سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ
باب: کس طرح کوئی چیز وقف کی جائے گی؟
ترقیم العلمیہ : 4347 ترقیم الرسالہ : -- 4427
قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَاعِدٍ ، قِيلَ لَهُ: وَفِي كِتَابِكَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ الأَزْدِيِّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ ، نَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالا وَهُوَ نَفِيسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِأَصْلِهَا لا يُبَاعُ، وَلا يُوهَبُ، وَلا يُورَثُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرَتُهُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهِ، فَصَدَقْتُهُ كُتِبَتْ عَلَى ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالضَّيْفِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالْمَسَاكِينِ، وَذِي الْقُرْبَى، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مَأْثُومٍ فِيهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایک زمین ملی ہے، جو بہترین ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے صدقہ کر دوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کو اس طرح صدقہ کرو کہ اصل زمین کو فروخت نہ کیا جا سکے، ہبہ نہ کیا جا سکے، وراثت میں تقسیم نہ کیا جا سکے اور اس کے پھل کو (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اسی طرح صدقہ کیا اور انہوں نے اس کے صدقہ کرنے کی تحریر میں یہ بات لکھوائی کہ یہ اللہ کی راہ میں (یعنی مجاہدین کو)، مہمانوں کو، مسافروں کو، غریبوں کو اور قریبی رشتے داروں کو دیا جا سکے گا۔ جو شخص اس زمین کا نگران ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، تو اس پر کوئی حرج اور کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4427]
ترقیم العلمیہ: 4347
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
3. بَابٌ: فِي حَبْسِ الْمَشَاعِ
باب: زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
ترقیم العلمیہ : 4348 ترقیم الرسالہ : -- 4428
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي لِي بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالا قَطُّ هُوَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهَا، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْبِسْ أَصْلَهَا، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”مجھے خیبر میں سو حصے ملے تھے، مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ مال کبھی نہیں ملا، میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے صدقہ کر دوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4428]
ترقیم العلمیہ: 4348
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4349 ترقیم الرسالہ : -- 4429
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا: نَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ كَانَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ، وَاشْتَرَاهَا حَتَّى اسْتَجْمَعَهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي قَدْ أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ: احْبِسِ الأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ" ،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ خیبر میں سو حصوں کے مالک بنے تھے، انہوں نے کچھ اور زمین بھی خرید کر اسے اکٹھا کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے: ”مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس طرح کی زمین پہلے کبھی نہیں ملی، میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں (یعنی اس کو صدقہ کر دوں)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4429]
ترقیم العلمیہ: 4349
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4350 ترقیم الرسالہ : -- 4430
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، قَالا: نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ عُمَر ُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مثل قَوْلِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ سَوَاءً.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4430]
ترقیم العلمیہ: 4350
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4351 ترقیم الرسالہ : -- 4431
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنِّي أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ، وَكَانَ لَهُ مِائَةُ رَأْسٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهَا مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِهَا، وَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلِ الثَّمَرَ" ، وَرَوَاهُ غَيْرُ شَيْخِنَا، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس طرح کی زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔“ (راوی کہتے ہیں:) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک سو حصے ملے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس کے ذریعے خیبر میں ایک سو حصے اس کے مالکان سے خریدے (یعنی اتنی زمین خرید لی)، میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس کے ذریعے اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین کو روکے رہو، اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4431]
ترقیم العلمیہ: 4351
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4352 ترقیم الرسالہ : -- 4432
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، نَا سُفْيَانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا بَقِيَّةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ أَرْضٍ مِنْ ثَمْغٍ، فَقَالَ: احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شمغ میں موجود زمین کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم زمین اپنے پاس رکھو اور پھل اللہ کی راہ میں دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4432]
ترقیم العلمیہ: 4352
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4353 ترقیم الرسالہ : -- 4433
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ أَبُو جَعْفَرٍ الْكُوفِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ لِي مَالا بِثَمْغٍ أَكْرَهُ أَنْ يُبَاعَ بَعْدِي، قَالَ: فَاحْبِسْهُ وَسَبِّلْ ثَمَرَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے شمغ میں زمین ملی ہے، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ اسے میرے بعد فروخت کر دیا جائے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے روکے رکھو اور اس کا پھل اللہ کی راہ میں دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4433]
ترقیم العلمیہ: 4353
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4354 ترقیم الرسالہ : -- 4434
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا أَبُو بَكْرٍ الأَثْرَمُ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ دُبَيْسٍ الْكِنْدِيُّ ، نَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَقَالَ: فَحَبَسَ عُمَرُ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقَ بِهَا، لا تُبَاعُ، وَلا تُوهَبُ، وَلا تُورَثُ، فِي الْفُقَرَاءِ، وَذَوِي الْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَالضَّيْفِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَلا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهُ مَالا" ، قَالَ الأَثْرَمُ: أَفَادَنا ابْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الشَّيْخَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، مجھے کبھی ایسی زمین نہیں ملی، جو میرے نزدیک اس زمین سے زیادہ بہترین ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کی پیداوار کو صدقہ کر دیا، اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکے گا، اس کی پیداوار غریبوں، قریبی رشتے داروں، مہمانوں، مجاہدین اور مسافروں میں تقسیم ہو گی۔ جو شخص اس کا نگران ہو گا، اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھا لیتا ہے، یا اپنے دوست کو کھلا دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4434]
ترقیم العلمیہ: 4354
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4355 ترقیم الرسالہ : -- 4435
نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِي . ح وَنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الصَّبَّاحِ ، قَالا: نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ كَانَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ فَاشْتَرَاهَا حَتَّى اسْتَخْلَصَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قَدْ أَصَبْتُ شَيْئًا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَاحْتَبِسِ الأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہیں خیبر میں ایک سو حصے ملے تھے، انہوں نے اس کے ذریعے زمین خرید لی اور ان کو اکٹھا کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”مجھے ایسی چیز ملی ہے کہ اس طرح کی چیز کبھی نہیں ملی، میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4435]
ترقیم العلمیہ: 4355
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
4. بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسِّقَايَاتِ
مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
ترقیم العلمیہ : 4356 ترقیم الرسالہ : -- 4436
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، نَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، نَا السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وَقُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، بِالْمِفْتَحِ، وَأَنَا أَسْمَعُ قِيلَ لَهُ سَمِعْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ السَّعْدِيِّ . ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَاوَانَ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ . ح وَنا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا أَبِي ، نَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، نَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عن المعتمر بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَذَاكَ أَنِّي قُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ اعْتِزَالَ الأَحْنَفِ مَا كَانَ؟، قَالَ: سَمِعْتُ الأَحْنَفَ، يَقُولُ: وَأَنَا حَاجٌّ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ، فَقَالَ: قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا النَّاسُ يَجْتَمِعُونَ وَإِذَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ نَفَرٌ قُعُودٌ، فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَلَمَّا قُمْتُ عَلَيْهِمْ، قِيلَ: هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَجَاءَ وَعَلَيْهِ مُلاءَةٌ صَفْرَاءُ فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَنْظُرَ مَا جَاءَ بِهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَهَاهُنَا عَلِيٌّ، أَهَاهُنَا الزُّبَيْرُ، أَهَاهُنَا طَلْحَةُ، أَهَاهُنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَابْتَعْتُهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ، قَالَ: فَاجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ، فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ، قَالَ: فَاجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهُ إِلا هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يُجَهِّزُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالا وَلا خِطَامًا، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ" ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُعْتَمِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ فِي حَدِيثِهِ:" مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"، فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، وَقَالَ أَيْضًا فِي بِئْرِ رُومَةَ: فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، وَقَالَ:" اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ". وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ فِي حَدِيثِهِ فِي قِصَّةِ الْمِرْبَدِ: فَابْتَعْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ تُوَسِّعُ بِهِ فِي مَسْجِدِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ:" نَعَمْ، وَقَدْ وَجَبَ أَجْرُهُ لَكَ"، وَقَالَ فِي بِئْرِ رُومَةَ: فَابْتَعْتُهَا بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، الشَّكُّ مِنْ حُصَيْنٍ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ فِي قِصَّةِ الْمِرْبَدِ: فَابْتَعْتُهُ بِبَضْعَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ، وَبَقِيَّةُ أَلْفَاظِهِمْ مُتَقَارِبَةٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ. وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِي بِئْرِ رُومَةَ، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا.
حصین بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمرو بن جاوان سے، جن کا تعلق بنو تمیم سے تھا، پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے کہ احنف کس بنیاد پر الگ ہوئے تھے؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے سیدنا احنف رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ آیا، میں حج کے لیے جا رہا تھا۔ ابھی ہم اپنے پڑاؤ کی جگہ پر تھے اور اپنی سواریاں بٹھائی ہی تھیں کہ ایک شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ میں بھی وہاں گیا، تو میں نے دیکھا کہ وہاں بہت سے لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور ان کے سامنے کچھ افراد بیٹھے ہوئے ہیں، جن میں سیدنا علی بن ابوطالب، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب میں ان کے قریب جا کر کھڑا ہوا، تو یہ اعلان ہوا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں۔ جب وہ تشریف لائے، تو انہوں نے زرد رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: کہ یہیں ٹھہرو! ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کیا ہوتا ہے؟ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا علی یہاں ہیں؟ کیا زبیر یہاں ہیں؟ کیا طلحہ یہاں ہیں؟ کیا سعد بن ابی وقاص یہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا: جی ہاں۔ پھر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، کیا آپ لوگ یہ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص فلاں شخص کی کھجوروں کو سکھانے والی جگہ خرید کر اللہ تعالیٰ کے نام کر دے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا۔‘ تو میں نے وہ جگہ خرید کر دی۔“ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے وہ جگہ خرید لی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس جگہ کو ہماری مسجد میں شامل کر دو، تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“ تو وہاں موجود تمام افراد نے کہا: یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، کیا آپ حضرات یہ بات جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص رومہ کا کنواں خرید کر دے گا، اسے اس کا اجر ملے گا۔‘ تو یہ سننے کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: میں نے رومہ کا کنواں خرید لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے چھوڑ دو، تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“ اس پر تمام حاضرین نے کہا: کہ آپ نے یہ بات بالکل ٹھیک بیان کی ہے۔ اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اس اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’کون شخص ہے، جو غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا۔‘“ (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) تو میں نے اس لشکر کو پورا سامان فراہم کیا، یہاں تک کہ اونٹ کو باندھنے والی رسی اور مہار بھی انہیں فراہم کی۔ تو سب لوگوں نے کہا: آپ نے یہ بات بھی ٹھیک بیان کی ہے۔ اس پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ ہو جا! اے اللہ! تو گواہ ہو جا! اے اللہ! تو گواہ ہو جا!“ یہاں روایت کے الفاظ نقل کرنے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔ ابن ادریس نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”کون شخص بنو فلاں کی کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو خریدے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے، تو میں نے بیس ہزار درہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) پچیس ہزار درہم کے عوض میں اسے خریدا۔“ اسی طرح انہوں نے بئر رومہ کے بارے میں بھی یہ بات بیان کی کہ میں نے اسے اتنی، اتنی رقم کے عوض میں خریدا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا۔“ علی بن عاصم نامی راوی نے اپنی روایت میں کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کے واقعے میں یہ بات نقل کی ہے: میں نے اتنی، اتنی رقم کے عوض میں اسے خریدا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ہے: میں نے بنو فلاں کی کھجوروں والی جگہ کو خرید لیا ہے، آپ اسے مسلمانوں کی مسجد میں توسیع کے لیے استعمال کریں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ٹھیک ہے! تمہارا اجر واجب ہو گیا ہے۔“ اسی طرح انہوں نے بئر رومہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا: میں نے اسے بیس ہزار درہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) پچیس ہزار درہم کے عوض میں خریدا۔ جبکہ ابوعوانہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میں نے کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو بیس ہزار سے کچھ زیادہ رقم کے عوض میں خریدا۔ ان تمام روایات کا مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4436]
ترقیم العلمیہ: 4356
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2487، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6920، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3184، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4376، 6400، 6401، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4436، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 518، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 25244، 31271»