🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. ما حفظت فيمن عبر من الفقهاء
وہ روایات جو مجھے فقہاء کے خوابوں کی تعبیر دینے کے بارے میں یاد ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31167 ترقیم الشثری: -- 32548
٣٢٥٤٨ - حدثنا اسباط بن محمد عن التيمي عن ابي عثمان عن سلمان قال: كان بين رؤيا يوسف وتاويلها (اربعون) (١) سنة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، ك]: (أربعين).
(٢) صحيح.

حضرت ابو عثمان حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32548]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32548، ترقيم محمد عوامة 31167)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31168 ترقیم الشثری: -- 32549
٣٢٥٤٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا عبد الله بن (عون) (١) عن إبراهيم قال: كانوا إذا راى احدهم ما يكره قال: اعوذ بما عاذت به ملائكة الله ورسوله من شر ما رايت في منامي ان يصيبني منه شيء اكرهه في الدنيا والآخرة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ط، ك]: (عمر).
حضرت عبد اللہ بن عون حضرت ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ جب سلف صالحین خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ میں پناہ چاہتا ہوں اس ذات کی جس کی پناہ میں ہے اللہ کے فرشتے اور اس کے رسول اور اس خواب کے شر سے جو میں نے دیکھا ہے، اس بات سے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں کوئی ایسا نقصان پہنچے جس کو میں ناپسند کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32549]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32549، ترقيم محمد عوامة 31168)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31169 ترقیم الشثری: -- 32550
٣٢٥٥٠ - حدثنا اسود بن عامر قال حدثنا بكير بن ابي (السميط) (١) قال: سمعت محمد بن سيرين (و) (٢) سئل عن رجل راى في المنام كان معه سيفا مخترطة، فقال: ولد ذكر، قال: اندق السيف، قال: يموت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (السمط).
(٢) سقط من: [ط، هـ].

بکییر بن ابی السُّمیط رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ اس کے پاس تلوار ہے جس کو وہ نیام سے باہر نکال رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مذکر اولاد ہے، اس آدمی نے کہا کہ پھر وہ تلوار ٹوٹ گئی، آپ نے فرمایا کہ وہ بچہ مرجائے گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے خواب میں پتھر دیکھنے کی تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ سخت دلی ہے، اور ان سے خواب میں لکڑی دیکھنے کی تعبیر پوچھی گئی تو فرمایا کہ نفاق ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32550]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32550، ترقيم محمد عوامة 31169)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32551
٣٢٥٥١ - قال: وسئل ابن سيرين عن الحجارة في النوم، فقال: قسوة.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32551، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32552
٣٢٥٥٢ - وسئل عن الخشب في النوم فقال: نفاق.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32552، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31170 ترقیم الشثری: -- 32553
٣٢٥٥٣ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: سئل عن رجل راى ⦗٩٧⦘ (ضوءا) (١) في جوف الليل فقال: لو كان هذا خيرا نظر (إليه) (٢) (اصحاب) (٣) محمد ﷺ.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (هو)، وفي [هـ]: (ضبعًا).
(٢) في [هـ]: (فيه).
(٣) في [ط]: (أصحابه).

حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے درمیانی شب میں روشنی دیکھی، آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بھلائی کی چیز ہوتی تو اس کو محمد 5 کے صحابہ ضرور دیکھتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32553]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32553، ترقيم محمد عوامة 31170)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31171 ترقیم الشثری: -- 32554
٣٢٥٥٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: (قال) (١) صلة بن اشيم: رايت في النوم كاني في رهط، (وكان رجلا) (٢) خلفي معه السيف شاهره، قال: كلما اتى على احد منا ضراب راسه فوقع، ثم يقعد فيعود كما كان، قال: فجعلت انظر (متى) (٣) ياتي علي فيصنع بي (ذاك) (٤) ، قال: فاتى علي فضرب راسي فوقع، فكاني انظر إلى راسي حين اخذته (انفض) (٥) عن (شفتي) (٦) التواب، ثم اخذته فاعدته كما كان.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (وكان رجل)
(٣) في [هـ]: (حين)، وفي [ط]: (حتى).
(٤) في [ك]: (ذلك).
(٥) في [ط]: (أنفد).
(٦) في [ط]: (شعبي)، وفي [هـ]: (شعري).

حضرت حمید بن ھلال صلہ بن أشیم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک جماعت کے درمیان ہوں اور میرے پیچھے ایک آدمی تلوار سونتے کھڑا ہے، جب بھی وہ ہم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اس کا سر قلم کردیتا ہے تو وہ سر گِر جاتا ہے، پھر وہ مقتول بیٹھ جاتا ہے اور پہلے کی طرح دوبارہ درست ہوجاتا ہے، فرماتے ہیں کہ میں انتظار کرنے لگا کہ میرے پاس کب آتا ہے اور میرے ساتھ کیا کرتا ہے؟ چناچہ وہ میرے پاس آیا اور میرے سر پر مارا تو میرا سر گرپڑا، گویا کہ میں اب بھی اپنے سر کو دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اپنا سر پکڑا اور میں اپنے ہونٹوں سے مٹی جھاڑ رہا تھا، پھر میں نے اپنا سر پکڑ کر پہلے کی طرح دوبارہ اس کی جگہ رکھ کر درست کرلیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32554]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32554، ترقيم محمد عوامة 31171)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31172 ترقیم الشثری: -- 32555
٣٢٥٥٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان عن حميد بن هلال قال: (قال) (١) صلة: رايت ابا رفاعة -بعد ما اصيب- في النوم على ناقة سريعة، وانا على جمل ثقال قطوف (٢) وانا آخذ على إثره قال: فيعوجها علي، فاقول: الآن اسمعه ⦗٩٨⦘ الصوت، (فسرحها) (٣) وانا اتبع اثره، قال: فاولت رؤياي اخذ طريق ابي رفاعة وانا اكد العمل بعده كدا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: زيادة (قال).
(٢) أي: بطئ متقارب الخطى.
(٣) في [ط]: (فعرجها)، وفي [هـ]: (فيسرجها)، وفي [ك]: (فيسرحها).

حضرت حمید بن ھلال سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے حضرت رفاعہ کو ان کے قتل ہونے کے بعد خواب میں دیکھا کہ ایک تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہیں اور میں ایک سست رفتار چھوٹے چھوٹے قدم رکھنے والے اونٹ پر سوار ہوں اور ان کے پیچھے پیچھے چلا جا رہا ہوں وہ میری طرف اونٹنی کو موڑ لیتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ اب میں ان کو آواز سنا سکتا ہوں، پھر انہوں نے اونٹنی کو چلا دیا ہے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں، فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے خواب کی یہ تعبیر لی کہ ابو رفاعہ کے راستہ پر چلوں گا اور میں ان کے بعد کام کرنے میں خوب کوشش کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32555]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32555، ترقيم محمد عوامة 31172)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31173 ترقیم الشثری: -- 32556
٣٢٥٥٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت ان ابا (ثامر) (١) راى فيما يرى النائم: ويل (للمتسمنات) (٢) من قترة في العظام يوم القيامة. [تم كتاب الرؤيا والحمد لله رب العالمين وصلى الله على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم] (٣)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ثامن)، تبعًا لخطأ مطبعي في تاريخ البخاري، انظر: الجرح والتعديل ٩/ ٣٥٢، والمقتنى ١/ ١٣٧.
(٢) في [جـ]: (للمسمنات)، وفي (هـ: (للمتسميات).
(٣) سقط من: [ز].

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ ابوثامر نے خواب میں دیکھا کہ ہلاکت ہے اپنے جسم کو موٹا کرنے والی عورتوں کے لیے قیامت کے بڑے بڑے کاموں میں کمزوری کی۔ تم کتاب الرؤیا والحمد للہ رب العالمین (و صلی اللہ علی رضی اللہ عنہ سیدنا محمد وآلہ وسلم) (کتاب الرؤیا مکمل ہوئی) (والحمد للہ رب العلمین) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرؤيا/حدیث: 32556]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32556، ترقيم محمد عوامة 31173)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں