الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بابٌ فِي خِصَالِ الإِيمَانِ وَآيَاتِهِ
ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
حدیث نمبر: 100
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ فَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ: ( (ائْتِ بِهَا) ) فَدَعَوْتُهَا فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا: ( (مَنْ رَبُّكِ؟) ) قَالَتْ: اللَّهُ، قَالَ: ( (مَنْ أَنَا؟) ) فَقَالَتْ: رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: ( (أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ) )
سیدنا ابو شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی ماں نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کرے، پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ان کے پاس ایک کالے رنگ کی سوڈانی لونڈی ہے، کیا وہ اس کو آزاد کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو میرے پاس لے آؤ۔“ پس میں نے اس کو بلایا اور وہ آ گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تیرا رب کون ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں،“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3283، والنسائي: 6/ 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18109»
وضاحت: فوائد: … مسلمان غلام کو آزاد کرنا بڑے ثواب کا کام ہے، یہ اچھی بات ہے کہ ماں نے مسلمان غلام کو آزاد کرنے کی وصیت کی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 101
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً أَعْتِقْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟) ) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ( (أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟) ) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ( (أَعْتِقْهَا) )
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیاہ رنگ کی ایک لونڈی لے کر آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مسلمان گردن آزاد کرنی ہے، اب اگر آپ اس لونڈی کو مومنہ خیال کرتے ہیں تو اس کو آزاد کر دیں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان رکھتی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مالك في المؤطا: 2/ 777، والبيھقي: 10/ 57، وعبد الرزاق: 16814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15835»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسین حکیمانہ انداز تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موقع محل کو دیکھ کر اور متعلقہ آدمی کے مزاج کو سامنے رکھ سوال کرتے تھے، اس حدیث میں رسالت اور آخرت کے بارے میں پوچھا ہے، جبکہ سابقہ حدیث میں اللہ تعالیٰ اور اپنی ذات کے بارے میں سوال کیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 102
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ قِلَّةُ الْكَلَامِ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ) )
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے کے حسنِ اسلام میں سے یہ ہے کہ جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اس کے بارے میں باتیں کم کرے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اسے چھوڑ دے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 2886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1737»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک جامع حدیث ہے اور نبیٔ کریم کے صاحب ِ جوامع الکلم ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: اہل علم نے اس حدیث کو بڑی شان و عظمت والا قرار دیا اور اس کو ان چار فرمودات ِ نبویہ میں شمار کیا، جن پر اسلام کے احکام سہارا لیتے ہیں، بعض نے اس حدیث کو اسلام کا تیسرا حصہ قرار دیا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۱۲۹)
یہ حدیث تمام اسلامی احکام کا ملجاو ماوی ہے، اس حدیث کا مسلمان کے ہر معاملے سے گہرا تعلق ہے، جب بھی کوئی اقدام کرنا چاہے یا بولنا چاہے تو اس کے نتائج اور فوائد پر غور کر لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں ندامت ہو۔
یہ حدیث تمام اسلامی احکام کا ملجاو ماوی ہے، اس حدیث کا مسلمان کے ہر معاملے سے گہرا تعلق ہے، جب بھی کوئی اقدام کرنا چاہے یا بولنا چاہے تو اس کے نتائج اور فوائد پر غور کر لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں ندامت ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 103
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَجِلُّوا اللَّهَ يَغْفِرْ لَكُمْ) ) قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) يَعْنِي أَسْلِمُوا
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرو، وہ تم کو بخش دے گا۔“ ابن ثوبان رحمہ اللہ راوی نے کہا: ”اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جاؤ۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي العذراء۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 6794، وابو نعيم في الحلية: 1/ 226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22077»
وضاحت: فوائد: … بہرحال اللہ تعالیٰ ہی ہے، جو ہر قسم کی تعظیم کا مستحق ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
13. بابٌ فِي سَمَاحَةِ دِينِنَا الإِسْلامِ وَالاعْتِزَازِ بِهِ وَأَنَّهُ أَحَبُّ الأَدْيَانِ
ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور¤اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان
14. بابٌ فِي سَمَاحَةِ دِينِنَا الإِسْلامِ وَالاعْتِزَازِ بِهِ وَأَنَّهُ أَحَبُّ الأَدْيَانِ
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 104
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: ( (الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا: ”کون سا دین اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت، جو کہ سہولت والی ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه عبد بن حميد: 569، والبخاري في الادب المفرد: 287، وعلقه البخاري في صحيحه في الايمان: باب الدين يسر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2107»
وضاحت: فوائد: … لغت میں اس شخص کو حنیف کہتے ہیں، جو حضرت ابراہیم ؑکی ملت پر ہو اور حضرت ابراہیمؑ کو اس لیے حنیف کہتے ہیں، کہ وہ باطل سے حق کی طرف مائل ہو گئے تھے، حنف کے اصل معانی مائل ہونے اور ایک طرف جھک جانے کے ہیں۔
اس حدیث کے مفہوم کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا: {وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ} … اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، اپنے باپ ابراہیم (ؑ) کے دین کو قائم رکھو۔ (سورۂ حج: ۷۸) یعنی ایسا حکم نہیں دیا جس کا متحمل نفس انسانی نہ ہو، ورنہ تھوڑی بہت محنت و مشقت تو ہر کام میں ہی اٹھانی پڑتی ہے، بلکہ پچھلی شریعتوں کے بعض سخت احکام بھی اس نے منسوخ کر دیئے، علاوہ ازیں بہت سی ایسی آسانیاں مسلمانوں کو عطا کر دیں، جو پچھلی شریعتوں میں نہیں تھیں۔
اگر اسلام کے تمام ارکان اور فرائض و مستحبات اور محرمات و مکروہات پر غور کیا جائے تو سلیم الفطرت اور غیر جانبدار شخص کا فیصلہ یہی ہو گا کہ جس جس شعبے میں جتنی جتنی مقدار کا مطالبہ کیا گیا ہے، وہی کسی حکیم اور دانا کی حکمت اور دانائی کا فیصلہ ہو سکتا ہے، اس اعتبار سے اسلام کی کسی شق کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
اس حدیث کے مفہوم کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا: {وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ} … اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی، اپنے باپ ابراہیم (ؑ) کے دین کو قائم رکھو۔ (سورۂ حج: ۷۸) یعنی ایسا حکم نہیں دیا جس کا متحمل نفس انسانی نہ ہو، ورنہ تھوڑی بہت محنت و مشقت تو ہر کام میں ہی اٹھانی پڑتی ہے، بلکہ پچھلی شریعتوں کے بعض سخت احکام بھی اس نے منسوخ کر دیئے، علاوہ ازیں بہت سی ایسی آسانیاں مسلمانوں کو عطا کر دیں، جو پچھلی شریعتوں میں نہیں تھیں۔
اگر اسلام کے تمام ارکان اور فرائض و مستحبات اور محرمات و مکروہات پر غور کیا جائے تو سلیم الفطرت اور غیر جانبدار شخص کا فیصلہ یہی ہو گا کہ جس جس شعبے میں جتنی جتنی مقدار کا مطالبہ کیا گیا ہے، وہی کسی حکیم اور دانا کی حکمت اور دانائی کا فیصلہ ہو سکتا ہے، اس اعتبار سے اسلام کی کسی شق کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 105
عَنْ غَاضِرَةَ بْنِ عُرْوَةَ الْفُقَيْمِيِّ حَدَّثَنِي أَبِي عُرْوَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَنْتَظِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَجُلًا يَقْطُرُ رَأْسُهُ مِنْ وُضُوءٍ أَوْ غُسْلٍ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ دِينَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي يُسْرٍ) ) ثَلَاثًا يَقُولُهَا
سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور وضو یا غسل کی وجہ سے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے لگے کہ ”اے اللہ کے رسول! کیا اس طرح کرنے میں ہم پر کوئی حرج ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ کا دین آسانی والا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 372، وابويعلي: 6863، والبخاري في التاريخ الكبير: 7/ 30، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20945»
وضاحت: فوائد: … حقیقت میں دین کے تمام ارکان میں آسانی کی سہولت کو مد نظر رکھا گیا، لیکن اس حقیقت کو وہ شخص تسلیم کرے گا، جو اسلام پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے، اس بیچارے نے دینِ اسلام کی آسانی کا ادراک خاک کرنا ہے، جس کا نماز میں دل ہی نہیں لگتا، جو لوگ اسلام کے ارکان سے غافل ہیں، ایسے لوگوں کے مزاج بگڑ گئے ہیں اور ان کے نفسوں میں ایسی نحوست اور بے برکتی پیدا ہو گئی ہے کہ یہ اپنی ذات کا اندازہ لگانے سے قاصر ہو گئے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 106
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِيلٍ، إِمَّا يُعِزُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِينُونَ لَهَا) )
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روئے زمین پر اینٹوں والا گھر بچے گا نہ خیمے والا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دیں گے، یہ عزت والے کی عزت کے ساتھ ہو گا یا ذلت والے کی ذلت کے ساتھ ہو گا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو اس طرح عزت دے گا کہ ان کو اہلِ اسلام بنا دے گا اور بعض لوگوں کو اس طرح ذلیل کرے گا کہ وہ بھی (بالآخر) اس کے مطیع ہو جائیں گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 106]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 6699، والطبراني في الكبير: 20/ 601، والحاكم: 4/ 430، والبيھقي: 9/ 181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24315»
وضاحت: فوائد: … عزت والے کی عزت کے ساتھ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ قید و قتال سے پہلے ہی برضا و رغبت مشرف باسلام ہو جائیں گے۔ ذلت والے کی ذلت کے ساتھ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قید یا قتال کے نتیجے میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں، دل سے راضی ہوں یا نہ ہوں، بہرحال دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر ایسے لوگ بہترین مسلمان بن کر اچھے انجام سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مفہوم بنتا ہے: {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔} … وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، اور اللہ تعالیٰ گواہی دینے والا کافی ہے۔ (سورۂ فتح: ۲۸)
اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ آخری زمانہ میں اس وقت پوری ہو گی، جب عیسیؑ آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے، اس وقت سطح زمین پر کوئی دار الکفر باقی نہیں رہے گا، بلکہ تمام لوگ مسلمان ہو جائیں گے اور جو مسلمان نہیں ہوں گے، ان کو قتل کر دیا جائے گا، درج ذیل روایت سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے:
سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَایَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ حَتّٰی تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزّٰی)) … اس وقت تک شب و روز کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا، حتیٰ کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ … } نازل کی تو میں نے سمجھا کہ یہ دین اب مکمل ہونے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا تو عنقریب ایسے ہی ہو گا (یعنی اسلام غالب اور نافذ رہے گا)، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا، جس کی وجہ سے ہر وہ آدمی فوت ہو جائے گا، جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو گا، اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، وہ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ آئیں گے۔ (صحیح مسلم: ۵۲/۲۹۰۷)
اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ آخری زمانہ میں اس وقت پوری ہو گی، جب عیسیؑ آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے، اس وقت سطح زمین پر کوئی دار الکفر باقی نہیں رہے گا، بلکہ تمام لوگ مسلمان ہو جائیں گے اور جو مسلمان نہیں ہوں گے، ان کو قتل کر دیا جائے گا، درج ذیل روایت سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے:
سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((لَایَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ حَتّٰی تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزّٰی)) … اس وقت تک شب و روز کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا، حتیٰ کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت {ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ … } نازل کی تو میں نے سمجھا کہ یہ دین اب مکمل ہونے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے جتنا اللہ تعالیٰ چاہے گا تو عنقریب ایسے ہی ہو گا (یعنی اسلام غالب اور نافذ رہے گا)، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا، جس کی وجہ سے ہر وہ آدمی فوت ہو جائے گا، جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو گا، اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی، وہ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ آئیں گے۔ (صحیح مسلم: ۵۲/۲۹۰۷)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 107
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ أَوْ ذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ) ) وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَقُولُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرَ وَالشَّرَفَ وَالْعِزَّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلَّ وَالصِّغَارَ وَالْجِزْيَةَ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا، جہاں تک دن رات پہنچے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ اینٹوں والے یا خیمے والے کسی گھر کو نہیں چھوڑے گا، مگر عزت والوں کی عزت کے ساتھ اور ذلت والوں کی ذلت کے ساتھ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا کرے گا اور ذلت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کر دے گا۔“ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے (عزت و ذلت والے اس معاملے کو) اپنے گھر والوں میں دیکھ لیا، ہم میں سے مشرف بہ اسلام ہونے والوں نے خیر، شرف اور عزت کو پا لیا اور ہم میں سے جو لوگ کافر رہے، ذلت و حقارت اور جزیہ ان کا مقدر بنا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه البيھقي: 9/ 181، والحاكم: 4/ 430، والطبراني في الكبير: 1280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17082»
وضاحت: فوائد: … سابق حدیث میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 108
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ) )
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ذریعے اس دین کی مدد کرے گا، جن کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 108]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن عدي في الكامل: 2/ 573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20728»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے دین کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کے لیے مختلف لوگوں کو استعمال کیا، ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے، جو خود اس دین سے استفادہ نہ کر سکے، مثال کے طور پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے اور شرعی احکام کو ثابت کرنے والے وہ علما، جو خود اپنے علم پر عمل نہ کر سکے، یا جن کا مقصد ریاکاری، نمودو نمائش اور صدارت و سربراہی تھا۔
اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کافر اور بے دین لوگ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اسلام، قرآن اور صاحب قرآن پر اعتراضات کرتے ہیں۔ جس سے بہت سے کافروں کے ذہن میں اسلام اور قرآن کے بارے تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ تحقیق کر کے مشرف باسلام ہو جاتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کافر اور بے دین لوگ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اسلام، قرآن اور صاحب قرآن پر اعتراضات کرتے ہیں۔ جس سے بہت سے کافروں کے ذہن میں اسلام اور قرآن کے بارے تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ تحقیق کر کے مشرف باسلام ہو جاتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح