🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32577
٣٢٥٧٧ - وزاد فيه ابن بشر هل الدنيا إلا ما عرفنا (و) (١) جربنا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (أو).
(٢) صحيح.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32577، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31193 ترقیم الشثری: -- 32578
٣٢٥٧٨ - حدثنا وكيع عن موسى (بن) (١) قيس (قال: حدثني قيس) (٢) بن رمانة عن ابي بردة قال: قال معاوية: ما قاتلت عليا (إلا) (٣) في امر عثمان (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) سقط من: [ك].
(٤) مجهول؛ لجهالة قيس بن رمانة.

حضرت ابو بردہ رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی وجہ سے لڑا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32578]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32578، ترقيم محمد عوامة 31193)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31194 ترقیم الشثری: -- 32579
٣٢٥٧٩ - حدثنا حفص عن مجالد عن الشعبي قال: دخل شاب من قريش على معاوية فاغلظ له فقال له: يا ابن اخي انهاك عن السلطان، إن السلطان يغضب ⦗١٠٦⦘ غضب الصبي وياخذ اخذ الاسد (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف مجالد.
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قریش کا ایک جوان حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے سخت کلامی کی، حضرت رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اے بھتیجے! میں تجھے بادشاہ کے پاس جانے سے منع کرتا ہوں، بیشک بادشاہ بچے کی طرح غصّے میں آتا ہے اور شیر کی طرح پکڑ کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32579]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32579، ترقيم محمد عوامة 31194)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31195 ترقیم الشثری: -- 32580
٣٢٥٨٠ - حدثنا عبد الله بن نمير عن (مجالد) (١) عن الشعبي قال: قال زياد: ما غلبني امير المؤمنين بشيء من السياسة إلا بباب واحد، استعملت فلانا (فكسر) (٢) خراجه فخشي ان اعاقبه، ففر (إلى) (٣) امير المؤمنين (فكتبت) (٤) إليه: ان هذا ادب سوء لمن (قبلي) (٥) ، فكتب إلي: انه ليس ينبغي لي و (٦) لك ان (نسوس) (٧) الناس سياسة واحدة، ان نلين جميعا (فيمرج) (٨) الناس في المعصية، ولا ان (نشتد) (٩) جميعا فنحمل الناس على المهالك، ولكن تكون للشدة (والفظاظة) (١٠) (والغلظة) (١١) واكون (انا) (١٢) (اللين) (١٣) والرافة والرحمة (١٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، م]: (المجالد).
(٢) في [هـ]: (فكثر)، وفي [أ]: (فكيسر)، وفي [ط]: (فيكسر).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (فكتب).
(٥) في [ك]: (قبلني).
(٦) في [هـ]: زيادة (لا).
(٧) في [ط]: (تسوس).
(٨) في [أ، ط، هـ]: (فتمرح).
(٩) في [أ، ط، هـ]: (نشد).
(١٠) في [ب، جـ، ط]: (الغضاضة).
(١١) ى (والغلظة) زيادة من: [ك].
(١٢) زيادة (أنا) في: [جـ، ك، م].
(١٣) في [أ، ب، ط]: (باللين).
(١٤) ضعيف؛ لضعف مجالد.

حضرت شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زیاد نے کہا کہ امیر المؤمنین سیاست کے کسی باب میں مجھ پر غالب نہیں ہوئے سوائے ایک باب کے، میں نے ایک آدمی کو ایک علاقے کا عامل بنایا اس نے اس کی آمدنی کم کردی، اس کو میری سرزنش کا خوف ہوا تو وہ امیر المؤمنین کی طرف بھاگا، میں نے ان کی طرف لکھا کہ یہ کام پہلے لوگوں کے طرز عمل کے خلاف ہے، انہوں نے میری طرف لکھا کہ میرے اور تمہارے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم لوگوں سے ایک جیسی سیاست روا رکھیں، اگر ہم سب کے لئے نرم پڑجائیں گے تو سب گناہوں میں پڑجائیں گے، اور اگر ہم سب کے لئے سخت طبیعت ہوجائیں گے تو یہ ہلاکت کے راستوں پر لوگوں کو چلانا ہوگا، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم سختی و درشتی اور سخت طبعی کے لئے مناسب ہو اور میں نرمی، محبت اور رحمت کے لیے مناسب ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32580]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32580، ترقيم محمد عوامة 31195)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31196 ترقیم الشثری: -- 32581
٣٢٥٨١ - حدثنا ابو اسامة قال: اخبرنا مجالد قال: اخبرنا عامر قال: سمعت معاوية يقول: ما تفرقت امة قط إلا (اظهر الله) (١) اهل الباطل على اهل الحق، إلا هذه الامة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، م]: (ظهر).
(٢) ضعيف؛ لضعف مجالد.

حضرت عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ کسی بھی امت کی تفرقہ بازی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل باطل اہل حق پر غالب آگئے، سوائے اس امت کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32581]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32581، ترقيم محمد عوامة 31196)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31197 ترقیم الشثری: -- 32582
٣٢٥٨٢ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن سعيد بن سويد قال: صلى بنا معاوية الجمعة بالنخيلة في الضحى، ثم خطبنا فقال: ما قاتلتكم لتصلوا ولا لتصوموا ولا لتحجوا ولا لتزكوا، وقد اعرف انكم (تفعلون) (١) ذلك، ولكن إنما قاتلتكم (لاتامر) (٢) عليكم، (وقد) (٣) اعطاني الله ذلك وانتم (له) (٤) كارهون (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (تفعلوا).
(٢) في [جـ]: (للآمر).
(٣) في [جـ، ك، م]: (فقد).
(٤) سقط من: [جـ، ك، م].
(٥) ضعيف؛ لضعف سعيد بن سويد، قال البخاري في التاريخ ٣/ ٤٧٧ عن سعيد بن سويد: "لا يتابع عليه".

حضرت سعید بن سوید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نخیلہ کے مقام پر زوال کے وقت جمعہ پڑھایا پھر ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ میں نے تم سے اس لیے قتال نہیں کیا کہ تم نماز پڑھنے لگو نہ اس لئے کہ تم روزے رکھنے لگو، نہ اس لئے کہ تم حج کرنے لگو، اور نہ اس لئے کہ تم زکوٰۃ ادا کرنے لگو، میں خوب جانتا ہوں کہ تم یہ سب کام کرتے ہو، میں نے تم سے اس لئے قتال کیا تاکہ میں تم پر حکومت کروں، پس اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اختیاردے دیا ہے اور تم اس کو ناپسند کرتے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32582]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32582، ترقيم محمد عوامة 31197)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31198 ترقیم الشثری: -- 32583
٣٢٥٨٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن حبيب عن (هزيل) (١) بن شرحبيل قال: خطبهم معاوية فقال: ايها الناس إنكم (جئتم فبايعتموني) (٢) طائعين، ولو بايعتم عبدا حبشيا مجدعا لجئت حتى ابايعه معكم، قال: فلما نزل ⦗١٠٨⦘ عن المنبر قال له عمرو بن العاص: تدري اي شيء جئت به اليوم؟ زعمت ان الناس (بايعوك) (٣) طائعين، ولو بايعوا عبدا حبشيا مجدعا لجئت حتى تبايعه معهم، قال: (فقام) (٤) (فعاد) (٥) إلى المنبر (٦) فقال: ايها الناس وهل كان احد احق بهذا الامر مني (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (هذيل).
(٢) في [جـ]: (جئتم فيما بايعتموني)، وفي [أ، ب، ط]: (فيما بايعتموني)، وفي [هـ]: (قيما بايعتموني).
(٣) في [ط]: (بايعوا).
(٤) في [ك، م]: (فقدم).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (معاوية).
(٦) في [جـ، م]: زيادة (قال).
(٧) صحيح.

حضرت ھزیل بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو! تم لوگ آئے اور تم نے میرے ہاتھ پر خوش دلی کے ساتھ بیعت کرلی، اور اگر تم کسی کان ناک کٹے ہوئے حبشی غلام کے ہاتھ پر بھی بیعت کرلیتے تو میں بھی تمہارے ساتھ اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے جاتا، راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ منبر سے اترے تو ان سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ تم نے آج کیا کام کیا ہے؟ تم یہ گمان کرتے ہو کہ لوگوں نے تمہارے ہاتھ پر خوش دلی کے ساتھ بیعت کی ہے، اور اگر وہ کسی کان ناک کٹے ہوئے حبشی غلام کے ہاتھ بیعت کرلیتے تو تم بھی ان کے ساتھ بیعت کرنے کے لئے جاتے، راوی فرماتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ اے لوگو! کیا اس کام کا مجھ سے زیادہ حق دار بھی کوئی اور شخص ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32583]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32583، ترقيم محمد عوامة 31198)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31199 ترقیم الشثری: -- 32584
٣٢٥٨٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن هشام بن عروة عن ابيه قال: قال معاوية: لا حلم إلا التجارب (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حلم تجربوں ہی کا نام ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32584]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32584، ترقيم محمد عوامة 31199)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31200 ترقیم الشثری: -- 32585
٣٢٥٨٥ - حدثنا (زيد) (١) بن الحباب عن حسين بن واقد قال: حدثني عبد الله بن بريدة ان (حسن) (٢) بن علي دخل علي معاوية فقال: لاجيزنك يحائزة لم اجز بها احدا قبلك، ولا اجيز بها احدا بعدك من العرب فاجازه باربعمائة (الف) (٣) فقبلها (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك، م]: (حسين).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط].
(٤) حسن؛ الحسين بن واقد صدوق، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٤٩٩)، وفيه الحسن، وقد نسبت إلى الحسن في مرقاة المفاتيح ١١/ ٣٠٠، وسير أعلام النبلاء ٣/ ٢٦٩، وذخائر العقبى ص ١٤٠.

حضرت عبد اللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں آج آپ کو ایسا تحفہ دیتا ہوں جو میں نے آپ سے پہلے کسی کو نہیں دیا اور عرب میں سے آپ کے بعد میں کسی کو ایسا تحفہ نہیں دوں گا، چناچہ یہ کہہ کر آپ نے ان کو چار لاکھ عطا فرمائے، اور انہوں نے ان کو قبول فرما لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32585]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32585، ترقيم محمد عوامة 31200)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31201 ترقیم الشثری: -- 32586
٣٢٥٨٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن حسين بن واقد قال: حدثنا عبد الله بن بريدة (قال) (١) : (دخلت) (٢) انا وابي على معاوية فاجلس ابي على السرير واتى بالطعام (فاطعمنا) (٣) واتى بشراب فشرب، فقال معاوية: ما شيء كنت استلذه وانا شاب فآخذه اليوم إلا اللبن، فإني آخذه كما كنت (آخذه) (٤) قبل اليوم، والحديث الحسن (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (قال: قال).
(٢) في [ك]: (دخلنا).
(٣) في [ك، م]: (فطعمنا).
(٤) في [ط]: (آخذ).
(٥) حسن؛ حسين صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٩٤١)، وابن عساكر ٢٧/ ١٢٧.

حضرت عبد اللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد ماجد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے میرے والد کو تخت پر بٹھا لیا، پھر کھانا لایا گیا اور ہم نے کھالیا پھر مشروب لایا گیا، ہم نے پی لیا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو جوانی میں مجھے لذیذ لگتی تھی اور اب میں اس کو لے لیتا ہوں سوائے دودھ اور اچھی بات کے، کہ میں اب بھی انہیں لیتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32586]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32586، ترقيم محمد عوامة 31201)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں