مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
ترقیم عوامۃ: 31212 ترقیم الشثری: -- 32597
٣٢٥٩٧ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي قال: حدثني ابي قال: قال علي: والذي فلق (الحبة) (١) وبرا النسمة لازالة الجبال من مكانها اهون من إزالة ملك مؤجل (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الجنة).
(٢) منقطع؛ محمد بن عمر لم يدرك عليًا.
حضرت محمد بن عمر بن علی رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا اور جان دار کو پیدا کیا کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ٹلانا آسان ہے طے شدہ بادشاہت کو ٹلانے سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32597]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32597، ترقيم محمد عوامة 31212)
ترقیم عوامۃ: 31213 ترقیم الشثری: -- 32598
٣٢٥٩٨ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن سماك بن سلمة عن عبد الرحمن بن (عصمة) (١) قال: كنت عند عائشة فاتاها رسول من معاوية بهدية فقال: ارسل بهذا امير المؤمنين، فقبلت هديته، فلما خرج الرسول قلنا: (يا) (٢) ام المؤمنين، السنا مؤمنين وهو اميرنا؟ قالت: انتم إن شاء الله المؤمنون وهو اميركم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (عطية)؛ وانظر: ما تقدم ١/ ٢٩١ برقم [٣٢٣٩١].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن عصمة.
حضرت عبد الرحمن بن عصمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، ان کے پاس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک قاصد ہدیہ لے کر آیا اور اس نے کہا کہ یہ چیز امیر المؤمنین نے بھیجی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو قبول فرما لیا، جب قاصد نکل گیا تو ہم نے عرض کیا! اے اُمّ المؤمنین کیا ہم مؤمنین نہیں ہیں اور وہ ہمارے امیر ہیں؟ ّآپ نے جواب دیا کہ تم ان شاء اللہ مؤمن ہو اور وہ تمہارے امیر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32598]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32598، ترقيم محمد عوامة 31213)
ترقیم عوامۃ: 31214 ترقیم الشثری: -- 32599
٣٢٥٩٩ - حدثنا جرير عن المغيرة عن عثمان بن يسار عن تميم بن (حذلم) (١) قال: إن اول يوم سلم على امير بالكوفة بالإمرة (قال: خرج المغيرة بن شعبة من القصر فعرض له رجل من كنده، فسلم عليه بالإمرة) (٢) فقال: (ما) (٣) هذا؟ ما انا إلا رجل منهم، فتركت زمانا ثم اقرها بعد (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (حزيم)، وفي [أ، ط، هـ]: (حذيم).
(٢) سقط من: [أ، ب، ح، ط، هـ].
(٣) في [ط]: (يا).
(٤) حسن؛ عثمان بن يسار صدوق.
حضرت تمیم بن حزلم فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ کوفہ کے کسی امیر کو امیر کہہ کر سلام کرنے کا قصہ یوں پیش آیا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہاپنے محل سے نکلے تو ان کے پاس قبیلہ کندہ کا ایک آدمی آیا اس نے ان کو امیر کہہ کر سلام کیا، انہوں نے فرمایا یہ کیا ہے؟ میں تو عام لوگوں کا ایک فرد ہوں، چناچہ اس لقب کو ایک عرصے تک چھوڑا گیا، پھر بعد میں اس کو شامل کرلیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32599]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32599، ترقيم محمد عوامة 31214)
ترقیم عوامۃ: 31215 ترقیم الشثری: -- 32600
٣٢٦٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن المنكدر قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: دخلت على الحجاج فلم اسلم عليه (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ میں حجّاج کے پاس گیا اور میں نے اس کو سلام نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32600]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32600، ترقيم محمد عوامة 31215)
ترقیم عوامۃ: 31216 ترقیم الشثری: -- 32601
٣٢٦٠١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن المنكدر قال: بلغ ابن عمر ان يزيد بن معاوية بويع له، (فقال) (١) : إن كان خيرا رضينا، وإن كان شرا صبرنا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك، م]: (قال).
(٢) صحيح.
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ پیغام پہنچا کہ یزید بن معاویہ کے لئے بیعت لی جا رہی ہے آپ نے فرمایا اگر یہ خیر ہوئی تو ہم راضی ہوجائیں گے اور اگر یہ شر ہوا تو ہم صبرکریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32601]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32601، ترقيم محمد عوامة 31216)
ترقیم عوامۃ: 31217 ترقیم الشثری: -- 32602
٣٢٦٠٢ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: شهدت عبد الله ابن مسعود جاء (يتقاضى) (١) سعدا دراهم اسلفها إياه من بيت المال، فقال: رد هذا المال، فقال سعد: اظنك لاقيا شرا، قال: رد هذا المال، قال: فقال سعد: هل انت (٢) ابن مسعود (إلا) (٣) عبد من هذيل، قال: فقال عبد الله: هل انت إلا ابن (حمينة) (٤) ، قال: فقال ابن اخي سعد: (اجل) (٥) ، إنكما (لصاحبا) (٦) رسول الله ﷺ، ينظر الناس إليكما، فرفع سعد يديه يقول: اللهم رب السماوات والارض، فقال ابن مسعود: ويحك، قل قولا (و) (٧) لا تلعن، قال: (فقال) (٨) سعد: (ام) (٩) والله ان لولا مخافة الله لدعوت عليك دعوة لا تخطئك، قال: فانصرف عبد الله كما هو (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (نتقاضى).
(٢) في [هـ]: زيادة (إلا).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (حمنة)، وهي أم سعد.
(٥) في [ط، هـ]: (أجد).
(٦) في [أ]: (صاحبا).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [ط]: (فقام).
(٩) في [ك، هـ]: (أما).
(١٠) صحيح.
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ان دراہم کا تقاضا کر رہے ہیں جو انہوں نے ان کو بیت المال سے قرض دیے تھے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں برا ملاقاتی سمجھتا ہوں۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ مال لوٹاؤ، انہوں نے فرمایا اے ابن مسعود! کیا تم قبیلہ ہذیل کے ایک غلام نہیں ہو؟ راوی فرماتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تم حُمَینہ کے بیٹے نہیں ہو؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بھتیجے نے فرمایا کہ بیشک تم دونوں البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو لوگ تمہیں دیکھتے ہیں، چناچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھا لیے ”اے اللہ! جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے“ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے جو چاہو کہو لیکن لعنت نہ کرنا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں تم پر ایسی بد دعا کرتا جو تم سے خطا نہ کھاتی، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے آئے تھے ایسے چل دیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32602]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32602، ترقيم محمد عوامة 31217)
ترقیم عوامۃ: 31218 ترقیم الشثری: -- 32603
٣٢٦٠٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل عن زياد قال: لما اراد عثمان ان يجلد الوليد قال لطلحة: قم فاجلده، قال: إني لم اكن من الجلادين، فقام إليه علي فجلده، فجعل الوليد يقول لعلي: (انا) (١) صاحب مكينة، قال: ⦗١١٦⦘ قلت لزياد: وما صاحب مكينة؟ قال: امراة كان يتحدث (إليها) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (أيا).
(٢) في [هـ]: (بها).
(٣) منقطع؛ زياد بن أبي زياد المخزومي المدني لم يدرك عثمان.
زیاد راوی ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ولید کو کوڑے مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت طلحہ سے فرمایا کہ کھڑے ہو کر ان کو کوڑے مارو، وہ کہنے لگے میں کوڑے مارنے والا نہیں ہوں، چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کو کوڑے لگائے تو ولید کہنے لگا کہ میں مکینہ کا ساتھی ہوں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے زیاد سے پوچھا کہ مکینہ کے ساتھی کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مکینہ ایک عورت تھی جس سے وہ باتیں کیا کرتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32603]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32603، ترقيم محمد عوامة 31218)
ترقیم عوامۃ: 31219 ترقیم الشثری: -- 32604
٣٢٦٠٤ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: كان مروان مع طلحة يوم الجمل، فلما (اشتبكت) (١) الحرب قال مروان: لا اطلب بثاري بعد اليوم، قال: ثم رماه بسهم فاصاب ركبته فما رقا الدم حتى مات، قال: وقال طلحة: دعوه، فإنه سهم ارسله الله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (اشتكت).
(٢) صحيح.
حضرت قیس روایت کرتے ہیں کہ جمل کے قصّے میں مروان حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب جنگ شعلہ پذیر ہوئی تو مروان نے کہا کہ میں اپنا خون بہا آج کے بعد طلب نہیں کروں گا، راوی کہتے ہیں کہ پھر اس نے ان کو ایک تیرمارا جو ان کے گھٹنے پر لگا، پس خون نہیں رکا، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ تیر اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32604]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32604، ترقيم محمد عوامة 31219)
ترقیم عوامۃ: 31220 ترقیم الشثری: -- 32605
٣٢٦٠٥ - حدثنا ابن علية عن (١) عيينة عن ابيه قال: لقي (ابو بكرة) (٢) المغيرة بن شعبة (يوما) (٣) نصف النهار وهو (متقنع) (٤) ، فقال: اين تريد؟ (فقال) (٥) : اريد حاجة، قال: إن الامير يزار، ولا يزور (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، ك، هـ]: زيادة (ابن)، وانظر: العلل لأحمد ٢/ ٤٠٧.
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (أبو بكر).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط]: (قوم)، وفي [ك]: (يوم)، وفي [هـ]: (بقوم).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (مقنع).
(٥) في [جـ، ك، م]: (قال).
(٦) صحيح.
حضرت عیینہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہایک دن نصف النھار کے وقت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو ملے جبکہ انہوں نے سر پر کپڑا ڈال رکھا تھا، حضرت ابو بکرہ نے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے فرمایا میں ایک ضرورت سے جار ہا ہوں، آپ نے فرمایا کہ امیر کے پاس حاضر ہوا جاتا ہے خود امیر کسی کے پاس نہیں جاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32605]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32605، ترقيم محمد عوامة 31220)
ترقیم عوامۃ: 31221 ترقیم الشثری: -- 32606
٣٢٦٠٦ - حدثنا علي بن مسهر عن هشام بن عروة قال: بلغني ان المغيرة بن شعبة ولي الموسم فبلغه ان اميرا (يقدم) (١) عليه فقدم يوم عرفة، فجعله يوم الاضحى (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (تقدم).
(٢) منقطع؛ هشام بن عروة لم يدرك ذلك.
ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ حج کے امیر بنے، ان کو یہ پیغام ملا کہ ان کے پاس امیر تشریف لا رہے ہیں، چناچہ وہ ان کے پاس عرفہ کے دن تشریف لائے تو انہوں نے خوشی میں اس کو عید کا دن بنا لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32606]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32606، ترقيم محمد عوامة 31221)