🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ما ذكر من حديث الأمراء والدخول عليهم
وہ روایات جو امراء کی باتوں اور ان کے درباروں میں داخل ہونے کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31183 ترقیم الشثری: -- 32567
٣٢٥٦٧ - حدثنا حسين بن علي عن الوليد بن علي عن زيد بن اسلم قال: ما ⦗١٠٣⦘ جالست في اهل بيته مثله -يعني (علي بن الحسين) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (الحسن).
(٢) تأخر هذا الخبر عن الذي يليه في: [ط، هـ].

حضرت ابن اسلم سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں علی رضی اللہ عنہ بن حسین جیسے کسی شخص کے پاس نہیں بیٹھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32567]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32567، ترقيم محمد عوامة 31183)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31184 ترقیم الشثری: -- 32568
٣٢٥٦٨ - حدثنا حسين بن علي عن ابي موسى قال: قال رجل للحسن: يا ابا سعيد، والله ما اراك تلحن، قال: (١) ابن اخي قد سبقت اللحن.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: زيادة (يا).
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت حسن سے کہا کہ اے ابو سعید! خدا کی قسم میں آپ کو کلام میں غلطی کرتا ہوا نہیں دیکھتا، انہوں نے فرمایا کہ اے میرے بھتیجے! میں کلام کی غلطی سے آگے گزر گیا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32568]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32568، ترقيم محمد عوامة 31184)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31185 ترقیم الشثری: -- 32569
٣٢٥٦٩ - حدثنا حسين بن علي عن (زائدة) (١) عن عبد الرحمن بن الاصبهاني قال: حدثني عبد الله بن شداد قال: قال لي ابن عباس: الا اعجبك، قال: إني يوما في المنزل وقد اخذت مضجعي للقائلة (إذ) (٢) قيل رجل (بالباب) (٣) ، قال: [قلت: ما جاء هذا هذه الساعة إلا لحاجة، ادخلوه، قال: فدخل، قال: قلت: لك حاجة؟ قال: متى (يبعث) (٤) ذلك الرجل؟] (٥) قلت: اي رجل؟ قال: علي، قال: قلت: لا يبعث حتى يبعث الله من في القبور، قال: فقال: تقول ما يقول هؤلاء الحمقاء، قال: قلت: اخرجوا هذا عني (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (زياد).
(٢) في [ك]: (إذا).
(٣) في [ب]: (للباب).
(٤) في [ب]: (يثوب)، وفي [أ، ط]: (يتوب).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ك].
(٦) صحيح.

حضرت عبد اللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا میں تمہیں تعجب میں ڈالنے والی بات نہ بتاؤں؟ پھر فرمانے لگے کہ میں ایک دن اپنے گھر میں تھا اور قیلولے کے لیے بستر پر لیٹ چکا تھا، مجھے کہا گیا کہ دروازے پر ایک آدمی ہے، میں نے کہا یہ شخص اس وقت کسی ضرورت سے ہی آیا ہوگا، اس کو اندر بھیج دو، کہتے ہیں کہ وہ اندر داخل ہوا، فرماتے ہیں کہ میں نے کہا آپ کس ضرورت سے آئے ہیں؟ وہ کہنے لگا آپ ان صاحب کو قبر سے کب نکالیں گے؟ میں نے کہا: کون سے آدمی کو؟ کہنے لگا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو، میں نے کہا ان کو قبر سے اسی وقت اٹھایا جائے گا جب اللہ تعالیٰ قبر والوں کو اٹھائیں گے، فرماتے ہیں کہ وہ کہنے لگا کیا آپ بھی ایسی بات کہتے ہیں جو یہ بیوقوف لوگ کہتے ہیں؟ میں نے کہا اس آدمی کو میرے پاس سے نکال دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32569]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32569، ترقيم محمد عوامة 31185)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31186 ترقیم الشثری: -- 32570
٣٢٥٧٠ - [حدثنا حسين عن علي عن عبد الملك بن ابجر قال: انتهى الشعبي إلى رجلين وهما (يغتابانه) (١) ويقعان فيه، فقال: هنيئا مرئيا غير داء مخامر لعزة اعراضنا ما استحلت] (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يغنيان).
(٢) سقط الخبر من: [أ، ط، هـ].

حضرت عبد الملک بن ابجر بیان فرماتے ہیں کہ شعبی دو آدمیوں کے پاس پہنچے جو ان کی غیبت میں مصروف تھے اور ان کی برائیاں کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا عَزّہ کے لیے خوش ذائقہ اور خوشگوار ہیں ہماری عزتیں اور آبروئیں جو اس نے حلال سمجھ لی ہیں بغیر کسی بیماری کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32570]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32570، ترقيم محمد عوامة 31186)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31187 ترقیم الشثری: -- 32571
٣٢٥٧١ - حدثنا حسين بن علي عن عبد الملك بن ابجر قال: لما دخل سعيد بن جبير على الحجاج قال: انت الشقي بن (كسير) (١) قال: لا، انا سعيد بن جبير قال: إني قاتلك، قال: لئن قتلتني لقد اصابت امي اسمي.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (جبير).
عبد الملک ابن ابجر رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ حجاج کے پاس تشریف لائے، تو حجاج نے کہا تم بدبخت ہو اور ٹوٹے ہوئے شخص کے بیٹے ہو، وہ فرمانے لگے کہ میں خوش بخت ہوں اور جڑے ہوئے کا بیٹا ہوں، حجاج نے کہا میں تمہیں قتل کر دوں گا، انہوں نے فرمایا اگر تو مجھے قتل کرتا ہے تو میری ماں نے پھر میرا نام درست ہی رکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32571]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32571، ترقيم محمد عوامة 31187)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31188 ترقیم الشثری: -- 32572
٣٢٥٧٢ - حدثنا (عبيد الله) (١) قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن الاسود قال: قلت لعائشة: إن رجلا من الطلقاء يبايع له -يعني معاوية، قالت: يا بني، لا تعجب هو ملك (الله) (٢) يؤتيه من يشاء (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.

حضرت اسود سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ فتح مکّہ میں آزاد کیے جانے والے ایک آدمی کی بیعت کی جارہی ہے، یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم تعجب نہ کرو، یہ اللہ تعالیٰ کا ملک ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32572]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32572، ترقيم محمد عوامة 31188)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31189 ترقیم الشثری: -- 32573
٣٢٥٧٣ - حدثنا عبيد الله قال: اخبرنا إسرائيل عن ابي إسحاق عن حارثة عن الوليد بن عقبة انه قال: لم تكن نبوة إلا كان بعدها ملك (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.
حضرت ولید بن عقبہ فرماتے ہیں کہ کوئی نبوت ایسی نہیں گزری جس کے بعد بادشاہت نہ ہوئی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32573]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32573، ترقيم محمد عوامة 31189)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31190 ترقیم الشثری: -- 32574
٣٢٥٧٤ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابي قلابة ان رجلا من قريش يقال له ثمامة كان على صنعاء، فلما جاء قتل عثمان بكى فاطال البكاء فلما افاق قال: اليوم انتزعت النبوة (و) (١) خلافة النبوة من امة محمد ﷺ وصارت ملكا (وجبرية) (٢) ، من غلب على شيء اكله (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك، م]: (أو).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٩٦٨)، والطبراني (١٤٠٤)، وابن سعد ٣/ ٨٠، وابن قانع ١/ ١٣١، وابن أبي عمر كما في المطالب العالية (٤٣٨٩)، والبخاري في التاريخ ٢/ ١٧٦، وفي الأوسط ١/ ٨٩، وابن عساكر ١١/ ٥٨١، وابن شبه (٢٢٩٧)، وابن الأثير ١/ ٣٦٦، والخلال في السنة ٢/ ٣٣٤.

حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قریش کا ایک آدمی جس کو ثمامہ کہا جاتا تھا صنعاء کا حاکم تھا، جب اس کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو وہ رونے لگا اور بہت رویا، جب اس کو افاقہ ہوا تو اس نے کہا: آج کے دن نبوت چھین لی گئی یا کہا کہ نبوت کی خلافت چھین لی گئی، محمد 5 کی امت سے، اور یہ خلافت بادشاہت اور جبری حکومت میں تبدیل ہوگئی جو جس چیز پر غالب ہوجائے گا اس کو ہڑپ کر جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32574]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32574، ترقيم محمد عوامة 31190)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31191 ترقیم الشثری: -- 32575
٣٢٥٧٥ - حدثنا ابن علية (عن ايوب) (١) قال: قال لي الحسن: الا تعجب من سعيد بن جبير، دخل علي فسالني عن قتال الحجاج ومعه بعض الرؤساء يعني اصحاب ابن الاشعث.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
حضرت ایوب رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھ سے حسن نے کہا کیا تمہیں سعید بن جبیر رحمہ اللہ پر تعجب نہیں ہوتا اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے حجاج کے ساتھ قتال کے بارے میں پوچھنے لگے اور ان کے ساتھ بعض رؤساء بھی تھے یعنی ابن الأشعث کے ساتھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32575]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32575، ترقيم محمد عوامة 31191)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 31192 ترقیم الشثری: -- 32576
٣٢٥٧٦ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن ابي خالد عن قيس قال: سمعت معاوية في مرضه الذي مات فيه حسر عن ذراعيه كانهما عسيبا نخل، وهو يقول: والله لوددت اني (اغبر فيكم) (١) فوق ثلاث، فقالوا: إلى رحمة الله ومغفرته، فقال: ما شاء الله ان يفعل ولو كره امرا غيره (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (اعترفتكم)، وفي [ب]: (أعبر فيكم).
(٢) صحيح؛ وأخرجه النسائي (٧٧٦٩).

حضرت قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مرض الموت میں سنا اور اس وقت انہوں نے اپنے بازو چڑھا رکھے تھے اور وہ ایسے لگ رہے تھے جیسے کھجور کی شاخیں ہوتی ہیں اور فرما رہے تھے کہ میں تمہارے درمیان تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہوں گا، لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کی رحمت اور مغفرت کی طرف جائیں گے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں، اور اگر کسی بات کو ناپسند کرتے ہیں تو اس کو تبدیل فرما دیتے ہیں، ابن بشر نے اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ دنیا وہی تو ہے جس کو ہم نے پہچانا اور جس کا ہم نے تجربہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأمراء/حدیث: 32576]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32576، ترقيم محمد عوامة 31192)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں