الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
حدیث نمبر: 31
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ: ( (أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ) ) فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُبَشِّرُ النَّاسَ، فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذًا يَتَّكِلُ النَّاسُ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خود بھی خوش ہو جاؤ اور اپنے پچھلوں کو بھی یہ خوشخبری سنا دو کہ جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ یہ سن کر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل پڑے، تاکہ لوگوں کو خوشخبری سنائیں، لیکن جب ہمیں آگے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ملے تو انہوں نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مشورہ دیا کہ (اس طرح کی باتیں عام لوگوں کو نہ بتائی جائیں وگرنہ) وہ توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 31]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 4003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19826»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 32
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَهِدَ مُعَاذًا حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ يَقُولُ: اكْشِفُوا عَنِّي سَجْفَ الْقُبَّةِ، أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ إِلَّا أَنْ تَتَّكِلُوا، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: ( (مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ يَقِينًا مِنْ قَلْبِهِ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّةً: دَخَلَ الْجَنَّةَ وَلَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انہوں نے کہا: قبے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا،“ اور ایک دفعہ کہا: ”تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 32]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الحميدي: 369، وابن حبان: 200، والطبراني في الكبير: 20/63، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22410»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 33
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) )
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جنت کی چابیاں «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی شہادت دینا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شھر بن حوشب ضعيف ولم يدرك معاذا، واسماعيل بن عياش روايته عن غير اھل بلده ضعيفة وھذا منھا۔ أخرجه البزار في مسنده: 2660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22453»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 34
عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَيْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ فَيَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ( (مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ) ) فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ حِينَئِذٍ: ( (أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ فِي الْجَنَّةِ) ) قَالَ: ( (وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّأُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ) )
سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف) سفر میں تھے، جب ہم کَدِید یا قُدَید مقام پر پہنچے تو لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف جانے کے لیے اجازت لینا شروع کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اجازت دیتے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہو گا کہ درخت کی جو طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔“ ہم نے دیکھا کہ یہ الفاظ سن کر سارے لوگ رونے لگ گئے، ایک آدمی (یعنی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”اس کے بعد جو آدمی آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ بیوقوف ہو گا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی اور فرمایا: ”جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے گا تو میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے بارے میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ وہ جنت کی طرف چلا جائے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی ایسے جنت میں داخل کرے گا کہ ان کا کوئی حساب اور عذاب نہیں ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ تم اور تمہارے نیک آباء، بیویاں اور اولاد جنت میں اپنے گھر بنا چکے ہوں گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مطولا و مختصرا الطيالسي: 1291، 1292، والدارمي: 1/ 348، والبزار: 3543، والطبراني في الكبير: 4559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16316»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 35
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْتَأْذِنُونَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذِهِ لَسَفِيهٌ فِي نَفْسِي، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: ( (أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ) ) وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ فِي الْجَنَّةِ) ) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
(دوسری سند) سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آ رہے تھے کہ لوگوں نے اجازتیں لینا شروع کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر والی بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ شہادت دیتا ہوں کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے تو وہ جنت کی طرف چلے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم اٹھاتے تھے تو یوں فرماتے تھے: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 35]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2090، 4285، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:16216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16317»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 36
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ بِعَرَفَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
(تیسری سند) سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم کدید یا عرفہ مقام پر تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر والی بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ شہادت دیتا ہوں کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے تو وہ جنت کی طرف چلے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 36]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16318»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 37
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ مَاتَ يَعْلَمُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ) )
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 37]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 464»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 38
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ) ) فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ، هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَعَزَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی دل کی سچائی کے ساتھ اس کو کہے گا، وہ آگ کے حق میں حرام ہو جائے گا۔“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں بتلاتا ہوں کہ وہ کلمہ کون سا ہے، وہ تو وہ کلمہ اخلاص ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو عزت بخشی، وہ کلمہ تقویٰ ہے جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کی موت کے وقت اس پر پیش کیا تھا اور وہ ہے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی شہادت دینا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 38]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه الحاكم: 1/ 351، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 447»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 39
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ أُحَدِّثُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: ( (مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ) ) قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ( (وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ) ) قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ( (وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ) ) ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ( (عَلَى رَغْمِ أَبِي ذَرٍّ) ) قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ.
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید کپڑا اوڑھ کر سوئے ہوئے تھے، پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے کے لیے آیا، لیکن ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے، اس کے بعد جب میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے گا اور پھر اسی پر مر جائے گا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو۔“ میں دوسری بار پھر کہا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو۔“ تین دفعہ تو ایسے ہی ہوا اور چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے کے ساتھ ساتھ۔“ یہ سن کر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ وہاں سے ازار کو گھسیٹتے اور یہ کہتے ہوئے نکل پڑے: ”اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5827، ومسلم: 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21798»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 40
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَا ذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا يَهُمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا: ”آپ کے رب نے سفارش کے بارے میں آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میرا یہ خیال تھا کہ اس کے بارے میں سوال کرنے والا میری امت میں سے تو ہی پہلا فرد ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تیرے اندر علم کی حرص پائی جاتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مجھے جنت کے دروازوں پر اپنی امت کے لوگوں کے ہجوم کے بارے میں جو فکر ہے، وہ میرے نزدیک میری سفارش کی تکمیل سے زیادہ اہم ہے، اور میری سفارش ہر اس آدمی کے لیے ہے جو اخلاص کے ساتھ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی شہادت اس طرح دے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی اور اس کی زبان، اس کے دل کی تصدیق کر رہی ہو۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «حديث بعضه صحيح و بعضه حسن۔ أخرجه ابن خزيمة: 2/ 697، وابن حبان: 6466، والحاكم: 1/ 69، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8056»
الحكم على الحديث: صحیح