مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 31174 ترقیم الشثری: -- 32557
٣٢٥٥٧ - (١) (حدثنا) (٢) حسين بن علي قال: قال عبد الملك: دخل (شقيق) (٣) على الحجاج فقال: ما اسمك؟ قال: ما بعث إلي الامير حتى علم اسمي، قال: اريد ان استعين بك على بعض عملي، قال: فقال: (اما) (٤) إني (٥) اخاف (عليك) (٦) نفسي، (قال) (٧) : فاستعفاه فاعفاه، قال: فلما خرج من عنده قام وهو يقول: هكذا (فتعاشى) (٨) ، قال: فقال الحجاج: سددوا الشيخ، سددوا الشيخ.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م، ك] زيادة: (أبو بكر بن أبي شيبة قال: نا)
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ط، م]: (سفيان).
(٤) زيادة (أما) من: [جـ، م، ك].
(٥) زيادة (ما) من: [أ، ب، ط].
(٦) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٧) زيادة (قال) من: [جـ، م، ك].
(٨) أي: يخطئ الطريق، وفي [أ، ط، هـ]: (انبعاثنا)، وفي [م]: (يتغاشى)، وعند ابن عساكر ٢٣/ ١٨٢: (فتركت الباب وعمدت إلى الحائط)، وفي المجالسة ١/ ٤٦٢: (فمضيت فغفلت عن الباب يمنة).
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبد الملک نے فرمایا کہ شقیق رحمہ اللہ حجاج کے پاس تشریف لائے، حجاج نے کہا آپ کا نام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ امیر نے میرا نام جاننے سے پہلے مجھے نہیں بلایا، حجاج نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ سے اپنے بعض کاموں میں مدد لوں، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے تیرے پاس اپنی جان کا خوف ہے، چناچہ انہوں نے اس کے کام سے معذرت چاہی اور حجاج نے ان کی معذرت قبول کرلی، راوی فرماتے ہیں کہ جب وہ اس کے پاس سے نکلے تو کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ یہ اسی طرح بتکلف اندھا بنتا رہے گا، راوی کہتے ہیں کہ حجاج نے کہا: شیخ کو سیدھا کرو، شیخ کو سیدھا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32557]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32557، ترقيم محمد عوامة 31174)
ترقیم عوامۃ: 31175 ترقیم الشثری: -- 32558
٣٢٥٥٨ - حدثنا حسين بن علي عن (عبد الملك) (١) بن ابجر قال: بعث ابن ⦗١٠٠⦘ اوسط بالشعبي إلى الحجاج وكان عاملا على الري، قال: فادخل على ابن ابي مسلم وكان الذي بينه وبينه لطيفا، قال: (فعذله) (٢) ابن ابي مسلم وقال: إني مدخلك على الامير فإن ضحك في وجهك فلا تضحكن، قال: فادخل عليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من جميع النسخ.
(٢) في [أ، ط، هـ]: (فعزله).
حضرت ابن ابجر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن اوسط نے شعبی رحمہ اللہ کو حجاج کے پاس بھیجا جبکہ وہ ریّ کا گورنر تھا راوی فرماتے ہیں کہ ان کو ابن ابی مسلم کے پاس پہنچا یا گیا، ان دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات تھے، ابن ابی مسلم نے ان کو ملامت کی اور کہا کہ میں آپ کو امیر کے پاس پہنچاتا ہوں اگر امیر تیرے سامنے ہنسے تو تم مت ہنسنا، راوی کہتے ہیں اس کے بعد ان کو حجاج کے پاس پہنچایا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32558]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32558، ترقيم محمد عوامة 31175)
ترقیم عوامۃ: 31176 ترقیم الشثری: -- 32559
٣٢٥٥٩ - حدثنا حسين بن علي عن شيخ من النخع عن (جدته) (١) (قالت) (٢) : كان سعيد بن جبير (مستخفي) (٣) عند ابيك زمن الحجاج، فاخرجه ابوك في صندوق إلى مكة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (جدية).
(٢) في [أ، جـ، هـ]: (قال).
(٣) في [ب، ط]: (مستخف)، وفي [هـ]: (مستخفيًا).
قبیلہ نخع کے ایک بزرگ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے فرمایا کہ حجاج کے زمانے میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ تیرے باپ کے پاس روپوش تھے، آپ کے والد ان کو ایک صندوق میں ڈال کر مکہ مکرمہ لے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32559]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32559، ترقيم محمد عوامة 31176)
ترقیم عوامۃ: 31177 ترقیم الشثری: -- 32560
٣٢٥٦٠ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد قال: قال الوليد بن عقبة وهو يخطب: يا اهل الكوفة اعزم على من (سماني) (١) (اشعر بركا) (٢) لما قام، (فتحرج) (٣) عدي من (عزمته) (٤) فقام فقال له: إنه (لذو ندبة) (٥) الذي يقوم فيقول: انا الذي سميتك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سيماني).
(٢) في [ط، هـ]: (أسعر يركا)، والمراد كثير شعر الصدر، وانظر: نزهة الألباب في الألقاب ص ٧٦.
(٣) في [أ، هـ]: (فخرج).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (عرفته).
(٥) في [أ، ب، جـ، ط، ك، هـ]: بياض وفراغ، وكلمة غير واضحة في: [م].
حضرت محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ولید بن عقبہ نے خطبے کے دوران کہا اے اہل کوفہ! میں لازم کرتا ہوں اس شخص پر جس نے مجھے ”سینے کے گھنے بالوں والا“ کا نام دیا ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے، چناچہ اس کے اس لازم کرنے سے پریشان ہوگئے، اور اس کو کہا کہ جو آدمی کھڑا ہو کر یہ اقرار کرے گا کہ میں نے آپ کو یہ نام دیا ہے وہ قتل کردیا جائے گا، ابن عون فرماتے ہیں کہ عدی نے ہی اس کو یہ نام دیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32560]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32560، ترقيم محمد عوامة 31177)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32561
٣٢٥٦١ - قال (ابن) (١) عون: وكان هو الذي سماه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (إني).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32561، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 31178 ترقیم الشثری: -- 32562
٣٢٥٦٢ - حدثنا حسين (بن علي) (١) عن عبد الملك بن ابجر قال: كانوا يتكلمون، قال: فخرج علي مرة ومعه عقيل، (قال) (٢) : (ومع عقيل) (٣) كبش قال: (فقال) (٤) علي: (يعض) (٥) احدنا بذكره، قال: قال عقيل: اما انا وكبشي فلا (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة (ابن علي) من: [جـ، ك، م].
(٢) زيادة (قال) من: [جـ، ك، م].
(٣) سقط من: [أ، ح، ط].
(٤) في [أ، ط]: (فقام).
(٥) في [هـ]: (يقصر)، وفي [جـ]: (عض)، وفي [ح]: (يمص).
(٦) منقطع؛ عبد الملك بن سعيد بن أبجر لم يدرك عليًا.
عبد الملک بن ابجر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگ باتیں کر رہے تھے کہ اس دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ نکلے، ان کے ساتھ عقیل تھے اور عقیل کے ساتھ دنبہ تھا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم میں سے کسی کی برائی کی جا رہی ہے، حضرت عقیل نے فرمایا کہ میری اور میرے دنبہ کی تو بہرحال نہیں کی جا رہی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32562]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32562، ترقيم محمد عوامة 31178)
ترقیم عوامۃ: 31179 ترقیم الشثری: -- 32563
٣٢٥٦٣ - حدثنا (١) حسين بن علي عن مجمع قال: دخل عبد الرحمن بن ابي ليلى على الحجاج فقال لجلسائه: إذا اردتم ان تنظروا إلى رجل يسب امير المؤمنين عثمان فهذا عندكم -يعني عبد الرحمن (بن ابي ليلى قال) (٢) : فقال (عبد الرحمن) (٣) : معاذ الله ايها الامير ان اكون اسب عثمان، إنه ليحجزني عن ذلك (٤) آيات في كتاب الله، قال الله: ﴿للفقراء المهاجرين الذين اخرجوا من ديارهم واموالهم يبتغون فضلا من الله ورضوانا وينصرون الله ورسوله اولئك هم الصادقون﴾ قال: فكان عثمان منهم، قال: ثم قال: ﴿والذين تبوءوا الدار والإيمان من قبلهم﴾ فكان ابي منهم، ﴿والذين جاءوا من بعدهم يقولون ربنا اغفر لنا ولإخواننا الذين سبقونا بالإيمان﴾ [الحشر: ٨، ٩، ١٠] ، فكنت منهم، قال: صدقت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، م]: (قال ثنا أبو بكر قال: نا).
(٢) في [جـ، ك، م]: سقطت.
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [م]: زيادة (ثلاث).
حضرت مجمع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن ابی لیلی رحمہ اللہ حجّاج کے پاس تشریف لائے تو حجاج نے اپنے ہم نشینوں سے کہا کہ اگر تم چاہو کہ اس آدمی کو دیکھ لو جو حضرت امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو گالی دیتا ہے تو یہ عبد الرحمن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو، حضرت عبد الرحمن رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اے امیر! میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہوں، مجھے اس بات سے کتاب اللہ کی تین آیتیں روکتی ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِینَ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَئِکَ ہُمَ الصَّادِقُونَ } (ان ہجرت کرنے والے فقراء کے لیے جن کو ان کے شہروں اور اموال سے بےدخل کردیا گیا، وہ تلاش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضاء، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، وہی لوگ سچے ہیں) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں سے تھے، پھر آپ نے پڑھا { وَالَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ } (اور وہ لوگ جنہوں نے ان سے پہلے جگہ پکڑی گھر میں اور ایمان میں) میرے والد ان لوگوں میں سے تھے۔ { وَالَّذِینَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلاِِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالإِیمَانِ } (اور ان لوگوں کے لیے جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری بخشش فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان لائے) میں ان لوگوں میں سے ہوں، حجاج نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32563]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32563، ترقيم محمد عوامة 31179)
ترقیم عوامۃ: 31180 ترقیم الشثری: -- 32564
٣٢٥٦٤ - حدثنا حسين بن علي عن ابن وهب عن عطاء بن السائب قال: قال لي ابو جعفر (١) محمد بن علي: ممن انت؟ قال: قلت: من قوم يبغضهم الناس، من ثقيف.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: زيادة (عن).
عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم کن لوگوں میں سے ہو؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ان لوگوں میں سے جن سے لوگ نفرت کرتے ہیں، یعنی ثقیف سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32564]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32564، ترقيم محمد عوامة 31180)
ترقیم عوامۃ: 31181 ترقیم الشثری: -- 32565
٣٢٥٦٥ - حدثنا حسين بن علي عن ابي موسى قال: قال المغيرة بن شعبة لعلي: اكتب إلى هذين الرجلين بعهدهما إلى الكوفة والبصرة -يعني الزبير وطلحة، (واكتب) (١) إلى معاوية بعهده إلى الشام فإنه سيرضى منك بذلك، قال: قال علي: لم اكن (لاعطي) (٢) (الدنية) (٣) في ديني، قال: فلما (٤) كان بعد لقي المغيرة معاوية فقال له معاوية: انت صاحب الكلمة؟ قال: نعم، (قال) (٥) : ام والله ما وقى شرها إلا الله (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (وكتب)، وسقطت من: [ك].
(٢) في [ك]: (لا أعطي)، وفي [أ، هـ]: (أعطي).
(٣) في [أ، هـ]: (الريبة).
(٤) في [جـ، م، ك]: زيادة (أن).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٦) منقطع؛ أبو موسى إسرائيل بن موسى البصري لم يدرك عليًا ولا المغيرة.
حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ان دو آدمیوں یعنی زبیر رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ اور بصرہ کی ولایت لکھ دو اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کی ولایت لکھ دو، اس طرح وہ آپ سے راضی ہوجائیں گے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنے دین میں گھٹیا کام کرنے والا نہیں ہوں، راوی کہتے ہیں کہ بعد میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بات کہنے والے آپ ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا بخدا اس بات کے شر سے اللہ کے سوا کوئی نہیں بچا سکا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32565]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32565، ترقيم محمد عوامة 31181)
ترقیم عوامۃ: 31182 ترقیم الشثری: -- 32566
٣٢٥٦٦ - حدثنا حسين بن علي عن ابي موسى قال: كتب زياد إلى عائشة ام المؤمنين: من زياد بن ابي سفيان، رجاء ان تكتب إليه ابن ابي سفيان قال: فكتبت من عائشة ام المؤمنين إلى زياد ابنها (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ أبو موسى لم يدرك عائشة ولا زيادًا.
حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زیاد نے حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اس طرح خط لکھا: ”زیاد بن ابی سفیان کی طرف سے …“، اس امید پر کہ وہ بھی اس کو ”ابن ابی سفیان“ لکھیں گے، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے جواب میں لکھا، ”ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اس کے بیٹے زیاد کی طرف“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32566]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32566، ترقيم محمد عوامة 31182)