الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بابٌ فِي صِفَاتِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَنْزِيهِهِ عَنْ كُلِّ نَقْصٍ
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 21
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں شب و روز کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4826، 7491، ومسلم: 2246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7244»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ زمانہ میں ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ امورِ کائنات کا متصرف اور مُدَبِّر وہ ہے، زمانے کے سارے نظم و نسق میں اسی کی مشیت اور کاریگری کارفرما ہے، اس لیے انسان جب آزمائشوں کے دور سے گزر رہا ہو، مثلا: قحط، سیلاب، زلزلہ، آندھی، شکست، بیماری، فقیری، تو وہ زمانے اور وقت کو برا بھلا کہنے کی بجائے صبر کرے اور ایسی صورتوں میں اس کے وجود پر اللہ تعالیٰ کے کیا تقاضے ہیں، ان کو پورا کرے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 22
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا، فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ وہ پھر سوال کرتا ہے: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ اتنے میں وہ یہ سوال کر دیتا ہے: اچھا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب تم میں سے کوئی اس سوال کو محسوس کرے تو وہ کہے: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ» (میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں)۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3276، ومسلم: 134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8358»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اس عظیم ذات کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا، اُس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز اپنے وجود میں اور اس کو برقرار رکھنے میں اسی کی محتاج ہے، اس لیے اہل ایمان کے سینوں میں یہ سوال نہیں اٹھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا، اگر اس سے متعلقہ کوئی وسوسہ پیدا ہو جائے تو مسنون دعاؤں کے ذریعے ایسی سوچ کو دور کر دے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 23
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُونَ مِنَ الْوَسْوَسَةِ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا لَنَجِدُ شَيْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے دل میں جو وسوسہ محسوس کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم ایسی ایسی چیزیں محسوس کر جاتے ہیں کہ ان کو زبان سے بیان کرنے کی بہ نسبت ہمیں آسمان سے گرنا آسان لگتا ہے،“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو خالص ایمان ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 8537، وابويعلي: 4649، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25259»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک اصولی بات ہے کہ جو آدمی غلط وسوسے کو محسوس کرنے لگے گا اور اس سے ڈرنے لگے گا کہ وہ اس کے تقاضے کے مطابق گفتگو کرے، تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ اس کے اعتقاد میں پختگی اور ایمان میں خلوص اور مضبوطی پیدا ہو گئی ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کا مقصود ہے، رہا اس آدمی کا مسئلہ جو فرائض کو ترک کرنے اور محرمات کا ارتکاب کرنے پر تلا ہوا ہو تو شیطان ملعون نے اس بیچارے کو وسوسوں میں ڈال کر کیا کرنا ہے؟
الحكم على الحديث: صحیح
4. بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
حدیث نمبر: 24
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ، (وَفِي رِوَايَةٍ:) أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ مِنْ أَبْوَابِهَا الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ) )
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے تو اس شخص کا عمل جیسا مرضی ہو، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا،“ ایک روایت میں ہے: ”وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی دروازے سے داخل کرے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3435، ومسلم: 28، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23051»
وضاحت: فوائد: … ہر آدمی ہی اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہے، کیونکہ ہر ایک کی تخلیق کا تعلق اللہ تعالیٰ کے کلمے کُنْ سے ہوتا ہے، لیکن بیچ میں مردو زن کے تعلق کا ایک ظاہری سبب بھی ہوتا ہے، چونکہ حضرت عیسی ؑکی ولادت میں ظاہری اسباب کا کوئی دخل نہیں تھا، بلکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے کلمے کُنْ کی بنیاد پر وجود میں آئی، اس لیے حضرت عیسی ؑکو خاص طور پر اللہ تعالیٰ کا کلمہ کہا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 25
وَعَنْهُ أَيْضًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ النَّارَ) )
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں، تو وہ آگ پر حرام کر دیا جائے گا،“ ایک روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کر دے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 25]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 29، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23087»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 26
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ) ) ثُمَّ سُمِعَ نِدَاءٌ فِي الْوَادِي يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا يَشْهَدَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ) ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اے اللہ کے رسول! کون سا عمل زیادہ فضیلت والا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لانا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج مبرور۔“ پھر وادی سے یہ آواز سنی گئی، کوئی کہہ رہا تھا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں بھی یہی گواہی دیتا ہوں اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ جو آدمی بھی یہ گواہی دے گا، وہ شرک سے بری ہو جائے گا۔“ امام احمد رحمہ اللہ کے بیٹے عبداللہ بن احمد نے کہا: میں نے یہ حدیث ہارون راوی سے براہِ راست سنی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 26]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 4595، الطبراني في الكبير: 369، وفي الاوسط: 8891، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24191»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 27
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 27]
تخریج الحدیث: «صحيح بمجموع طرقه۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 4044، وابن ابي شيبة: 5/ 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23956»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 28
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 28]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي الشيخين۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 76، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22359»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 29
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا سُهَيْلَ بْنَ الْبَيْضَاءِ!) ) وَرَفَعَ صَوْتَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُهُ سُهَيْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَظَنُّوا أَنَّهُ يُرِيدُهُمْ، فَحَبَسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ، (وَفِي رِوَايَةٍ) أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا الْجَنَّةَ وَأَعْتَقَهُ بِهَا مِنَ النَّارِ) )
سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ باآواز بلند فرمایا: ”اے سہیل بن بیضاء!“ آگے سے سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ جواب بھی دیتے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔“ ایک روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اور اس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره۔ أخرجه الحاكم: 3/ 630، والطبراني في الكبير: 6033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15738 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15830، 15933»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 30
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا سُهَيْلَ بْنَ الْبَيْضَاءِ!) ) وَرَفَعَ صَوْتَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُهُ سُهَيْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَظَنُّوا أَنَّهُ يُرِيدُهُمْ، فَحَبَسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ، (وَفِي رِوَايَةٍ) أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا الْجَنَّةَ وَأَعْتَقَهُ بِهَا مِنَ النَّارِ) )
سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ باآواز بلند فرمایا: ”اے سہیل بن بیضاء!“ آگے سے سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ جواب بھی دیتے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔“ ایک روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اور اس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 30]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره۔ أخرجه الحاكم: 3/ 630، والطبراني في الكبير: 6033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15738 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15830، 15933»
الحكم على الحديث: صحیح