🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ:
باب:جھوٹ بولنا برا ہے اور سچ بولنا اچھا ہے، سچائی کی فضیلت جھوٹ کی مذمت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2607 ترقیم شاملہ: -- 6640
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ عِيسَى: وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ: حَتَّى يَكْتُبَهُ اللَّهُ.
ابن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ خبر دی، انہوں نے عیسیٰ کی روایت میں: صدق کا قصد کرتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ اور ابن مسہر کی روایت میں (اللہ کے نزدیک کے بجائے) حتیٰ کہ اللہ اس کو لکھ لیتا ہے کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6640]
امام صاحب یہی حدیث اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، عیسیٰ کی روایت میں «يَتَحَرَّى الصِّدْقَ» سچ کو اختیار کرتا ہے اور «وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ» جھوٹ کو اختیار کرتا ہے نہیں ہے اور ابن مسہر کی روایت میں ہے: «حَتَّى يَكْتُبَهُ اللهُ» حتی کہ اللہ اس کو لکھ دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6640]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2607
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شيء يَذْهَبُ الْغَضَبُ:
باب: غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پانے کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2608 ترقیم شاملہ: -- 6641
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، واللفظ لقتيبة، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْنَا: الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ، وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا، قَالَ: فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْنَا: الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، قَالَ: لَيْسَ بِذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ".
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے حارث بن سوید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے خیال میں رقوب کسے شمار کرتے ہو؟ ہم نے عرض کی: جس شخص کے بچے پیدا نہ ہوتے ہوں۔ آپ نے فرمایا: یہ رقوب نہیں ہے، بلکہ رقوب وہ شخص ہے جس نے (آخرت میں) کسی بچے کو آگے نہ بھیجا ہو۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے خیال میں پہلوان کسے سمجھتے ہو؟ ہم نے کہا: جس کو لوگ پچھاڑ نہ سکیں۔ آپ نے فرمایا: پہلوان وہ نہیں ہے، بلکہ پہلوان تو وہ شخص ہے جو غصے کے وقت خود پر قابورکھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6641]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے اندر «الرَّقُوبُ» (بے اولاد) کس کو سمجھتے ہو؟ ہم نے کہا: جس کی اولاد نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ «رَقُوب» نہیں ہے لیکن وہ شخص «رَقُوب» ہے جس نے اپنے آگے کسی بچہ کو نہ بھیجا ہو (قیامت کے دن اس کو آگے لینے کے لیے آئے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے اندر شہ زور (گرانے والا) کس کو سمجھتے ہو؟ ہم نے عرض کیا: جس کو کوئی پچھاڑ نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ طاقتور نہیں ہے بلکہ طاقت ور پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6641]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2608
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2608 ترقیم شاملہ: -- 6642
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ.
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6642]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6642]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2608
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2609 ترقیم شاملہ: -- 6643
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَا كِلَاهُمَا: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ".
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کوئی شخص) پچھاڑ دینے سے طاقت نہیں ہوتا۔ طاقتور (مضبوط) وہ ہے جو غصے کے وقت خود کو قابومیں رکھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6643]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاقتور مدمقابل کو پچھاڑ دینے والا نہیں ہے، طاقتور اور مضبوط تو بس وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6643]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2609
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2609 ترقیم شاملہ: -- 6644
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، قَالُوا: فَالشَّدِيدُ أَيُّمَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ".
زبیدی نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حمید بن عبدالرحمان نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: پچھاڑ دینے سے کوئی شخص طاقتور نہیں ہوتا۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر طاقت ور کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جو غصے کے وقت خود کو قابومیں رکھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6644]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: شہ زور وہ نہیں ہے جو بہت گرانے والا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: تو پھر شہ زور کون ہے؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6644]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2609
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2609 ترقیم شاملہ: -- 6645
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
معمر اور شعیب دونوں نے زہری سے خبر دی، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6645]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6645]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2609
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2610 ترقیم شاملہ: -- 6646
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، قَالَ: " اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَهَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ؟ قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: فَقَالَ: وَهَلْ تَرَى، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّجُلَ.
یحییٰ بن یحییٰ اور محمد بن علاء نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپس میں گالم گلوچ کیا، ان دو میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور گردن کی رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے کہہ دے تو وہ (غصے کی) جس کیفیت میں خود کو پا رہا ہے وہ جاتی رہے گی، (وہ کلمہ ہے): «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ۔ اس آدمی نے کہا: کیا آپ مجھ پر جنون طاری دیکھتے ہیں؟ ابن علاء کی روایت میں (صرف) اور کیا آپ دیکھتے ہیں کے الفاظ ہیں اور انہوں نے آدمی کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6646]
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گالی گلوچ کرنے لگے اور ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں اور رگیں پھولنے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک بول جانتا ہوں، اگر یہ وہ کہہ لے تو جو کیفیت یہ پا رہا ہے ختم ہو جائے گی، یہ کہے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» میں مردود شیطان سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ تو اس آدمی نے کہا: کیا آپ مجھے پاگل خیال کرتے ہیں؟ ابن العلاء کی روایت میں «هَلْ تَرَى» ہے اور «الرَّجُلُ» کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6646]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2610
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2610 ترقیم شاملہ: -- 6647
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ "، فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا؟ قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَمَجْنُونًا تَرَانِي؟.
ابواسامہ نے کہا: میں نے اعمش سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے عدی بن ثابت سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالم گلوچ کیا۔ ان میں سے ایک کو غصہ چڑھنا شروع ہو گیا اور اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی اور فرمایا: مجھے ایک کلمہ: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» کا پتہ ہے۔ اگر یہ شخص وہ (کلمہ) کہہ دے تو اس سے یہ (غصہ) جاتا رہے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ بات) سننے والوں میں سے ایک آدمی اٹھ کر اس شخص کی طرف گیا اور کہا: تمہیں پتہ ہے کہ ابھی ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ آپ نے فرمایا ہے: مجھے ایک ایسے کلمے: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» کا پتہ ہے۔ اگر یہ (شخص) وہ (کلمہ) کہہ دے تو اس سے یہ کیفیت جاتی رہے گی۔ اس شخص نے کہا: کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں جنون کا شکار ہو گیا ہوں؟ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6647]
حضرت سلیمان بن صُرَد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں میں تلخ کلامی اور تکرار ہوا، ان میں سے ایک غصہ میں لال پیلا ہو رہا تھا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیفیت کو دیکھ کر فرمایا: میں ایک کلمہ (بول) جانتا ہوں، اگر یہ وہ کلمہ کہہ لے تو اس کا غصہ فرو ہو جائے گا۔ یعنی «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔ تو ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر اس آدمی کے پاس گیا اور کہا: کیا تم جانتے ہو، ابھی ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا: میں ایک بول جانتا ہوں، اگر یہ (کلمہ) کہہ لے تو اس کی یہ کیفیت دور ہو جائے۔ «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔ تو اس آدمی نے اسے جواب دیا: کیا تم مجھے پاگل دیکھتے ہو؟ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6647]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2610
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2610 ترقیم شاملہ: -- 6648
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
حفص بن غیاث نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6648]
امام صاحب یہ روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6648]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2610
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. باب خُلِقَ الإِنْسَانُ خَلْقًا لاَ يَتَمَالَكُ:
باب: انسان اس طرح پیدا ہوا کہ اختیار نہیں رکھ سکتا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2611 ترقیم شاملہ: -- 6649
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ مَا هُوَ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ ".
یونس بن محمد نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی تو جب تک چاہا ان (کے جسد) کو وہاں رکھا۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ (جسم) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابونہیں رکھ سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6649]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت (پتلا) بنائی تو جب تک چاہا اسے اسی طرح چھوڑے رکھا، چنانچہ ابلیس اس کے گرد گھومنے لگا، دیکھتا تھا وہ کیا ہے؟ جب اس نے اسے اندر سے کھوکھلا اور پیٹ والا دیکھا تو سمجھ گیا کہ اسے ایسی بناوٹ دی گئی ہے کہ وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6649]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2611
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں