سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب السِّيَرِ
جہاد و غزوات کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4119 ترقیم الرسالہ : -- 4192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ" شَهِدَ حُنَيْنًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْهَمَ لِفَرَسِهِ سَهْمَيْنِ، وَلَهُ سَهْمًا" .
محمد بن یحییٰ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، وہ غزوہ حنین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھوڑے کو دو حصے دیے تھے اور ان کو ایک حصہ دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4192]
ترقیم العلمیہ: 4119
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4192، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1992»
«قال الزیلعي: والواقدي مجروح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 413)»
«قال الزیلعي: والواقدي مجروح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 413)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4120 ترقیم الرسالہ : -- 4193
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، ثنا الْوَاقِدِيُّ ، نَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" أَسْهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِصَاحِبِهِ سَهْمًا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کو دو حصے دیے تھے اور گھوڑے والے شخص کو ایک حصہ دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4193]
ترقیم العلمیہ: 4120
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4178، 4193، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1989»
ترقیم العلمیہ : ترقیم الرسالہ : -- 4194
قَالَ: وَنا قَالَ: وَنا الْوَاقِدِيُّ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" أَسْهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِصَاحِبِهِ سَهْمًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کو دو حصے دیے تھے اور گھوڑے والے کو ایک حصہ دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4194]
ترقیم العلمیہ:
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4194، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1990»
ترقیم العلمیہ : 4121 ترقیم الرسالہ : -- 4195
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، وَالْقَاسِمُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ، قَالا: نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، أنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ لا يُؤْمِنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلا بَأْسَ بِهِ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَهُوَ يُؤْمِنُ أَنْ يَسْبِقَ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ الْقِمَارُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں میں شامل کر دے گا اور اس کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ وہ آگے نکل جائے گا، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں میں شامل کر دے اور اسے اس بات کا یقین ہو کہ وہ آگے نکل جائے گا، تو یہ جوا ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4195]
ترقیم العلمیہ: 4121
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2551، 2552، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2579، بدون ترقيم، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2876، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 19830، 19831، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4195، 4835، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 10706،والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 470، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 34238»
«قال ابن حزم: صححه من حديث أبي هريرة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 300)»
«قال ابن حزم: صححه من حديث أبي هريرة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 300)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 4122 ترقیم الرسالہ : -- 4196
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ قَرِينٍ ، نَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ ، نَا ابْنُ الأَصْبَهَانِيِّ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، وَمُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ أَوْطَاسٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا يَطَأْ رَجُلٌ حَامِلا حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا، وَلا غَيْرَ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ اوطاس کے موقع پر ہمیں کچھ قیدی عورتیں ملیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص کسی حاملہ عورت کے ساتھ صحبت نہ کرے، جب تک وہ اپنے حمل کو جنم نہیں دیتی اور جو عورت حاملہ نہیں ہے، اس کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہ کرے، جب تک اسے ایک مرتبہ حیض نہ آ جائے۔“ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4196]
ترقیم العلمیہ: 4122
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2806، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2157، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2341، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10901، 15687، 18365، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4196، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11398»
«أعله بشريك وقال إنه مدلس وهو ممن ساء حفظه بالقضاء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 233)»
«أعله بشريك وقال إنه مدلس وهو ممن ساء حفظه بالقضاء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 233)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4123 ترقیم الرسالہ : -- 4197
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ الْخَفَّافُ أَبُو يَحْيَى ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ صَالِحٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَجَ الْعَبْدُ مِنْ دَارِ الشِّرْكِ قَبْلَ سَيِّدِهِ فَهُوَ حُرٌّ، وَإِذَا خَرَجَ مِنْ بَعْدِهِ رُدَّ إِلَيْهِ، وَإِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ دَارِ الشِّرْكِ قَبْلَ زَوْجِهَا، تَزَوَّجَتْ مَنْ شَاءَتْ، وَإِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَعْدِهِ رُدَّتْ إِلَيْهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی غلام اپنے آقا سے پہلے مشرکین کی سلطنت چھوڑ کر نکل آئے، تو وہ آزاد سمجھا جائے گا اور اگر وہ اپنے آقا کے بعد نکلتا ہے، تو وہ آقا کو واپس کر دیا جائے گا، اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے پہلے مشرکین کی سلطنت سے نکل آتی ہے، تو وہ عورت جس کے ساتھ چاہے شادی کر سکتی ہے، لیکن اگر وہ اپنے شوہر کے بعد وہاں سے نکل کر آتی ہے، تو وہ اپنے شوہر کو واپس مل جائے گی۔“ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4197]
ترقیم العلمیہ: 4123
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4197، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 4124 ترقیم الرسالہ : -- 4198
حَدَّثَنَا رُزَيْقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْجُشَمِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ وَجَدَ مَالَهُ فِي الْفَيْءِ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ وَجَدَهُ بَعْدَمَا قُسِمَ فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ" ، إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ مَتْرُوكٌ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں اپنے (سابقہ) مال کو پالے، تو وہ اسے ملے گا اور جو شخص مال غنیمت کی تقسیم کے بعد اسے پائے گا، تو اسے کوئی چیز نہیں ملے گا۔“ اسحاق نامی راوی، اسحاق بن ابوفروہ ہے اور یہ متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4198]
ترقیم العلمیہ: 4124
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4198، 4200، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5291، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8444»
«قال الدارقطني: وإسحاق هذا متروك، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)»
«قال الدارقطني: وإسحاق هذا متروك، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4125 ترقیم الرسالہ : -- 4199
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ الشِّيعِيُّ، نَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا أَصَابَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ فَظُهِرَ عَلَيْهِمْ فَرَأَى رَجُلٌ مِنَّا مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ، فَإِذَا قُسِمَ ثُمَّ ظَهَرُوا عَلَيْهِ فَلا شَيْءَ لَهُ إِنَّمَا هُوَ رَجُلٌ مِنْهُمْ" ، وَقَالَ أَبُو سَهْلٍ:" هُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ بِالثَّمَنِ"، هَذَا مُرْسَلٌ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مشرک لوگ مسلمانوں کا جو مال حاصل کر لیتے ہیں اور پھر مسلمان ان لوگوں پر غالب آ جاتے ہیں، پھر ہم میں سے کوئی شخص اپنا مال بعینہ ان کے پاس پاتا ہے، تو وہ اس مال کا کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ حق دار ہو گا، لیکن جب اس مال غنیمت کو تقسیم کر لیا جائے اور پھر مسلمان اس پر قابوپائیں، تو اب اس شخص کو کچھ نہیں ملے گا، وہ ان (مسلمانوں) کا ایک عام فرد تصور ہو گا۔“ ابوسہل نے یہ بات بیان کی ہے کہ قیمت کے بدلے میں اس مال کو حاصل کرنے کا وہ زیادہ حق دار ہو گا، یہ روایت ”مرسل“ ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4199]
ترقیم العلمیہ: 4125
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2799، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18322، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4199، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 9354، 9359، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 34032، 34033»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 4126 ترقیم الرسالہ : -- 4200
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْكَلْوَذَانِيُّ ، نَا أَبُو السَّكَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ السَّكَنِ الْبَصْرِيُّ ، نَا رِشْدِينُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا أَحْرَزَهُ الْعَدُوُّ، وَوَجَدَهُ صَاحِبُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ لَهُ" ، رِشْدِينُ، ضَعِيفٌ.
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دشمن جو مال اپنے قبضے میں لے اور پھر (مال غنیمت میں) تقسیم ہونے سے پہلے اس مال کا مالک اس مال کو پالے، تو وہ اسے ملے گا۔“ اس روایت کا راوی ”رشدین“ ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4200]
ترقیم العلمیہ: 4126
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4198، 4200، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5291، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8444»
«قال البيهقي: رشدين ضعيف، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)»
«قال البيهقي: رشدين ضعيف، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4127 ترقیم الرسالہ : -- 4201
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِيمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ فَاسْتَنْقَذَهُ الْمُسْلِمُونَ مِنْهُمْ، أَوْ أَخَذَهُ صَاحِبُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ أَحَقُّ، فَإِنْ وَجَدَهُ وَقَدْ قُسِمَ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَهُ بِالثَّمَنِ" ، الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دشمن جس مال کو قبضے میں لیتا ہے اور پھر مسلمان اس سے وہ مال حاصل کر لیتے ہیں، تو تقسیم ہو جانے سے پہلے اس مال کا اصل مالک اسے لے سکتا ہے، وہ اس کا زیادہ حق دار ہو گا، لیکن اگر تقسیم ہو جانے کے بعد وہ اسے پاتا ہے، تو اگر وہ چاہے، تو اس کی قیمت کے عوض میں اسے حاصل کر سکتا ہے۔“ اس روایت کا ایک راوی حسن بن عمارہ متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4201]
ترقیم العلمیہ: 4127
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18319، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4201»
«قال الدارقطني: الحسن بن عمارة متروك، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)»
«قال الدارقطني: الحسن بن عمارة متروك، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف