سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب الْأَحْبَاسِ
اللہ کی راہ میں کوئی چیز وقف کرنے کے احکام
ترقیم العلمیہ : 4327 ترقیم الرسالہ : -- 4407
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو غَسَّانَ الْكِنَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" اسْتَأْمَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَتِهِ بِثَمْغٍ، فَقَالَ: احْبِسْ أَصْلَهَا، وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شمغ میں موجود زمین صدقہ کرنے کے بارے میں اجازت مانگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4407]
ترقیم العلمیہ: 4327
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
ترقیم العلمیہ : 4328 ترقیم الرسالہ : -- 4408
وثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَهْرَيَارَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّكَّرِيُّ . ح وثنا أَبُو سَهْلٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُصَفَّى ، قَالا: نَا بَقِيَّةُ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ أَرْضِي مِنْ ثَمْغٍ، فَقَالَ: احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے شمغ میں موجود اپنی زمین کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4408]
ترقیم العلمیہ: 4328
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
ترقیم العلمیہ : 4329 ترقیم الرسالہ : -- 4409
نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ هِلالٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِمَالِي، قَالَ: احْبِسْ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْ بِثَمَرَتِهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں اپنے مال کو صدقہ کر دوں گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4409]
ترقیم العلمیہ: 4329
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال ابن حج
«قال ابن حج
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
2. بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ
باب: کس طرح کوئی چیز وقف کی جائے گی؟
ترقیم العلمیہ : 4330 ترقیم الرسالہ : -- 4410
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي فِيهِ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ، أَنَّهَا لا تُبَاعُ، وَلا تُوهَبُ، وَلا تُورَثُ لِلْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ بہترین زمین نہیں ملی، تو آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو وہ زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پھل کو صدقہ کر دیا، اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکتا، ہبہ نہیں کیا جا سکتا، وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، (اس کا پھل) غریبوں، رشتے داروں، غلاموں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور مسافروں کو ملے گا۔ جو شخص اس کا نگران ہو گا، اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طور پر اس میں سے کھا لیتا ہے، یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4410]
ترقیم العلمیہ: 4330
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
ترقیم العلمیہ : 4331 ترقیم الرسالہ : -- 4411
نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، نَا ابْنُ عَوْنٍ . ح وَنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي؟، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهَا لِلَّهِ، حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَجَعَلَهَا عُمَرُ صَدَقَةً عَلَى الْفُقَرَاءِ، وَفِي الْقُرْبَى، وَفِي الرِّقَابِ، وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ" ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: عَنِ ابْنِ عَوْنٍ: ذَكَرْتُ حَدِيثَ نَافِعٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، فَقَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا. وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، حَدَّثَنِي رَجُلُ، أَنَّهُ قَرَأَ تِلْكَ الرُّقْعَةَ فَكَانَ فِيهَا: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا، هَذَا حَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایسا کوئی مال نہیں ملا، جو میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہو۔“ تو آپ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اسے اللہ کے نام پر وقف کر دو کہ اصل زمین تمہارے پاس رہے گی اور تم اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا اور اس کے نگران پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے خود اس میں سے کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ اس روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4411]
ترقیم العلمیہ: 4331
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
ترقیم العلمیہ : 4332 ترقیم الرسالہ : -- 4412
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الصَّوَّافِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَبُو سَعِيدٍ ، نَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالا: نَا ابْنُ عَوْنٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لا تُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلا تُوهَبُ، وَلا تُورَثُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرْتُ هَذَا لِمُحَمَّدٍ، فَقَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اصل زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وہ وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی۔ اس کے بعد راوی نے آخر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”وہ شخص مال جمع کرنے والا نہ ہو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4412]
ترقیم العلمیہ: 4332
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
ترقیم العلمیہ : 4333 ترقیم الرسالہ : -- 4413
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهَا؟، قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا أَنَّهَا لا تُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلا تُوهَبُ، وَلا تُورَثُ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اس کے بارے میں آپ سے مشورہ کریں، تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، میرے نزدیک مجھے اس سے زیادہ بہترین زمین کبھی نہیں ملی، آپ اس کے بارے میں مجھے کیا حکم کرتے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اصل زمین کو نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، نہ وراثت میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور اس کا پھل غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ تھا اور جو شخص اس کا نگران تھا، اس کو کوئی گناہ نہ ہوتا، اگر وہ خود اس میں سے مناسب طریقے سے کھا لیتا یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4413]
ترقیم العلمیہ: 4333
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
ترقیم العلمیہ : 4334 ترقیم الرسالہ : -- 4414
قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، قِيلَ لَهُ: سَمِعْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ ، نَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ وَ الأَنْصَارِي ُّ، قَالا: نَا ابْنُ عَوْنٍ ، ح وَنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَحَبَسْتَ أَصْلَهَا، قَالَ: فَجَعَلَهَا عُمَرُ لا تُبَاعُ وَلا تُوهَبُ وَلا تُورَثُ، وَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالْغُزَاةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَالضَّيْفِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، وَأَوْصَى بِهَا إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ إِلَى الأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" ، هَذَا لَفْظُ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: هَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ، زَادَ مُعَاذٌ وَأَوْصَى بِهَا إِلَى حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ إِلَى الأَكَابِرِ مِنْ آلِ عُمَرَ. قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ سِيرِينَ، فَقَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ مجھے خیبر میں ایک زمین ملی، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ میرے نزدیک اس سے بہترین زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اس کو صدقہ کر دو اور اصل زمین اپنے پاس رہنے دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اس طرح کر دیا کہ اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا تھا، ہبہ نہیں کیا جا سکتا تھا، وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا تھا اور اس کا پھل غریبوں، مسکینوں، مسافروں، مجاہدین، غلاموں اور مہمانوں کے لیے صدقہ تھا۔ جو شخص اس کا نگران تھا، اسے کوئی گناہ نہ ہوتا، اگر وہ خود اس میں سے کچھ کھا لیتا یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہوتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ وصیت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کی تھی اور پھر اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے بڑی عمر کے افراد کو کی تھی۔ روایت کے یہ الفاظ ابومسعود نامی راوی کے ہیں، تاہم دیگر راویوں نے اسے نقل کرنے میں کچھ لفظی اختلاف کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4414]
ترقیم العلمیہ: 4334
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارق
«قال الدارق
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 4335 ترقیم الرسالہ : -- 4415
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، أنا بِشْرٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: وَنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، أنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا ابْنُ عَوْنٍ ، بِهَذَا نَحْوَهُ. وَقَالَ: أَنْ لا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلا يُوهَبُ وَلا يُورَثُ، نَحْوَ حَدِيثِ النَّضْرِ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اصل زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، یہ وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4415]
ترقیم العلمیہ: 4335
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
ترقیم العلمیہ : 4336 ترقیم الرسالہ : -- 4416
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا، وَقَالَ: فَحَبَسَ أَصْلَهَا لا يُبَاعُ وَلا يُوهَبُ، وَلا يُورَثُ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَفِي الْمَسَاكِينِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ. وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: تو انہوں نے اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دیا، اس طرح کہ اسے فروخت نہ کیا جائے، اسے ہبہ نہ کیا جائے، اسے وراثت میں تقسیم نہ کیا جائے اور اس کے پھل کو غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں کے لیے، مسکینوں کے لیے، مسافروں کے لیے اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4416]
ترقیم العلمیہ: 4336
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»