سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ
باب: کس طرح کوئی چیز وقف کی جائے گی؟
ترقیم العلمیہ : 4337 ترقیم الرسالہ : -- 4417
نَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي؟، قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ: فَحَبَسَ عُمَرُ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقَ بِهَا، لا يُبَاعُ، وَلا يُوهَبُ، وَلا يُورَثُ، فِي الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ، وَأَنْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ" ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، میرے نزدیک مجھے اس سے زیادہ بہترین زمین کبھی نہیں ملی، آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کے پھل کو صدقہ کر دیا، اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکے گا اور اس کا پھل غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں، مہمانوں کے لیے ہو گا اور جو شخص اس کا نگران ہو گا، اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے خود اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4417]
ترقیم العلمیہ: 4337
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
ترقیم العلمیہ : 4338 ترقیم الرسالہ : -- 4418
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدَانَ ، بِوَاسِطَ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ . ح وَنا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ ، قَالا: نَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ، وَلا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَأَمْسَكْتَ أَصْلَهَا، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لا يُبَاعَ، وَلا يُوهَبَ، فِي الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَالضَّيْفِ، وَالرِّقَابِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ مجھے خیبر میں زمین ملی، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ زمین مجھے کبھی نہیں ملی اور اس سے زیادہ نفیس زمین کوئی نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اسے اس طرح صدقہ کرو کہ اصل زمین تمہارے پاس رہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ بھی نہیں کیا جا سکے گا، اس کا پھل غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مہمانوں، مسافروں کے لیے ہو گا۔ جو شخص اس کا نگران ہو گا، اس پر کچھ گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے خود بھی اس میں سے کھا لیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4418]
ترقیم العلمیہ: 4338
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4339 ترقیم الرسالہ : -- 4419
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي أَصَبْتُ مَالا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لا يُبَاعَ، وَلا يُوهَبَ، وَلا يُوَرَّثَ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ، وَفِي الأَقْرَبِينَ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِيَ بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ" ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرْتُهُ لابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا. تَابَعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مجھے خیبر میں ایک زمین ملی، جو میرے نزدیک سب سے بہترین تھی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اس کے بارے میں آپ کی مرضی معلوم کروں، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، جو میرے نزدیک سب سے بہتر ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا تھا، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پھل کو غریبوں، قریبی رشتے داروں، مجاہدین، غلاموں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کیا اور جو شخص اس کا نگران ہو، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے یا مناسب طریقے سے اپنے کسی دوست کو کچھ دے دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ یہاں روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4419]
ترقیم العلمیہ: 4339
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4340 ترقیم الرسالہ : -- 4420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الْحَمَّالُ ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ بِالْحَمَّالِ، لأَنَّهُ حَمَلَ رَجُلا فِي طَرِيقِ مَكَّةَ عَلَى ظَهْرِهِ فَانْقَطَعَ بِهِ فِيمَا يُقَالُ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4420]
ترقیم العلمیہ: 4340
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4341 ترقیم الرسالہ : -- 4421
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نزلت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" حَائِطِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ تَعَالَى، وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ، قَالَ: اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِ بَيْتِكَ، وَأَقَارِبِكَ" ،.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تم لوگ اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جو تمہیں پسند ہے۔“ (راوی کو شک ہے کہ شاید اس آیت کا تذکرہ ہے:) ”کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں جگہ میں میرا ایک باغ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ ہے اگر میں اسے پوشیدہ طور پر دے سکتا ہوتا اس کا اعلان نہ کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے خاندان اور قریبی رشتے داروں میں سے غریب لوگوں کو دے دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4421]
ترقیم العلمیہ: 4341
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، 4554، 4555، 5611، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 998،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1762، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2455، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3632، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6396، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1689، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2997، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1695والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4421، 4422، 4423، 4424، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12327، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21334، 31431»
ترقیم العلمیہ : 4342 ترقیم الرسالہ : -- 4422
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ. وَزَادَ فِيهِ: قَالَ: فَجَعَلَهَا لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، وَكَانَا أَقْرَبَ إِلَيْهِ مِنِّي.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ سیدنا ابی بن کعب، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے نام کر دیا، کیونکہ یہ دونوں حضرات میرے مقابلے میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے زیادہ قریبی عزیز تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4422]
ترقیم العلمیہ: 4342
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، 4554، 4555، 5611، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 998،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1762، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2455، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3632، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6396، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1689، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2997، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1695والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4421، 4422، 4423، 4424، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12327، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21334، 31431»
ترقیم العلمیہ : 4343 ترقیم الرسالہ : -- 4423
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو يَحْيَى ، نَا الأَنْصَارِيُّ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، نَحْوَ حَدِيثِ ثُمَامَةَ وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ.
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4423]
ترقیم العلمیہ: 4343
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، 4554، 4555، 5611، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 998،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1762، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2455، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3632، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6396، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1689، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2997، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1695والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4421، 4422، 4423، 4424، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12327، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21334، 31431»
ترقیم العلمیہ : 4344 ترقیم الرسالہ : -- 4424
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عَفَّانُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نزلت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا، وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بِئْرَ حَاءَ لِلَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ" ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تم اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جو تمہیں پسند ہے۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے پروردگار نے ہم سے ہمارا مال مانگا ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ بات کہہ رہا ہوں کہ بیرحاء میں موجود اپنی زمین کو میں اللہ کے نام کرتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں کو دے دو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ زمین سیدنا حسان بن ثابت اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما میں تقسیم کر دی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4424]
ترقیم العلمیہ: 4344
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، 4554، 4555، 5611، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 998،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1762، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2455، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3632، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6396، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1689، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2997، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1695والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4421، 4422، 4423، 4424، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12327، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21334، 31431»
ترقیم العلمیہ : 4345 ترقیم الرسالہ : -- 4425
نَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالا: نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، بِعَسْقَلانَ، نَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَا مِنْ مَالِي شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْمِائَةِ وَسْقٍ الَّتِي أَطْعَمْتَنِيهَا مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَاجْعَلْ ثَمَرَهَا صَدَقَةً، قَالَ: فَكَتَبَ عُمَرُ هَذَا الْكِتَابَ: مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي ثَمْغٍ وَالْمِائَةِ الْوَسْقِ الَّتِي أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ، إِنِّي حَبَسْتُ أَصْلَهَا وَجَعَلْتُ ثَمَرَتَهَا صَدَقَةً لِذِي الْقُرْبَى، وَالْيَتَامَى، وَالْمَسَاكِينِ، وَابْنِ السَّبِيلِ وَالْمُقِيمِ عَلَيْهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا لا جُنَاحَ، وَلا يُبَاعُ، وَلا يُوهَبُ، وَلا يُورَثُ، مَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ، جَعَلَ ذَلِكَ إِلَى ابْنَتِهِ حَفْصَةَ، فَإِذَا مَاتَتْ، فَإِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے نزدیک سب سے بہترین مال وہ زمین ہے، جس کی پیداوار ایک سو وسق ہے، جو آپ نے مجھے خیبر میں عطا کی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر لکھوائی: ”یہ عمر بن خطاب کی طرف سے ہے، جو ’شمغ‘ کی زمین کے بارے میں ہے اور ان ایک سو وسق کے بارے میں ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیے تھے، جو خیبر میں ہیں۔ میں اس کی اصل کو اپنے پاس رکھوں گا اور اس کے پھل کو صدقہ کر دوں گا، جو قریبی رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور اس کی نگرانی کرنے والے کو ملے گا۔ تو نگرانی کرنے والا خود بھی اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے کسی دوست کو بھی کھلا سکتا ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، البتہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی، جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ وصیت کی تھی، پھر اگر ان کا انتقال ہو جاتا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کسی اور صاحب رائے شخص کی طرف یہ وصیت منتقل ہو جاتی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4425]
ترقیم العلمیہ: 4345
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4346 ترقیم الرسالہ : -- 4426
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلافُ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ" أَرَادَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ الَّذِي بِثَمْغٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی زمین صدقہ کرنے کا ارادہ کیا، جو شمغ میں موجود تھی، اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4426]
ترقیم العلمیہ: 4346
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص