الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بابٌ فِي أَرْكَانِ الإِسْلامِ وَدَعَائِمِهِ الْعِظَامِ
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
حدیث نمبر: 80
عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرْبَعٌ فَرَضَهُنَّ اللَّهُ فِي الْإِسْلَامِ فَمَنْ جَاءَ بِثَلَاثٍ لَمْ يُغْنِينَ عَنْهُ شَيْئًا حَتَّى يَأْتِيَ بِهِنَّ جَمِيعًا، الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ وَصِيَامُ رَمَضَانَ وَحَجُّ الْبَيْتِ) )
زیاد بن نعیم حضرمی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام میں فرض کیا ہے، جو بندہ ان میں تین ادا کرے گا، تو وہ اسے اس وقت تک کچھ کفایت نہیں کریں گی، جب تک وہ ان سب کی ادائیگی نہیں کرے گا، وہ چار امور یہ ہیں: نماز، زکوٰۃ، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، ثم ان الحديث مرسل، فان زياد بن نعيم الحضرمي تابعي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17942»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 81
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ حَتَّى يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 81]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 2145، وابن ماجه: 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 758»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 82
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَنْ يُؤْمِنَ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَيُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو گا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس چیز پر کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے، وہ اچھی ہو یا بری۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 82]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 2145، وابن ماجه: 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1112»
وضاحت: فوائد: … یہ چار امور دوسرے اعتقادات اور ایمانیات کو بھی مستلزم ہیں، مثلا: سابقہ انبیاء و رسل پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی تمام ہدایات کو بھی تسلیم کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 83
عَنِ السَّدُوسِيِّ يَعْنِي ابْنَ الْخَصَاصِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ أُقِيمَ الصَّلَاةَ وَأَنْ أُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ وَأَنْ أَحُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَصُومَ شَهْرَ رَمَضَانَ وَأَنْ أُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا اثْنَتَانِ فَوَاللَّهِ مَا أُطِيقُهُمَا الْجِهَادُ وَالصَّدَقَةُ، فَإِنَّهُمْ زَعَمُوا أَنَّ مَنْ وَلَّى الدُّبُرَ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ فَأَخَافُ إِنْ حَضَرَتْ تِلْكَ جَشِعَتْ نَفْسِي وَكَرِهَتِ الْمَوْتَ، وَالصَّدَقَةُ فَوَاللَّهِ مَا لِي إِلَّا غُنَيْمَةٌ وَعَشْرُ ذَوْدٍ، هُنَّ رِسْلُ أَهْلِي وَحُمُولَتُهُمْ، قَالَ: فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ يَدَهُ ثُمَّ حَرَّكَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ: ( (فَلَا جِهَادَ وَلَا صَدَقَةَ فَلِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِذًا؟) ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا أُبَايِعُكَ، قَالَ: فَبَايَعْتُ عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ
سیدنا ابن خصاصیہ سدوسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ شرطیں عائد کر دیں: ”یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حجۃ الاسلام ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ جو دو چیزیں جہاد اور زکوٰۃ ہیں ناں، ان کی مجھ میں طاقت نہیں ہے، کیونکہ جہاد کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ جو وہاں سے پیٹھ پھیر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے ساتھ لوٹتا ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میدانِ جہاد میں میرا نفس گھبرا جائے اور موت کو ناپسند کرنے لگے اور رہا مسئلہ زکوٰۃ کا، تو اللہ کی قسم ہے کہ میرے پاس تھوڑی سی بکریاں ہیں اور دس اونٹ ہیں، میرے اہل کے لیے دودھ والے اور سواری والے یہی جانور ہیں۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور اس کو حرکت دی اور فرمایا: ”اگر جہاد بھی نہ ہو اور زکوٰۃ بھی نہ ہو تو پھر تو جنت میں کیسے داخل ہو گا۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتا ہوں،“ پھر میں نے ان سب امور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 83]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي المثني العبدي، فلم يروِ عنه غير جبلة بن سُحيم، وذكره ابن حبان والعجلي في الثقات۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 1233، وفي الاوسط: 1148، والحاكم: 2/ 79، والبيھقي: 9/ 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22298»
وضاحت: فوائد: … اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکمت و دانائی اور مزاج شناسی سے بدرجۂ اتم متصف تھے، اِس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس آدمی کی جہاد اور زکوۃ کو مستثنی کر دینے کی شرط قبول نہیں کی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس آدمی کے مزاج سے یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر اس کو ان چیزوں کی رخصت نہ دی گئی تو پھر بھی یہ اسلام کو قبول کر لے گا، جبکہ بوقت ِ بیعت بعض امورِ اسلام کو مصلحۃً مستثنی کر دینا بھی درست ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ؓ سے ثقیف قبیلہ کی بیعت کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: اِشْتَرَطَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ لَّا صَدَقَۃَ عَلَیْھَا وَلَاجِھَادَ۔ قَالَ: وَأَخْبَرَنِیْ جَابِرٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((سَیَتَصَدَّقُوْنَ وَیُجَاھِدُوْنَ إِذَا أَسْلَمُوْا۔)) … اس قبیلے نے (بیعت کرتے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ شرط عائد کی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا نہ جہاد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب جب یہ لوگ (پکے) مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گیااور جہاد بھی کریں گے۔ (ابوداود: ۲/ ۴۲، صحیحہ: ۱۸۸۸)
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قبیلہ یا فرد مشرف باسلام تو ہونا چاہتا ہے، لیکن اسلام کے ایک دو اجزا یا شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو حکمت یہ ہے کہ دونوں گھروں کی مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اس امید پر اس کی شرطیں قبول کر لی جائیں کہ کچھ عرصہ تک ایمان و ایقان میں پختہ ہو کر اسلام کے ہر جزو اور شقّ کو تسلیم کر لے گا، مبلغینِ اسلام کا حکیم و دانا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ؓ سے ثقیف قبیلہ کی بیعت کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: اِشْتَرَطَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ لَّا صَدَقَۃَ عَلَیْھَا وَلَاجِھَادَ۔ قَالَ: وَأَخْبَرَنِیْ جَابِرٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((سَیَتَصَدَّقُوْنَ وَیُجَاھِدُوْنَ إِذَا أَسْلَمُوْا۔)) … اس قبیلے نے (بیعت کرتے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ شرط عائد کی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا نہ جہاد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب جب یہ لوگ (پکے) مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گیااور جہاد بھی کریں گے۔ (ابوداود: ۲/ ۴۲، صحیحہ: ۱۸۸۸)
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قبیلہ یا فرد مشرف باسلام تو ہونا چاہتا ہے، لیکن اسلام کے ایک دو اجزا یا شقوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، تو حکمت یہ ہے کہ دونوں گھروں کی مصلحت کا خیال رکھتے ہوئے اس امید پر اس کی شرطیں قبول کر لی جائیں کہ کچھ عرصہ تک ایمان و ایقان میں پختہ ہو کر اسلام کے ہر جزو اور شقّ کو تسلیم کر لے گا، مبلغینِ اسلام کا حکیم و دانا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 84
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: ( (إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: ”تم اہلِ کتاب لوگوں کی طرف جا رہے ہو، پس ان کو سب سے پہلے یہ دعوت دینا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیں، اگر وہ اس معاملے میں تیری اطاعت کر لیں تو ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بات بھی تسلیم کر جائیں تو ان کو یہ تعلیم دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں پر زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی، اگر وہ یہ بات بھی مان جائیں تو پھر تم نے ان کے عمدہ مالوں سے بچ کر رہنا ہے اور مظلوم کی بددعا سے بچنا ہے، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین کوئی پردہ نہیں ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1395، 2448، ومسلم: 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2071»
وضاحت: فوائد: … جو کوئی کلمہ ٔ شہادت کا اقرار کر کے مشرف باسلام ہو جاتا ہے تو اس پر عائد ہونے والا پہلا فرض نماز ہوتا ہے، یہ اسلام کی پہلی اور آخری علامت ہے، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اس فرض سے اس قدر غافل ہے کہ اس کو اس جرم کا احساس تک نہیں ہے۔ اس وقت مظلوم اورفقیر مسلمانوں کے حقوق کو بھی ادا نہیں کیا جا رہا۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بابٌ شُعَبُ الإِيمَانِ وَمِثْلُهُ
ایمان کے شعبوں اور اس کی مثال کا بیان
حدیث نمبر: 85
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْإِيمَانُ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ بَابًا، أَرْفَعُهَا وَأَعْلَاهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں، ان میں سب سے بلند اور عالی شعبہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 9، ومسلم: 35، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8913»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 86
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا، أَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کے پچھتر چھہتر شعبے ہیں، ان میں افضل شعبہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور کم تر شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث المتقدم ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9350»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ایمان کا اعمال کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے، حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ شعبے کون سے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: قاضی عیاض کہتے ہیں: بعض علماء و فقہاء نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق ان شعبوں کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہرحال کسی کے اجتہاد کے حق میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حدیث کے مرادی معانی کے عین مطابق ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان شعبہ جات کی تفصیل کا علم نہ ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا۔
(میں ابن حجر کہتا ہوں:)ان شعبوں کا تعین کرنے والے کسی ایک انداز پر جمع نہ ہو سکے، البتہ امام ابن حبان کا طریقہ اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے: یہ شعبے اپنے مصدور و منبع کے لحاظ سے تین قسم کے اعمال منقسم ہوتے ہیں۔
(۱) قلبی اعمال (۲)قولی اعمال اور (۳) بدنی اعمال
قلبی اعمال میں اعتقادات اور نیّات داخل ہیں، جو درج ذیل چوبیس خصلتوں پر مشتمل ہیں:
اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، تقدیر پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی ذات کی خاطر کسی سے محبت یا نفرت، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور آپ کی تعظیم اور آپ کی سنت کی پیروی بھی داخل ہے، اخلاص (اس میں ریاکاری و نفاق کو ترک کرنا بھی داخل ہے)، توبہ، خوف، رجا، شکر، وفا، صبر، رضا بالقضا، توکل، رحمت، تواضع، تکبر اور عجب کو ترک کرنا، حسد اور کینہ ترک کرنا اور غیظ و غضب کو ترک کرنا۔
قولی اعمال سات اجزاء پر مشتمل ہیں:
توحید کا اقرار، تلاوتِ قرآن، علم شرعی سیکھنا اور سکھانا، دعا، ذکر و استغفار، لغو سے اجتناب۔
بدنی اعمال اڑتیس خصائل پر مشتمل ہیں:
ان میں سے درج ذیل پندرہ اعیان کے ساتھ خاص ہیں:
حسی اور حکمی طہارت (نجاستوں سے اجتناب کا تعلق بھی اسی شقّ کے ساتھ ہے)، پردہ، فرضی و نفلی نماز، فرضی و نفلی صدقہ و زکوۃ، غلاموں کو آزاد کرنا، سخاوت، نفلی و فرضی روزے، حج و عمرہ، طواف، اعتکاف، شب ِ قدر کی تلاش، دین کی حفاظت، نذر پورا کرنا، بہتر قسم کا انتخاب اور کفاروں کی ادائیگی۔
درج ذیل چھ کا تعلق اتباع سے ہے:
نکاح اور اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تربیت ِ اولاد، صلہ رحمی، آقاؤں کی اطاعت اور غلاموں سے نرمی۔
اور درج ذیل سترہ امور عوام الناس سے متعلقہ ہیں:
عدل والی امارت کا قیام، جماعت کی پیروی، امراء کی اطاعت، لوگوں کے مابین اصلاح کروانا، نیکی والے امور پر معاونت، نفاذِ حدود، جہاد، ادائیگی ٔ امانت، قرضہ چکانا، پڑوسی کی عزت کرنا، حسنِ معاملہ، مال کو اس کے مناسب مقام پر خرچ کرنا، سلام کا جواب، چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہنا، لوگوں کو تکلیف نہ دینا، لغو سے اجتناب کرنا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔ یہ کل انہتر خصائل ہیں، اگر بعض امور کو بعض میں ضم نہ کیا جائے تو ان کی تعداد اناسی بن سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۱/ ۷۲)
یہ حدیث مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اعمال، ایمان کا جز ہیں، اس حدیث سے مرجئہ جیسے باطل فرقوں کا ردّ ہو تا ہے جنہوں نے اعمال صالحہ کو ایمان کی حقیقت سے خارج کر دیا، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ممکن ہے، کیونکہ ان تمام شعبوں اور شاخوں پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے میں مسلمانوں میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جو کہ ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے، سے توحیدِ الوہیت ثابت ہوتی ہے، یعنی کائنات میں بسیرا کرنے والوں کا ایک ہی سچا اور برحق معبود ہے، جس کا نام اَللّٰہ ہے، اس کے علاوہ جن معبودوں کا تصور دنیا میں پایا جاتا ہے وہ بے بنیاد، بے تأثیر، بے اختیار، بے حقیقت اور باطل ہیں۔
انسانیت کو کسی قسم کی تکلیف اور نقصان وغیرہ سے بچانا، اتنا عظیم عمل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایمان کا ایک حصہ قرار دیا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی وقت کی بات ہے کہ ایک آدمی کسی راستے سے گزر رہا تھا، اس راستے پر جھکی ہوئی ایک کانٹے دار شاخ تھی (جس سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی) اس آدمی نے اسے کاٹ دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔ (بخاری: ۶۵۲، مسلم: ۱۹۱۴) عصر حاضر میں اس بابرکت عمل کے بر عکس بالعموم اور بالخصوص شادی بیاہ کے موقع پر گزرگاہوں کو تنگ یا بند کر دیا جاتا ہے یا بعض دوکاندار اور کوٹھیوں کے مالک تجاوزات سے کام لیتے ہیں یا بعض اوباش کھیلنے اور مجلس لگانے کیلئے سڑکوں کا انتخاب کرتے ہیں، ان تمام قابل مذمت حرکتوں سے گزرنے والوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن) یہ حرکتیں اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب اور اخلاقی پستی کی آئینہ دارہیں۔
(میں ابن حجر کہتا ہوں:)ان شعبوں کا تعین کرنے والے کسی ایک انداز پر جمع نہ ہو سکے، البتہ امام ابن حبان کا طریقہ اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے: یہ شعبے اپنے مصدور و منبع کے لحاظ سے تین قسم کے اعمال منقسم ہوتے ہیں۔
(۱) قلبی اعمال (۲)قولی اعمال اور (۳) بدنی اعمال
قلبی اعمال میں اعتقادات اور نیّات داخل ہیں، جو درج ذیل چوبیس خصلتوں پر مشتمل ہیں:
اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، تقدیر پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی ذات کی خاطر کسی سے محبت یا نفرت، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور آپ کی تعظیم اور آپ کی سنت کی پیروی بھی داخل ہے، اخلاص (اس میں ریاکاری و نفاق کو ترک کرنا بھی داخل ہے)، توبہ، خوف، رجا، شکر، وفا، صبر، رضا بالقضا، توکل، رحمت، تواضع، تکبر اور عجب کو ترک کرنا، حسد اور کینہ ترک کرنا اور غیظ و غضب کو ترک کرنا۔
قولی اعمال سات اجزاء پر مشتمل ہیں:
توحید کا اقرار، تلاوتِ قرآن، علم شرعی سیکھنا اور سکھانا، دعا، ذکر و استغفار، لغو سے اجتناب۔
بدنی اعمال اڑتیس خصائل پر مشتمل ہیں:
ان میں سے درج ذیل پندرہ اعیان کے ساتھ خاص ہیں:
حسی اور حکمی طہارت (نجاستوں سے اجتناب کا تعلق بھی اسی شقّ کے ساتھ ہے)، پردہ، فرضی و نفلی نماز، فرضی و نفلی صدقہ و زکوۃ، غلاموں کو آزاد کرنا، سخاوت، نفلی و فرضی روزے، حج و عمرہ، طواف، اعتکاف، شب ِ قدر کی تلاش، دین کی حفاظت، نذر پورا کرنا، بہتر قسم کا انتخاب اور کفاروں کی ادائیگی۔
درج ذیل چھ کا تعلق اتباع سے ہے:
نکاح اور اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، تربیت ِ اولاد، صلہ رحمی، آقاؤں کی اطاعت اور غلاموں سے نرمی۔
اور درج ذیل سترہ امور عوام الناس سے متعلقہ ہیں:
عدل والی امارت کا قیام، جماعت کی پیروی، امراء کی اطاعت، لوگوں کے مابین اصلاح کروانا، نیکی والے امور پر معاونت، نفاذِ حدود، جہاد، ادائیگی ٔ امانت، قرضہ چکانا، پڑوسی کی عزت کرنا، حسنِ معاملہ، مال کو اس کے مناسب مقام پر خرچ کرنا، سلام کا جواب، چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہنا، لوگوں کو تکلیف نہ دینا، لغو سے اجتناب کرنا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔ یہ کل انہتر خصائل ہیں، اگر بعض امور کو بعض میں ضم نہ کیا جائے تو ان کی تعداد اناسی بن سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۱/ ۷۲)
یہ حدیث مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اعمال، ایمان کا جز ہیں، اس حدیث سے مرجئہ جیسے باطل فرقوں کا ردّ ہو تا ہے جنہوں نے اعمال صالحہ کو ایمان کی حقیقت سے خارج کر دیا، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ممکن ہے، کیونکہ ان تمام شعبوں اور شاخوں پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے میں مسلمانوں میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جو کہ ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے، سے توحیدِ الوہیت ثابت ہوتی ہے، یعنی کائنات میں بسیرا کرنے والوں کا ایک ہی سچا اور برحق معبود ہے، جس کا نام اَللّٰہ ہے، اس کے علاوہ جن معبودوں کا تصور دنیا میں پایا جاتا ہے وہ بے بنیاد، بے تأثیر، بے اختیار، بے حقیقت اور باطل ہیں۔
انسانیت کو کسی قسم کی تکلیف اور نقصان وغیرہ سے بچانا، اتنا عظیم عمل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایمان کا ایک حصہ قرار دیا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی وقت کی بات ہے کہ ایک آدمی کسی راستے سے گزر رہا تھا، اس راستے پر جھکی ہوئی ایک کانٹے دار شاخ تھی (جس سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی) اس آدمی نے اسے کاٹ دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔ (بخاری: ۶۵۲، مسلم: ۱۹۱۴) عصر حاضر میں اس بابرکت عمل کے بر عکس بالعموم اور بالخصوص شادی بیاہ کے موقع پر گزرگاہوں کو تنگ یا بند کر دیا جاتا ہے یا بعض دوکاندار اور کوٹھیوں کے مالک تجاوزات سے کام لیتے ہیں یا بعض اوباش کھیلنے اور مجلس لگانے کیلئے سڑکوں کا انتخاب کرتے ہیں، ان تمام قابل مذمت حرکتوں سے گزرنے والوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن) یہ حرکتیں اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب اور اخلاقی پستی کی آئینہ دارہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 87
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَعَلَى جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ، وَعَلَى بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ادْخُلُوا الصِّرَاطَ جَمِيعًا وَلَا تَتَفَرَّجُوا، وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ جَوْفِ الصِّرَاطِ، فَإِذَا أَرَادَ يَفْتَحُ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ، وَالصِّرَاطُ الْإِسْلَامُ وَالسُّورَانِ حُدُودُ اللَّهِ تَعَالَى وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللَّهِ تَعَالَى وَذَلِكَ الدَّاعِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالدَّاعِي فَوْقَ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللَّهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِمٍ) )
سیدنا نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس راستے کے دونوں اطراف میں دو دیواریں ہیں، جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، راستے کے دروازے پر ایک داعی یہ کہہ رہا ہے: لوگو! سارے کے سارے راستے میں داخل ہو جاؤ اور اس سے زائل نہ ہو جاؤ اور جب کوئی آدمی کسی دروازے کو کھولنا چاہتا ہے تو راستے کے بیچ میں سے ایک داعی یوں آواز دیتا ہے: تو ہلاک ہو جائے، اس کو نہ کھول، اگر تو نے اس کو کھول دیا تو اس میں گھس جائے گا۔ (اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ) راستہ، اسلام ہے اور دیواریں، اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں اور کھلے دروازے، اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور ہیں اور راستے کے سرے پر داعی، اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور راستے کے بیچ والا داعی ہر مسلمان کے دل میں موجود اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2859، والنسائي: 9/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17784»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 88
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا عَلَى كَنَفَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ، فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ، وَدَاعٍ يَدْعُو عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ، فَالْأَبْوَابُ الَّتِي عَلَى كَنَفَيِ الصِّرَاطِ حُدُودُ اللَّهِ لَا يَقَعُ أَحَدٌ فِي حُدُودِ اللَّهِ حَتَّى يَكْشِفَ سِتْرَ اللَّهِ، وَالَّذِي يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
(دوسری سند) سیدنا نواس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس کی دونوں جانبوں میں دیواریں ہیں، ان میں کھلے ہوئے دروازے ہیں، جن پر پردے لٹک رہے ہیں اور ایک داعی راستے کے سرے پر ہے اور ایک داعی بندے کے اوپر اوپر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سلامتی والے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے، راستے کے دونوں جانبوں میں جو دروازے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، جب تک آدمی اللہ تعالیٰ کے پردے کو چاک نہیں کرتا، اس وقت تک وہ اس کی حدوں میں نہیں گھستا اور جو داعی اوپر سے بلا رہا ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17786»
وضاحت: فوائد: … مثال واضح ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود اور حرام کردہ امور کے قریب نہ جایا جائے، وگرنہ ایمان کے ناقص ہو جانے کا یا اس سے محروم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ راستے کے بیچ والا داعی ہر مسلمان کے دل میں موجود اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔ یہ قانون اس شخص کے لیے ہے جو اسلام کے حلال و حرام کا اجمالی علم رکھتا ہو، سنجیدہ مزاج ہو، آخرت کی فکر کرنے والا ہو اور برائیوں کے ذریعے اپنے نفس کو غیر معیاری نہ بنا چکا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
12. بابٌ فِي خِصَالِ الإِيمَانِ وَآيَاتِهِ
ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
حدیث نمبر: 89
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: بَعْدَكَ، قَالَ: ( (قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ) )
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 89]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 38، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15494»
الحكم على الحديث: صحیح