صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
31. باب خُلِقَ الإِنْسَانُ خَلْقًا لاَ يَتَمَالَكُ:
باب: انسان اس طرح پیدا ہوا کہ اختیار نہیں رکھ سکتا۔
ترقیم عبدالباقی: 2611 ترقیم شاملہ: -- 6650
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
بہز نے کہا: ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6650]
امام صاحب اسی طرح کی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6650]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2611
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
32. باب النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْوَجْهِ:
باب: منہ پر مارنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2612 ترقیم شاملہ: -- 6651
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ ".
مغیرہ حزامی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی سے لڑے تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6651]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6651]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2612 ترقیم شاملہ: -- 6652
حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ.
ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: ”جب تم میں سے کوئی (دوسرے کو) مارے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6652]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں «قَاتَلَ» کی جگہ «ضَرَبَ» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6652]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2612 ترقیم شاملہ: -- 6653
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ ".
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے (پر مارنے) سے بچے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6653]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے (پر مارنے) سے بچاؤ کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6653]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2612 ترقیم شاملہ: -- 6654
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلَا يَلْطِمَنَّ الْوَجْهَ ".
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوایوب سے سنا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے چہرے پر طمانچہ نہ مارے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6654]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے پر طمانچہ بالکل نہ مارے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6654]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2612 ترقیم شاملہ: -- 6655
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ".
نصر بن علی جہضمی نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مثنیٰ (بن سعید) نے حدیث بیان کی، نیز مجھے محمد بن حاتم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے آدم کو اس کی صورت پر بنایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6655]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے سے اجتناب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6655]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2612 ترقیم شاملہ: -- 6656
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الْمَرَاغِيِّ وَهُوَ أَبُو أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ ".
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے ابوایوب یحییٰ بن مالک مراغی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6656]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑ پڑے تو چہرے سے پرہیز کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6656]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2612
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
33. باب الْوَعِيدِ الشَّدِيدِ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍّ:
باب: جو شخص لوگوں کو ناحق ستائے اس کا عذاب۔
ترقیم عبدالباقی: 2613 ترقیم شاملہ: -- 6657
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى أُنَاسٍ وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ، وَصُبَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الزَّيْتُ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قِيلَ: يُعَذَّبُونَ فِي الْخَرَاجِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ فِي الدُّنْيَا ".
حفص بن غیاث نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: شام میں ان کا کچھ لوگوں کے قریب سے گزر ہوا جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر زیتون کا تیل ڈالا گیا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ بتایا گیا: ان کو خراج (نہ دینے) کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے تو (حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنے کا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6657]
حضرت حکیم بن حزام کے بیٹے ہشام رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کا گزر شام میں کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو دھوپ میں کھڑے کیے گئے تھے اور ان کے سروں پر روغن زیتون ڈالا گیا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہیں بتایا گیا ہے انہیں خراج (نہ دینے) کی پاداش میں عذاب دیا جا رہا ہے، تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو (ناجائز) عذاب دیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6657]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2613
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2613 ترقیم شاملہ: -- 6658
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَّ هِشَامُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْبَاطِ بِالشَّامِ، قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُهُمْ؟ قَالُوا: حُبِسُوا فِي الْجِزْيَةِ، فَقَالَ هِشَامٌ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ".
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ شام کے چند نبطیوں (سامی قوم زمیندار لوگوں) کے قریب سے گزرے، انہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا، انہوں نے پوچھا: ان کا معاملہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: انہیں جزیے (کی ادائیگی کے معاملے) میں محبوس کیا گیا ہے، تو حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6658]
حضرت ہشام رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ (عروہ رحمۃ اللہ علیہ) سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا گزر شام کے کچھ کسانوں پر ہوا، انہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انہیں جزیہ (کی وصولی) کی خاطر روکا گیا ہے، چنانچہ حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6658]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2613
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2613 ترقیم شاملہ: -- 6659
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: وَأَمِيرُهُمْ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَخُلُّوا.
وکیع، ابومعاویہ اور جریر سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور جریر کی حدیث میں مزید یہ ہے، کہا: اور فلسطین پر ان دنوں ان لوگوں کا امیر عمیر بن سعد (انصاری) تھا تو وہ (ہشام رضی اللہ عنہ) ان کے پاس گئے، ان کو حدیث سنائی تو انہوں نے ان کے بارے میں حکم دیا، چنانچہ ان کو چھوڑ دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6659]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں، ہشام سے جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے، ان دنوں لوگوں کے فلسطین میں امیر حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ تھے، تو حضرت ہشام رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے ان کو چھوڑنے کا حکم دیا اور وہ چھوڑ دیے گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6659]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2613
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة