الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابٌ فِي ثُبُوتِ الْقَدَرِ وَحَقِيقَتِهِ
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقْيًا نَسْتَرْقِي بِهَا وَتُقْيًا نَتَّقِيهَا تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا؟ قَالَ: ( (إِنَّهَا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى) )
سیدنا ابو خزامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ جو ہم دوا کے ذریعے علاج کرتے ہیں، دم کرواتے ہیں، بچاؤ استعمال کرتے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو رد کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے ہیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي خطأ فيه۔ أخرجه الترمذي: 2148، وابن ماجه: 3437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15551»
وضاحت: فوائد: … لیکن یہ بات درست ہے کہ مختلف بیماریاں اور ان کے علاج کے لیے کوئی دوا کھانا یا دم کروانا، اِن سب چیزوں کا تعلق تقدیر سے ہے، اللہ تعالیٰ نے خود مختلف اسباب استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 191
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَكِبَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا غُلَامُ! إِنِّي مُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ (يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا) احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھانے والا ہوں، اللہ تعالیٰ تجھے ان کے ذریعے نفع دے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، وہ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، اس کو اپنے سامنے پائے گا، جب بھی تو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر اور جب بھی تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر، اور جان لے کہ اگر پوری امت تجھے کوئی فائدہ دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نفع نہیں دیں سکے گی، مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا ہے، اسی طرح اگر پوری امت تجھے کوئی نقصان دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نقصان نہیں دے سکے گی، مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا، قلمیں اٹھا لی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه الترمذي: 2516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2669»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 192
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ زِيَادَةُ: ( (تَعَرَّفْ إِلَى اللَّهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ (وَفِيهِ أَيْضًا) فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا) )
(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ان الفاظ کی زیادتی ہے: ”تو خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کو پہچان کے رکھ، وہ تنگ دستی میں تجھے پہچان لے گا، پس اگر ساری مخلوق تجھے کسی ایسی چیز کا فائدہ دینے کا ارادہ کر لے، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں نہیں لکھی تو (وہ جو مرضی کر لیں، بہرحال) ان کو یہ قدرت نہیں ہو گی، اسی طرح اگر وہ تجھے ایسا نقصان دینے پر تل جائیں، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے نصیب میں نہیں لکھا، تو وہ ایسا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھیں گے، تو جان لے کہ ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے اور مدد صبر کے ساتھ، کشادگی تنگی کے ساتھ اور آسانی مشکل کے ساتھ ہوتی ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه الترمذي: 2516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2803»
وضاحت: فوائد: … یہ عقیدے کی پختگی ہو گی کہ مختلف جسمانی اور روحانی آزمائشوں سے بچنے کے لیے جائز اسباب استعمال کرنے کے بعد نتائج کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے، اگر وسائل کی کمی کے باوجود کافروں سے جہاد کرنے کی نوبت آ جائے تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جانا چاہیے، کسی بیماری کے علاج کے جائز اسباب استعمال کرنے چاہئیں، لیکن شفا کے معاملے میں توکل صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے، ان د و احادیث میں مذکورہ باقی نصیحتیں بھی اس لائق ہیں کہ ان کا بغور مطالعہ کر کے ان کو اپنایا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. فَضْلٌ مِنْهُ فِي مُحَاجَّةِ آدَمَ وَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ
حضرت آدم ؑاور حضرت موسیٰ ؑکا جھگڑا
حدیث نمبر: 193
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ) فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى أَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ (وَقَالَ مَرَّةً: بِرِسَالَتِهِ) وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: حَجَّ آدَمُ مُوسَى حَجَّ آدَمُ مُوسَى) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کا جھگڑا ہونے لگا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے آدم! تم ہمارے باپ ہو، تم نے ہمیں ناکام کیا اور جنت سے نکال دیا، ایک روایت میں ہے: تم وہ آدم ہو کہ جس کو اس کی غلطی نے جنت سے نکال دیا؟ آدم علیہ السلام نے کہا: اے موسی! تم وہی ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام اور اپنی رسالت کے ساتھ منتخب فرمایا اور تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی، اب کیا تم مجھے ایسی چیز پر ملامت کرتے ہو، جو اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے چالیس برس پہلے میرے حق میں لکھ دی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6614، ومسلم: 2652، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7381»
وضاحت: فوائد: … یہاں چند گزارشات کو بیان کرنا ضروری ہے:
کسی آدمی کو تقدیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے ہاں معذور نہیں سمجھا جائے گا، اللہ تعالیٰ کے ہاں مؤاخذہ کرنے کے اور معاف کرنے کے قوانین الگ ہیں اور لوگوں میں کون ہے کہ جس کو تھپڑ لگے یا اس کا کوئی اور نقصان ہو جائے اور وہ اس بنا پر معاف کر دے کہ چلو یہ تھپڑ میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا۔ اگر کسی سے کوئی برائی ہو جائے اور پھر اس برائی کی وجہ سے اس کا نقصان بھی ہو جائے تو ایسے شخص کو اس کی برائی کی بنا پر طعنہ مارنا اور اس کی مذمت کرنا شرعا درست نہیں ہے، بالخصوص اس وقت کہ جب وہ توبہ تائب بھی ہو چکا ہو۔ آدمؑ نے موسیؑ کو جو جواب دیا، وہ جواب الزامی تھا، بہرحال ان دونوں انبیاء کی بحث توعالم برزخ میں ہو رہی تھی، جو سرے سے تکلیف کا عالَم ہی نہیں ہے، اس لیے اس سلسلے میں کسی ایک پر بھی ملامت نہیں کی جا سکتی۔
کسی آدمی کو تقدیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے ہاں معذور نہیں سمجھا جائے گا، اللہ تعالیٰ کے ہاں مؤاخذہ کرنے کے اور معاف کرنے کے قوانین الگ ہیں اور لوگوں میں کون ہے کہ جس کو تھپڑ لگے یا اس کا کوئی اور نقصان ہو جائے اور وہ اس بنا پر معاف کر دے کہ چلو یہ تھپڑ میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا۔ اگر کسی سے کوئی برائی ہو جائے اور پھر اس برائی کی وجہ سے اس کا نقصان بھی ہو جائے تو ایسے شخص کو اس کی برائی کی بنا پر طعنہ مارنا اور اس کی مذمت کرنا شرعا درست نہیں ہے، بالخصوص اس وقت کہ جب وہ توبہ تائب بھی ہو چکا ہو۔ آدمؑ نے موسیؑ کو جو جواب دیا، وہ جواب الزامی تھا، بہرحال ان دونوں انبیاء کی بحث توعالم برزخ میں ہو رہی تھی، جو سرے سے تکلیف کا عالَم ہی نہیں ہے، اس لیے اس سلسلے میں کسی ایک پر بھی ملامت نہیں کی جا سکتی۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. فَصْلٌ آخَرُ فِي الرِّضَا بِالْقَضَاءِ وَ فَضْلِهِ
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 194
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ اسْتِخَارَتُهُ اللَّهَ، وَمِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَاهُ اللَّهُ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) )
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابن آدم کی سعادت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرے اور یہ بھی ابن آدم کی خوش بختی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہو جائے اور یہ ابن آدم کی بدبختی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب نہ کرے اور اس میں بھی اس کی شقاوت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر ناراض ہو جائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن ابي حميد الانصاري الزرقي متفق علي ضعفه۔ أخرجه الترمذي: 2151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1444»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 195
عَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ لِلْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ كَانَ خَيْرًا لَهُ) )
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مومن کے حق میں جو فیصلہ کیا، مجھے اس پر تعجب ہے، بیشک مومن کا سارے کا سارا معاملہ خیر والا ہے اور یہ (اعزاز) صرف مومن کے لیے ہے، اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24420»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 196
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللَّهُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن پر تعجب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جو فیصلہ کر دے، اس میں اس کے لیے خیر ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 4019، وابن حبان: 728، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20549»
وضاحت: فوائد: … جائز اسباب کے استعمال کے بعد ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے اور ہر آزمائش پر صبر کرنا چاہیے اور ماضی پر پچھتاوے کی بجائے مستقبل کے لیے نتیجہ خیز لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے، مثلا اگر کسی بد احتیاطی یا معصیت کی وجہ سے کوئی نقصان ہو جاتا ہے یا بے عزتی ہو جاتی ہے تو آئندہ کے لیے احتیاط کرے اور نافرمانیوں سے بچے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابٌ فِي تَقْدِيرِ حَالِ الْإِنْسَانِ وَهُوَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
حدیث نمبر: 197
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمُصَدَّقُ: ( (إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يُرْسَلُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفَخُ فِيهِ الرُّوحَ وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، رِزْقُهُ وَأَجَلُهُ وَعَمَلُهُ وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جو کہ صادق و مصدوق ہیں، نے ہم سے بیان کیا اور فرمایا: ”بیشک تمہاری تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک خون کا لوتھڑا رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، موت اور عمل اور اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کا، پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! بیشک تم میں سے ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ جہنمی لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوں کے اعمال کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کر دیا جاتا ہے، سو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3208، 3332، ومسلم: 2643، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3624»
وضاحت: فوائد: … یہ تقدیر کے وہی معاملات ہیں، جن کی تفصیل پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار قبل جن کو تحریر کر دیا گیا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ اس موقع پر ہر بندے کی علیحدہ فائل تیار کر دی جاتی ہے، اگلی دو احادیث میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 198
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا رِزْقُهُ؟ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا أَجَلُهُ؟ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! ذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيُعْلَمُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيُعْلَمُ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نطفہ رحم میں چالیس دن یا راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتے ہیں، پس وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! اس کا رزق کیا ہے؟ پس اسے جواب دیا جاتا ہے، پھر وہ پوچھتا ہے: اے میرے رب! اس کی موت کب ہو گی؟ پس اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ سوال کرتا ہے: اے میرے رب! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث؟ سو اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ پھر یہ بھی اس کو بتلا دیا جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15342»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، (وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَوْ خَمْسَةٌ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً) فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا ذَا، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيُكْتَبَانِ، فَيَقُولُ: مَا ذَا؟ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُكْتَبَانِ، فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَثَرُهُ وَمَصِيبَتُهُ وَرِزْقُهُ، ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ فَلَا يُزَادُ عَلَى مَا فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ) )
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نطفہ رحم میں چالیس یا پینتالیس راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اس پر ایک فرشتہ داخل ہوتا ہے اور وہ سوال کرتا ہے: اے میرے رب! کیا حکم ہے، بدبخت ہے یا خوش بخت؟ مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں لکھ لی جاتی ہیں، پھر وہ کہتا ہے: کیا حکم ہے، مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ چیزیں بھی لکھ دی جاتی ہیں، پھر اس کا عمل، عمر، مصیبت اور رزق لکھا جاتا ہے اور صحیفہ کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور اس میں زیادتی کی جا سکتی ہے نہ کمی۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2644، 2645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16241»
الحكم على الحديث: صحیح