ابو واقد لیثی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے، تو وہاں کے لوگ (زندہ) اونٹوں کی کوہانیں اور بکریوں (دنبہ) کی چکلیاں کاٹ لیا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور کا جو حصہ کاٹا جائے، وہ حرام ہے۔ یحیی بن معین کہتے ہیں: یحیی قطان نے بھی عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار سے بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 876]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 218/5، سنن أبي داود: 2858، سنن الترمذي: 1480، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب اور امام حاکم رحمہ اللہ (239/4) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 877
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَكَرَ امْرَأَةً اتَّخَذَتْ خَاتَمًا، وَحَشَتْهُ أَطْيَبَ الطِّيبِ الْمِسْكَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا تذکرہ کیا، جس نے انگوٹھی بنوائی اور اس میں (نگینہ کی جگہ) عمدہ خوشبو یعنی مسک بھروائی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 877]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 2252/19»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 878
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ فِي سَرِيَّةٍ، فَنَفِدَ أَزْوَادُنَا، فَمَرَرْنَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْهُ فَنَهَانَا أَبُو عُبَيْدَةَ، ثُمَّ قَالَ: نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَكُلُوا، فَأَكَلْنَا مِنْهُ أَيَّامًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ بَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَابْعَثُوا بِهِ إِلَيْنَا" .
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا ابو عبیدہ کے ساتھ ایک سریہ (چھوٹے لشکر) میں بھیجا، ہمارا کھانا ختم ہو گیا، ہم ایک مچھلی کے پاس سے گزرے، جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، ہم نے اس میں سے کھانا چاہا، تو سیدنا ابوعبیدہ نے ہمیں منع کر دیا، پھر کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلے ہیں، لہذا اسے کھالیں، چنانچہ ہم کئی دنوں تک اسے کھاتے رہے، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے آپ کو اس کی اطلاع دی، آپ نے فرمایا: اگر آپ کے پاس اس کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے، تو ہمارے ہاں بھیجیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 878]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2483، صحیح مسلم: 1935»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 879
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ: ثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ: ثني إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ ، قَالَ أَحْمَدُ يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سُئِلَ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ، فَقَالَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلالُ مَيْتَتُهُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 879]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 373/3، سنن ابن ماجه: 388، سنن الدارقطني: 34/1، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (112) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1244) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 880
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، قَالَ: جِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ" .
ابو یعفور کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے ٹڈی دل کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں چھ جنگیں لڑی ہیں، ہم ٹڈیاں کھایا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 880]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 5495، صحیح مسلم: 1952»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 881
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَاضِرٌ ، قَالَ: ثنا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَتَى قَوْمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا نُؤْتَى بِاللَّحْمِ لا نَدْرِي يُسَمَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، أَوْ لَمْ يُسَمَّ، فَقَالَ: " اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے: ہمارے پاس گوشت لایا جاتا ہے، معلوم نہیں کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں لیا گیا (یعنی بسم اللہ اکبر پڑھا گیا یا نہیں)، تو ہم کیا کریں؟ فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھا لیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 881]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 5507»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 882
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ" .
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے مسلمانوں کا سب سے بڑا مجرم وہ ہے، جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق پوچھا، جو حرام نہیں تھی، تو اس کے سوال کی وجہ سے حرام کر دی گئی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 882]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 7289، صحیح مسلم: 2358»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں