الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابٌ فِي هَجْرِ الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 230
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَرَّةً عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّهُ بَلَغَنِي تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ) )
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا شام میں ایک دوست تھا، وہ ان کو خط لکھتا رہتا تھا، ایک دفعہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف یہ بات لکھی: مجھے تمہارے بارے میں یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم نے تقدیر کے مسئلے پر کچھ (ناجائز) گفتگو کی ہے، اس لیے اب مجھے خط لکھنے سے گریز کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے، جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4613، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5639»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 231
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَجُلًا قَدِيمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ، فَقَالَ: دُلُّونِي عَلَيْهِ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ، قَالُوا: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ لَأَعَضَدْنَ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ وَلَئِنْ وَقَعَتْ رَقَبَتُهُ فِي يَدَيَّ لَأَدُقَّنَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ تَصْطَفِقُ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ) ) هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سُوءُ رَأْيِهِمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا، كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا
محمد بن عبید مکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ہمارے پاس ایک آدمی آیا ہے، وہ تقدیر کو جھٹلاتا ہے، انہوں نے کہا: ”مجھے اس کے پاس لے جاؤ،“ وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے، لوگوں نے کہا: ”اے ابن عباس! آپ اس کو کیا کریں گے؟“ انہوں نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اس پر قابو پا لیا تو اس کے ناک پر کاٹوں گا، یہاں تک کہ اس کو کاٹ دوں گا اور اگر میرے ہاتھوں میں اس کی گردن آ گئی تو اس کو توڑ دوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: گویا کہ میں بنو فہر کی ان خواتین کو دیکھ رہا ہوں، جو خزرج کا طواف کر رہی ہیں اور ان کے سرین حرکت کر رہے ہیں اور وہ مشرک ہیں۔ یہ اس امت کا پہلا شرک ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان لوگوں کی یہ گھٹیا رائے ان کو اس مقام تک پہنچا دے گی کہ یہ اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے بھی نکال دیں کہ اس نے خیر کو مقدر کیا ہے، جیسا کہ انہوں نے اس کو اس چیز سے نکال دیا کہ اس نے شر کو مقدر کیا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن عبيد المكي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3054»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 232
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ غَيْلَانَ يَعْنِي الْقَدَرِيَّ مَصْلُوبًا عَلَى بَابِ دِمَشْقَ
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے غیلان قدری کو دیکھا تھا، اس حال میں کہ اس کو بابِ دمشق پر پھانسی دی ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5881»
وضاحت: فوائد: … غیلان بن ابو غیلان دمشقی پہلا قدَری تھا، اس کا گھر دمشق میں تھا، عمر بن عبد العزیز نے اس کے نظریۂ تقدیر کی وجہ سے اس کی ملامت کی تھی، چنانچہ یہ اس نظریے سے رک گیا تھا، لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو اس نے اپنے نظریے کی اشاعت شروع کر دی، یہ باقاعدہ لوگوں کو فتوے دینے لگ گیا اور اس نے ۱۱۶ ھ میں ہشام بن عبد الملک کے ساتھ حج ادا کیا۔ امام اوزاعی کہتے ہیں: ہشام بن عبد الملک کی خلافت کے دوران غیلان قدری ہمارے پاس آیا اور تقدیر کے موضوع پر اس نے گفتگو شروع کر دی، یہ ایک منہ پھٹ شخص تھا، نتیجتاً لوگوں نے اس پر طعن کیا اور ہشام کو اس پر ناراض کر دیا، چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اس کو قتل کرکے سولی پر لٹکا دیا جائے۔ (تاریخ ابن عساکر: ۱/ ۳۵۱)
الحكم على الحديث: صحیح