صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا:
باب: جانوروں اور ان کے علاوہ کو لعنت نہ کرنے کابیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2598 ترقیم شاملہ: -- 6610
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ بِأَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنَ اللَّيْلِ، فَدَعَا خَادِمَهُ فَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَعَنَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَتْ لَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ لَعَنْتَ خَادِمَكَ حِينَ دَعَوْتَهُ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے روایت کی کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو اپنی طرف سے گھر کا کچھ عمدہ سامان بھیجا، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات کو عبدالملک اٹھا، اس نے اپنے خادم کو آواز دی، غالباً اس نے دیر لگا دی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی، جب اس (عبدالملک) نے صبح کی تو حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رات کو سنا کہ جس وقت تم نے اپنے خادم کو بلایا تھا تو تم نے اس پر لعنت کی تھی، پھر وہ کہنے لگیں: میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ شفاعت کرنے والے ہوں گے، نہ گواہ بنیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6610]
زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ام الدرداء رحمہا اللہ کو اپنی طرف سے کچھ گھر کی آرائش کا سامان بھیجا (وہ اس کے ہاں مہمان تھیں)، پھر کسی رات کو عبدالملک اٹھا اور اپنے خادم کو آواز دی تو گویا اس نے آنے میں تاخیر کی، چنانچہ اس نے اس پر لعنت بھیجی، تو جب صبح ہوئی ام الدرداء رحمہا اللہ نے اسے کہا: میں نے رات تجھے سنا، تو نے جب اپنے خادم کو بلایا اس پر لعنت بھیجی، میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لعنت بھیجنا جن کی عادت ہے وہ قیامت کے دن سفارشی اور گواہ نہیں بن سکیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6610]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2598
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2598 ترقیم شاملہ: -- 6611
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ.
معمر نے زید بن اسلم سے اسی سند سے حفص بن میسرہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6611]
امام صاحب یہی روایت اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6611]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2598
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2598 ترقیم شاملہ: -- 6612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم اور ابوحازم سے روایت کی، انہوں نے ام درداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے روز نہ شہادت دینے والے ہوں گے اور نہ شفاعت کرنے والے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6612]
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”بہت زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے روز گواہ ہوں گے نہ سفارشی۔“ «اللَّعَّانِينَ» سے مقصد یہ ہے کہ دوسروں پر لعنت بھیجنا ان کا شیوہ اور عادت ہے، اگر کبھی کبھار یا ضرورت کے موقع اور محل پر یہ عمل سر زد ہو جائے تو وہ اس میں داخل نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6612]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2598
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2599 ترقیم شاملہ: -- 6613
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: اللہ کے رسول! مشرکین کے خلاف دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6613]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مشرکوں کے خلاف بددعا فرمائیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، مجھے تو بس رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6613]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2599
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
25. باب مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَبَّهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ أَهْلاً لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً:
باب: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی۔
ترقیم عبدالباقی: 2600 ترقیم شاملہ: -- 6614
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا، فَلَمَّا خَرَجَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ، قَالَ: وَمَا ذَاكِ، قَالَتْ: قُلْتُ: لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا، قَالَ: أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے، مجھے معلوم نہیں کس معاملے میں انہوں نے آپ سے گفتگو کی اور آپ کو ناراض کر دیا، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے عرض کی: کوئی شخص بھی جسے کوئی خیر ملی ہو (وہ) ان دونوں کو نہیں ملی۔ آپ نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ کہا: میں نے عرض کی: آپ نے ان کو لعنت کی اور برا کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے: اے اللہ! میں صرف بشر ہوں، لہذا میں جس مسلمان کو لعنت کروں یا برا کہوں تو اس (لعنت اور برا بھلا کہنے) کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصولِ اجر کا ذریعہ بنا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6614]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو آدمی حاضر ہوئے اور آپ سے کسی چیز کے بارے میں گفتگو کی، مجھے معلوم نہیں وہ کیا مسئلہ تھا تو آپ کو غصہ دلا دیا، چنانچہ آپ نے ان پر لعنت بھیجی اور سخت کلامی کی، تو جب وہ دونوں چلے گئے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور کسی کو تو خیر میسر آسکتی ہے یہ دونوں تو اس کو حاصل نہیں کر سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیوں؟“ میں نے کہا: آپ نے ان پر لعنت بھیجی ہے اور ان کو برا بھلا کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا طے کیا ہے، کیا شرط کی ہے؟ میں نے کہا ہے: «اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا» ”اے اللہ! میں صرف بشر ہوں (الہ نہیں ہوں) تو جس مسلمان پر میں لعنت بھیجوں یا اس کو برا بھلا کہوں تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور اجر کا باعث بنا دے۔““ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6614]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2600
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2600 ترقیم شاملہ: -- 6615
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وقَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَى: فَخَلَوَا بِهِ، فَسَبَّهُمَا، وَلَعَنَهُمَا، وَأَخْرَجَهُمَا.
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، اور عیسیٰ (بن یونس) کی حدیث میں کہا: وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں ملے تو آپ نے انہیں برا بھلا کہا، ان دونوں پر لعنت بھیجی اور ان کو نکال دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6615]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، عیسیٰ کی حدیث میں یہ ہے، ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خلوت میں بات کی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا بھلا کہا اور لعنت بھیجی اور ان کو نکلوا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6615]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2600
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً ".
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوصالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں صرف ایک بشر ہوں، اس لیے میں جس مسلمان کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اس کو کوڑے ماروں تو اسے اس کے لیے پاکیزگی (کا ذریعہ) اور رحمت بنا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6616]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً» ”اے اللہ! میں ایک بشر ہی ہوں (غصہ میں آ سکتا ہوں) تو جس مسلمان آدمی کو میں برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت بھیجوں، یا اس کو سزا دوں تو اس چیز کو اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔““ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6616]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2602 ترقیم شاملہ: -- 6617
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَكَاةً وَأَجْرًا.
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مانند روایت کی مگر اس میں ”پاکیزگی اور اجر“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6617]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، صرف یہ فرق ہے کہ اس میں «رَحْمَة» کی جگہ «أَجْر» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6617]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2602 ترقیم شاملہ: -- 6618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَى جَعَلَ وَأَجْرًا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَعَلَ وَرَحْمَةً فِي حَدِيثِ جَابِرٍ.
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے عبداللہ بن نمیر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، مگر عیسیٰ کی روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ”بنا دے“ اور ”اجر“ کے لفظ ہیں اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ”بنا دے“ اور ”رحمت“ کے لفظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6618]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، عیسیٰ رحمہ اللہ نے ”اجر“ کا لفظ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں کہا ہے اور ”رحمت“ کا لفظ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6618]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6619
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
مغیرہ بن عبدالرحمان حزامی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! میں تجھ سے عہد لیتا ہوں جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ میں ایک بشر ہی ہوں، میں جس کسی مومن کو تکلیف پہنچاؤں، اسے برا بھلا کہوں، اس پر لعنت کروں، اسے کوڑے ماروں تو ان تمام باتوں کو قیامت کے دن اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنا قرب عطا فرمائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6619]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ، أَوْ سَبَبْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً، تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے یہ عہد لیتا ہوں، تو میرے ساتھ اس کے خلاف نہیں کرے گا، میں ایک بشر ہی تو ہوں، اس لیے جس مومن کو میں نے اذیت دی ہے، اس کو سخت سست کہا ہے، اس پر لعنت بھیجی ہے، اس کو سزا دی ہے، تو اس کو اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے تو اسے قیامت کے روز تقرب بخشے۔““ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6619]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة