الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. فِي وَفَادَةِ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةً وَافِدِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
بنو سعد بن بکر کی طرف سے سیدنا ضمام بن ثعلبہؓ کی آمد کا بیان
حدیث نمبر: 60
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ: ( (صَدَقَ) ) قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ: ( (اللَّهُ) ) قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: ( (اللَّهُ) ) قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: ( (اللَّهُ) ) قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ! آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ: فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا؟ قَالَ: ( (صَدَقَ) ) قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ! آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ: فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا؟ قَالَ: ( (صَدَقَ) ) قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ! آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، صَدَقَ) ) قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ! آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا؟ قَالَ: ( (صَدَقَ) ) قَالَ: ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے سے ہی منع کر دیا گیا تھا، اس لیے ہمیں یہ بات پسند تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرے اور ہم سنیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: ”اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتلایا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: ”تو پھر آپ بتلائیے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: ”زمین کو کس نے پیدا کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: ”ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کر کے ان میں بہت کچھ رکھ دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے۔“ اس نے کہا: ”تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو پیدا کیا، زمین کو پیدا کیا اور ان پہاڑوں کو گاڑھا! کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ کے قاصد نے یہ بات بھی کی تھی کہ ایک دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اس نے کہا: ”پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے مالوں میں زکوٰۃ فرض ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: ”پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر ایک سال میں رمضان کے روزے بھی فرض ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: ”پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پھر کہا: ”آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ جو آدمی طاقت رکھتا ہو، اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی فرض ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ یہ سارا کچھ سن کر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! میں ان (عبادات) میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو ضرور جنت میں داخل ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 63، ومسلم: 12، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12484»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 61
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) بِنَحْوِ هَذَا وَزَادَ، قَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، قَالَ: وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت میں ایک اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”میں آپ کی لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لایا ہوں اور میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والے افراد کا قاصد ہوں، بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ضمام بن ثعلبہ ہوں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12749»
وضاحت: فوائد: … شریعت کا اصول یہ ہے کہ ضرورت کے وقت اہل علم سے سوال کیا جائے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} … پس تم اہل علم سے سوال کرو، اگر تم نہیں جانتے۔ (سورۂ نحل: ۴۳، سورۂ انبیاء: ۷)
لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا ضرورت سوال کرنے سے منع بھی کر رکھا تھا، اس لیے ان آداب کو جاننے والے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے میں احتیاط کرتے تھے، لیکن ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ سوالات کا سلسلہ ہونا چاہیے تاکہ مختلف احکام کی وضاحت ہوتی رہے، اس لیے وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آدمی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کرے۔
لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا ضرورت سوال کرنے سے منع بھی کر رکھا تھا، اس لیے ان آداب کو جاننے والے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے میں احتیاط کرتے تھے، لیکن ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ سوالات کا سلسلہ ہونا چاہیے تاکہ مختلف احکام کی وضاحت ہوتی رہے، اس لیے وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آدمی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کرے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 62
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: ( (خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ) ) قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: ( (لَا) ) وَسَأَلَهُ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ( (صِيَامُ رَمَضَانَ) ) قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: ( (لَا) ) قَالَ: وَذَكَرَ الزَّكَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: ( (لَا) ) قَالَ: وَاللَّهِ! لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ) )
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن رات میں پانچ نمازیں۔“ اس نے کہا: ”کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر اس نے روزوں کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے روزے۔“ اس نے کہا: ”کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر زکوٰۃ کا ذکر ہوا اور اس نے کہا: ”کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوٰۃ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ بالآخر اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں ان عبادات میں نہ کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 46، 2678، ومسلم: 11، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1390»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں ارکانِ اسلام کا بیان ہے، جن کی مکمل ادائیگی پر کامیابی کا مژدہ سنایا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. فِي وَفَادَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا معاویہ بن حیدہؓ کی آمد کا بیان
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُولَاءِ أَنْ لَا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَجَمَعَ بَهْزٌ بَيْنَ كَفَّيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: حَتَّى حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لَا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ) وَإِنِّي قَدْ جِئْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ بِمَ بَعَثَكَ رَبُّنَا إِلَيْنَا؟ قَالَ: ( (بِالْإِسْلَامِ) ) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا آيَةُ الْإِسْلَامِ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟) قَالَ: ( (أَنْ تَقُولَ أَسْلَمْتُ وَجْهِي وَتَخَلَّيْتُ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَكُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ) )
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے ان سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔“ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے،“ بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کی کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے رب نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے ساتھ۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 234، والنسائي: 5/ 4، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20299»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 64
( (أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ يُشْرِكُ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا أَوْ يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ) )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مدد کرنے والے بھائی، اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے مشرک سے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتے، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 64]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20300»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 65
( (مَا لِي أُمْسِكُ بِحْجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، أَلَا إِنَّ رَبِّي دَاعِيَّ وَإِنَّهُ سَائِلٌ هَلْ بَلَّغْتَ عِبَادِي وَأَنَا قَائِلٌ لَهُ رَبِّ قَدْ بَلَّغْتُهُمْ، أَلَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ) )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کیا ہوا ہے کہ میں آگ سے بچانے کے لیے تم کو کمروں سے پکڑ رہا ہوں، خبردار! بیشک میرا رب مجھے بلانے والا ہے اور وہ مجھ سے یہ سوال کرنے والا ہے کہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا، اور میں یہ کہتے ہوئے جواب دوں گا کہ اے میرے رب! میں نے ان تک پہنچا دیا تھا، خبردار! موجودہ لوگ، غیر موجود لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 63 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20292»
وضاحت: فوائد: … مراد یہ ہے کہ لوگوں کا رویہ تو ہوتا ہے کہ وہ برائیاں کر کے آگ میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو مختلف حکمتوں کے ذریعے اس طرح روکنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پکڑ رہے ہیں۔ لوگو! یہ بات ذہن نشین کر لو کہ ہم یہ شہادت دیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تک مکمل دین پہنچا دیا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغِ دین کے حوالے سے جو ذمہ داری ہمیں سونپی تھی، چند افراد کے علاوہ اس دور کے تمام مسلمان اس کو پورا کرنے سے غافل ہیں، سرے سے والدین کو یہ شعور نہیں ہے کہ ان کی اولاد کے حوالے سے ان پر کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ہم نے بزعم خود مساجد و مدارس سے متعلقہ لوگوں کو اس مِشن کا مکمل ذمہ دار سمجھ لیا، جبکہ نہ ہم اُن کے وجود کو کوئی اہمیت دیتے ہیں اور نہ ان کی باتوں کو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 66
( (ثُمَّ إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ وَمُفَدَّمَةٌ أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ (وَفِي رِوَايَةٍ يُتَرْجِمُ) ) ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا دِينُنَا؟ قَالَ: ( (هَذَا دِينُكُمْ وَأَيْنَمَا تُحْسِنْ يَكْفِكَ) )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کو (قیامت کے دن) بلایا جائے گا، جبکہ تمہارے منہ، منہ بند سے بندھے ہوئے ہوں گے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”سب سے پہلے یہ چیز بولے گی۔“ ایک روایت میں ہے: ”تمہاری طرف سے سب سے پہلے بولنے والی چیز ران اور ہتھیلی ہو گی۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارا دین ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارا دین ہے اور تم جہاں بھی نیکی کرو گے، تم کو کفایت کرے گی۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 63 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20302»
وضاحت: فوائد: … قیامت والے دن لوگوں کو مختلف مراحل سے گزارا جائے گا، بعض مراحل پر لوگ اپنی زبانوں سے باتیں کریں گے، لیکن بعض مقامات پر ان کی زبانوں کو بند کر کے ان کے مختلف اعضا کو بولنے کی طاقت دی جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ} … ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔ (سورۂ یس: ۶۵)
{اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَا اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ} … ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے۔ (سورۂ یس: ۶۵)
الحكم على الحديث: صحیح
6. فِي وَفَادَةِ أَبِي رَزِينِ الْعُقَيْلِي وَاسْمُهُ لَقِيط بْنُ عَامِرٍرَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو رزین عقیلی ؓ، جن کا نام لقیط بن عامر تھا، کی آمد کا بیان
حدیث نمبر: 67
عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ( (أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ تُحْرَقَ بِالنَّارِ أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تُشْرِكَ بِاللَّهِ، وَأَنْ تُحِبَّ غَيْرَ ذِي نَسَبٍ لَا تُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا كُنْتَ كَذَلِكَ فَقَدْ دَخَلَ حُبُّ الْإِيمَانِ فِي قَلْبِكَ كَمَا دَخَلَ حُبُّ الْمَاءِ لِلظَّمْآنِ فِي الْيَوْمِ الْقَائِظِ) ) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ لِي بِأَنْ أَعْلَمَ أَنِّي مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: ( (مَا مِنْ أُمَّتِي أَوْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبْدٌ يَعْمَلُ حَسَنَةً فَيَعْلَمُ أَنَّهَا حَسَنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَازِيهِ بِهَا خَيْرًا، وَلَا يَعْمَلُ سَيِّئَةً، فَيَعْلَمُ أَنَّهَا سَيِّئَةٌ وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا وَيَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ إِلَّا هُوَ إِلَّا وَهُوَ مُؤْمِنٌ) )
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ اللہ اور اس کا رسول، باقی تمام چیزوں کی بہ نسبت تجھے سب سے زیادہ محبوب ہوں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کی بہ نسبت تجھے آگ میں جل جانا زیادہ پسند ہو اور یہ کہ تو کسی غیر رشتہ دار سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔ جب اس طرح ہو جائے گا، یعنی جب یہ امور سرانجام دے لے گا تو تیرے دل میں ایمان کی محبت اس طرح داخل ہو جائے گی، جیسے سخت گرمی والے دن میں پیاسے کے اندر پانی کی محبت سرایت کر جاتی ہے۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں مومن ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا جو آدمی نیکی کرے، جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ یہ نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس کا بدلہ دینے والا ہے، اسی طرح جو آدمی برائی کرے، جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ یہ واقعی برائی ہے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ صرف وہی بخشتا ہے تو وہ مومن ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان بن موسي الاشدق لم يدرك احدا من الصحابة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16295»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن نیک لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنا اور شرک کو آگ میں ڈالے جانے سے زیادہ ناپسند سمجھنا، یہ دو باتیں دوسری شرعی نصوص سے ثابت ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
7. فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ
عبد القیس کی آمد کا بیان
حدیث نمبر: 68
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مِمَّنِ الْوَفْدُ أَوْ قَالَ الْقَوْمُ؟) ) قَالُوا: رَبِيعَةَ، قَالَ: ( (مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ قَالَ الْقَوْمِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى) ) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَيْنَاكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ، قَالَ: ( (أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟) ) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ) ) وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَيَّرِ، قَالَ: ( (احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عبدالقیس کا وفد جب مدینہ منورہ پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وفد یا اس قوم کا تعلق کن سے ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم ربیعہ سے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وفد یا قوم کو مرحبا، رسوائی اور ندامت کے بغیر آ گئے ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم دور کا سفر کر کے آپ کے پاس آئے ہیں، چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان کافروں کا یہ مضر قبیلہ رکاوٹ بنا ہوا ہے، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کوئی ایسا حکم دیں کہ ہم اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی تعلیم دیں،“ پھر ان لوگوں نے پینے کے برتنوں کے بارے میں سوال کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کا حکم دیا اور پھر پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ ایمان باللہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کدو کے برتن، سبز مٹکوں، کھجور کے تنے سے بنائے ہوئے برتن اور تارکول والے برتن سے منع کیا اور فرمایا: ”یہ امور یاد کر لو اور اپنے پچھلے لوگوں کو بھی ان کی خبر دو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 68]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 523، 1398، ومسلم: 17، 23، 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2020»
وضاحت: فوائد: … رسوائی اور ندامت کا بغیر آ گئے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رضامندی سے اسلام قبول کرنے کی توفیق دے دی اور اس طرح یہ لوگ لڑائی، شکست اور قیدی بننے کی ذلت سے بچ گئے۔
حرمت والے مہینے تو چار ہیں، لیکن مضر قبیلے کے کافر صرف رجب کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اوروہ اس مہینے میں اپنے دشمن کو بھی نہیں چھیڑتے تھے، اس لیے ربیعہ خاندان کے لوگوں نے یہ تفصیل بیان کر کے اپنا عذر پیش کیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں جن چار برتنوں سے منع کیا گیا ہے، شراب کی حرمت کے ساتھ ساتھ ان برتنوں کو استعمال کرنے سے بھی منع کر دیا تھا، کیونکہ ان میں نشہ جلدی پیدا ہو جاتا تھا، بعد میں ان کو استعمال کرنے کی عام اجازت دے دی گئی تھی، اب کوئی برتن، برتن ہونے کی وجہ سے حرام نہیں ہے، مزید تفصیل کتاب الاشربۃ میں آئے گی۔
حرمت والے مہینے تو چار ہیں، لیکن مضر قبیلے کے کافر صرف رجب کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اوروہ اس مہینے میں اپنے دشمن کو بھی نہیں چھیڑتے تھے، اس لیے ربیعہ خاندان کے لوگوں نے یہ تفصیل بیان کر کے اپنا عذر پیش کیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں جن چار برتنوں سے منع کیا گیا ہے، شراب کی حرمت کے ساتھ ساتھ ان برتنوں کو استعمال کرنے سے بھی منع کر دیا تھا، کیونکہ ان میں نشہ جلدی پیدا ہو جاتا تھا، بعد میں ان کو استعمال کرنے کی عام اجازت دے دی گئی تھی، اب کوئی برتن، برتن ہونے کی وجہ سے حرام نہیں ہے، مزید تفصیل کتاب الاشربۃ میں آئے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
8. فِي وَفَادَةِ ابْنِ الْمُنْتَفِقِ مِنْ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
قبیلۂ قیس سے سیدنا ابن منتفقؓ کی آمد کابیان
حدیث نمبر: 69
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى الْكُوفَةِ لِأَجْلِبَ بِغَالًا، قَالَ: فَأَتَيْتُ السُّوقَ وَلَمْ تَقُمْ، قَالَ: قُلْتُ لِصَاحِبٍ لِي: لَوْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، وَمَوْضِعُهُ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ، فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْمُنْتَفِقِ وَهُوَ يَقُولُ: وَصَفَ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَطَلَبْتُهُ بِمِنًى، فَقِيلَ لِي: هُوَ بِعَرَفَاتٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ لِي: إِلَيْكَ عَنْ طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ: «دَعُوا الرَّجُلَ أَرِبَ مَا لَهُ» قَالَ: فَرَاحَمْتُ عَلَيْهِ حَتَّى خَلَصْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ أَوْ قَالَ زِمَامِهَا، هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَنْتَانِ أَسْأَلُكَ عَنْهُمَا، مَا يُنَجِّينِي مِنَ النَّارِ وَمَا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نَكَسَ رَأْسَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ قَالَ: «لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ، فَأَعْقِلْ عَنِّي إِذًا، أَعْبُدِ اللَّهَ، لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَهُمْ رَمَضَانَ وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ بِكَ النَّاسُ فَافْعَلْ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ إِلَيْكَ النَّاسُ فَذَرِ النَّاسَ مِنْهُ» ثُمَّ قَالَ: «خَلِّ سَبِيلَ الرَّاحِلَةِ» (مسند أحمد:27694)
عبداللہ یشکری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں خچر لانے کے لیے کوفہ گیا، جب میں بازار پہنچا تو دیکھا کہ وہ ابھی تک بند تھا، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: ”اگر ہم مسجد میں چلے جائیں (تو بہتر ہو گا)،“ جبکہ مسجد کی جگہ کھجور والوں کے درمیان تھی، ہم نے دیکھا کہ مسجد میں قیس قبیلے کا ایک آدمی تھا، لوگ اسے ابن منتفق کہتے تھے، وہ یہ بیان کر رہا تھا: ”ایک آدمی نے میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات بیان کیں، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں تلاش کیا، لیکن کسی نے مجھے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت عرفات میں ہوں گے،“ میں وہاں تک پہنچ گیا، لیکن جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنا چاہا تو مجھے کہا گیا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے پرے ہٹ جا،“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بندے کو بلاؤ، اس کے اعضاء ناکارہ ہو جائے، کیا ہے اس کو۔“ چنانچہ میں دھکیلتے ہوئے آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ لی اور کہا: ”دو چیزوں کے بارے میں میں سوال کروں گا، کون سا عمل مجھے آگ سے نجات دلائے گا اور کون سا عمل مجھے جنت میں داخل کرے گا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر اپنے سر کو جھکا لیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تو نے سوال تو بڑا مختصر کیا ہے، لیکن حقیقت میں بڑی عظیم اور لمبی بات کر دی ہے، بہرحال اب میری بات کو سمجھ، تو نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، فرض نماز ادا کرنی ہے، فرض زکوٰۃ دینی ہے، رمضان کے روزے رکھنے ہیں اور لوگوں کی طرف سے جو چیز تو اپنے حق میں پسند کرتا ہے، ان کے حق میں بھی اسی چیز کا انتخاب کر اور لوگوں کی طرف سے جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تو لوگوں کو بھی اس چیز سے محفوظ رکھ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب سواری کے راستے سے ہٹ جا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 69]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله اليشكري ابن ابي عقيل، ذكره الحافظ ابن حجر في التعجيل وقال: روي عنه ابنه المغيرة، ليس بالمشھور۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 5478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27153 ترقیم بيت الأفكار الدولية:27694»
الحكم على الحديث: ضعیف