الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
حدیث نمبر: 41
عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
سیدنا ابو عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو آدمی بھی ان دو شہادتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ملے گا، تو قیامت کے دن اس سے آگ کو دور کر دیا جائے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه النسائي في الكبري: 8793، والطبراني في الكبير: 575، والحاكم: 2/ 618، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15449 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15528»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 8793
حدیث نمبر: 42
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَصْلَتَانِ يَعْنِي إِحْدَاهُمَا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْأُخْرَى مِنْ نَفْسِي، ( (مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ) ) وَأَنَا أَقُولُ: مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ.
ابو وائل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو باتیں ہیں، ایک بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری بات میری اپنی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ اس حال میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو، وہ آگ میں داخل ہو گا۔“ اور میں خود کہتا ہوں: ”اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ نہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بناتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 92، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3552»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 92
حدیث نمبر: 43
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ أَوْ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَزَلَ عَلَى مَسْرُوقٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ لَمْ تَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ) )
ابو نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی یا ایک بوڑھا، جس کا تعلق اہل مدینہ سے تھا، آیا اور مسروق رحمہ اللہ کے پاس ٹھہرا، اس نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی، لیکن جو بندہ اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی نیکی اس کو فائدہ نہیں دے گی۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطبراني في الكبير، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6586»
وضاحت: فوائد: … اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ایسے آدمی اور جنت کے درمیان کوئی گناہ مستقل طور پر حائل نہیں ہو سکتا اور یہ ممکن ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے اس کو اس گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جائے، اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے:
سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاِنَّ مَنْ کَانَ آخِرُ کَلِمَتِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عِنْدَ الْمَوْتِ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ یَوْمًا مِنَ الدَّھْرِ، وَاِنْ اَصَابَہٗ قَبْلَ ذَالِکَ مَا اَصَابَہٗ)) … قریب الموت لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو، موت کے وقت جس کا آخری کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وہ کسی نہ کسی دن جنت میں داخل ہو جائے گا، اگرچہ اس سے پہلے اس کو کسی عذاب میں مبتلا ہونا پڑے۔ (صحیح ابن حبان: ۳۰۰۴، مسند البزار: ۳)
سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاِنَّ مَنْ کَانَ آخِرُ کَلِمَتِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عِنْدَ الْمَوْتِ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ یَوْمًا مِنَ الدَّھْرِ، وَاِنْ اَصَابَہٗ قَبْلَ ذَالِکَ مَا اَصَابَہٗ)) … قریب الموت لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو، موت کے وقت جس کا آخری کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وہ کسی نہ کسی دن جنت میں داخل ہو جائے گا، اگرچہ اس سے پہلے اس کو کسی عذاب میں مبتلا ہونا پڑے۔ (صحیح ابن حبان: ۳۰۰۴، مسند البزار: ۳)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الطبراني في الكبير
حدیث نمبر: 44
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْمُوجِبَتَانِ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 93، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14768»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 93
حدیث نمبر: 45
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ: ( (مَنْ لَقِيَ اللَّهَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يُشْرِكُ بِهِ) دَخَلَ الْجَنَّةَ) ) قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ( (لَا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا) ) أَوْ كَمَا قَالَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی شہادت دیتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری سنا نہ دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، مجھے یہ ڈر ہے کہ اس پر توکل کر لیں گے (اور عمل ترک کر دیں گے)۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12633»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 129
حدیث نمبر: 46
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ) )
سیدنا سلمہ بن نعیم رضی اللہ عنہ، جو کہ صحابہ کرام میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس نے زنا بھی کیا ہو اور چوری بھی کی ہو۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 6347، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18473»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 6347
حدیث نمبر: 47
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ حَدَّثَنَا هِصَّانُ الْكَاهِنُ الْعَدَوِيُّ قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوتُ لَا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يَرْجِعُ ذَاكُمْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُ) ) قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُعَاذٍ؟ قَالَ الْقَوْمُ: فَعَنَّفَنِي، فَقَالَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَمْ يُسِئِ الْقَوْلَ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ مُعَاذٍ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
ہصان کاہن عدوی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس میں سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہمیں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقین دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“ میں نے کہا: ”کیا تو نے یہ حدیث سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟“ اس بات پر لوگوں نے میری سرزنش کی اور کہا: ”اس کو چھوڑ دو، اس نے کوئی بری بات تو نہیں کہی ہے،“ بہرحال میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی ہے اور ان کا خیال تھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 203، والبزار في مسنده: 2624، والطبراني في الكبير: 20/ 71، وانظر الحديث بالطريق الثاني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22350»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابن حبان: 203
حدیث نمبر: 48
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا يُونُسُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَةِ فَجَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوهُ وَلَا تُؤَنِّبُوهُ دَعُوهُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاكَ مِنْ مُعَاذٍ يَذْكُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِهِمْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ.
ہصان بن کاہل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالی�? کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقین دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو،“ ہاں میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہے تھے، میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 3796 وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22348»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 3796 وانظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 49
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِلِ قَالَ وَكَانَ أَبُوهُ كَاهِنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِذَا شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ہصان بن کاہل رحمہ اللہ، جن کے باپ دور جاہلیت میں کہانت کرتے تھے، کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقین دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22349»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 50
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ عَمِلْتَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطَايَا وَلَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَكَ قُرَابَ الْأَرْضِ مَغْفِرَةً) ) زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَقُرَابُ الْأَرْضِ مِلْءُ الْأَرْضِ.
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو زمین کے بھراؤ کے برابر گناہ کرے، لیکن میرے ساتھ شرک نہ کرے تو میں تجھے زمین کے بھرنے کے برابر ہی بخشش عطا کر دوں گا۔“ ایک روایت میں ہے: «قُرَابُ الْأَرْضِ» سے مراد زمین کا بھراؤ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم اطول منه: 2687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21636»
وضاحت: فوائد: … ہم پہلے یہ گزارش کر چکے ہیں کہ یہ احادیث توحید کی فضیلت اور شرک کی مذمت پر دلالت کرتی ہیں،لیکن اِن کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ہم اِن خوشکن فرمودات کو سامنے رکھ کر اعمالِ صالحہ سے باز رہنے اور اعمالِ سیئہ کا ارتکاب کرنے کی روش اختیار کر لیں، ذرا درج ذیل امور پر غور کریں:
٭ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن ارشادات کی روشنی میں اعمال صالحہ کی مشکل روٹین کو متأثر نہ ہونے دیا۔
٭ ان احادیث ِ مبارکہ کے اولین سامعین صحابۂ کرام تھے، لیکن اِن کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑھا۔
٭ اگر عہد ِ نبوی میں صحابہ کے نفوس قدسیہ سے ایسے جرائم سرزد ہوئے، جن کی بنا پر حدود لگائی جاتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر وہ حدود نافذ کر دیں۔
٭ بے شمار نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی مؤحدین کو موت کے وقت، قبر میں، حشر میں اور جہنم کی صورت میں سزا دی جائے گی، لیکن بالآخر وہ جنت میں پہنچ جائیں گے۔
٭ کئی آیات اور احادیث میں نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کو شرط قرار دیا گیا ہے۔
٭ احادیث نمبر (۳۱،۴۵) کے مطابق یہ احادیث ان لوگوں سے مخفی رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے، جن میں ان خوشخبریوں کی وجہ سے اعمال صالحہ کا رجحان کم پڑ سکتا ہے۔
پس خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ برحق ہیں، ان میں توحید اور توحید کے کلمات کی بنا پر جو اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے، وہ بھی برحق ہے اور یہ کلمات ادا کر کے اہل ایمان کو یہ حسن ظن قائم کر لینا چاہیے کہ وہ ان شاء اللہ ان کے مصداق بنیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کا رجحان کم نہیں پڑنا چاہیے۔
٭ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن ارشادات کی روشنی میں اعمال صالحہ کی مشکل روٹین کو متأثر نہ ہونے دیا۔
٭ ان احادیث ِ مبارکہ کے اولین سامعین صحابۂ کرام تھے، لیکن اِن کی وجہ سے ان کی عملی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑھا۔
٭ اگر عہد ِ نبوی میں صحابہ کے نفوس قدسیہ سے ایسے جرائم سرزد ہوئے، جن کی بنا پر حدود لگائی جاتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر وہ حدود نافذ کر دیں۔
٭ بے شمار نصوصِ شرعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کئی مؤحدین کو موت کے وقت، قبر میں، حشر میں اور جہنم کی صورت میں سزا دی جائے گی، لیکن بالآخر وہ جنت میں پہنچ جائیں گے۔
٭ کئی آیات اور احادیث میں نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح کو شرط قرار دیا گیا ہے۔
٭ احادیث نمبر (۳۱،۴۵) کے مطابق یہ احادیث ان لوگوں سے مخفی رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے، جن میں ان خوشخبریوں کی وجہ سے اعمال صالحہ کا رجحان کم پڑ سکتا ہے۔
پس خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ برحق ہیں، ان میں توحید اور توحید کے کلمات کی بنا پر جو اجر و ثواب بیان کیا گیا ہے، وہ بھی برحق ہے اور یہ کلمات ادا کر کے اہل ایمان کو یہ حسن ظن قائم کر لینا چاہیے کہ وہ ان شاء اللہ ان کے مصداق بنیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کا رجحان کم نہیں پڑنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم اطول منه: 2687