الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابٌ فِي الْعَمَلِ مَعَ الْقَدَرِ
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 220
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَوْ قِيلَ لَهُ: أَيُعْرَفُ أَهْلُ النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ؟ قَالَ: ( (يَعْمَلُ كُلٌّ لِمَا خُلِقَ لَهُ أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ) )
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا جہنمیوں کو جنتیوں سے پہچان لیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”تو پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کر رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کوئی وہی عمل کر رہا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا یا جو اس کے لیے آسان کر دیا گیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7551، ومسلم: 2649، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19834 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20073»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 221
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ فَقَالَ: يَا أَبَا الْأَسْوَدِ! فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ أَوْ مَضَى عَلَيْهِمْ فِي قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ حُجَّةٌ؟ قَالَ: ( (بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ) ) قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُونَ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (مَنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ يُهَيِّئُهُ لِعَمَلِهَا، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا}) )
ابو اسود دیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایک دن صبح صبح سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے گیا، انہوں نے کہا: ”اے ابو اسود،“ پھر پوری حدیث ذکر کی، اس میں ہے: بیشک جہینہ یا مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! آج کل لوگ اپنے نبی کی لائی تعلیمات پر جو عمل اور محنت کر رہے ہیں اور جن کے ذریعے ان پر حجت قائم ہو چکی ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے کہ جس کا تقدیر میں فیصلہ ہو چکا ہے، یا یہ از سرِ نو ہو رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے کہ جس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور جو ان لوگوں پر جاری ہو چکی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر لوگ عمل کیوں کر رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو منزلوں میں سے ایک کے لیے پیدا کیا ہے تو وہ اس کو اس کے عمل کے لیے تیار بھی کرتا ہے،“ اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب کی اس آیت میں ہے: «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر نکلنے کی۔ (سورۂ شمس: ۸) [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7551، 6596 مختصرا، و مسلم: 2650، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20178»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا اور ان کو انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیرو شرّ کی پہچان کروا دی اور ان کی فطرت اور عقل میں خیر اور شرّ اور نیکی اور بدی کا شعور ودیعت کر دیا، تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 222
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ، أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ أَمْرٌ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ: ( (بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ) ) قَالُوا: فَكَيْفَ بِالْعَمَلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (كُلُّ امْرِيءٍ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ) )
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم لوگ جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے، جس (کا فیصلہ کر کے) اس سے فارغ ہوا جا چکا ہے، یا از سرِ نو ہو رہا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے کہ جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کرنے کی کیا حقیقت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بندے کو اس چیز کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 222]
تخریج الحدیث: «طب ك۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28035»
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابٌ فِي هَجْرِ الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 223
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسٌ وَمَجُوسُ أُمَّتِي الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا قَدَرَ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ) )
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور میری امت کے مجوسی لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، اگر یہ لوگ بیمار پڑ جائیں تو ان کی تیمارداری نہ کرنا اور اگر یہ مر جائیں تو ان کے جنازوں میں حاضر نہ ہونا۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن عبد الله مولي غفرة ضعفه ابن معين وقال: لم يسمع من احد من اصحاب النبي صلي الله عليه وآله وسلم، وقال ابن حبان: كان ممن يقلب الاخبار۔ أخرجه ابوداود: 4691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5584»
وضاحت: فوائد: … مجوسی دو معبودوں کے قائل ہیں: (۱)خَالِقُ الْخَیْر، اس کو وہ یزدان کہتے ہیں اور اس سے ان کی مراد اللہ ہوتی ہے۔ (۲) خَالِقُ الشَّر، اس کو وہ اہرمن کہتے ہیں اور اس سے ان کی مراد شیطان ہوتی ہے۔ایک قول کے مطابق مجوسی کہتے ہیں کہ نور کا فعل خیر ہے اور ظلمت کا فعل شرّ ہے، اس اعتبار سے یہ ثنویہ بن جاتے ہیں، یعنی دو معبودوں کے قائل ہو جاتے ہیں۔ یہی معاملہ قدریہ کا ہے، جو کہتے ہیں کہ خیر تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور شر نفس کی طرف سے ہے، گویا انھوں نے دو خالق تسلیم کر لیے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 224
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا وَإِنَّ مَجُوسَ أُمَّتِي الْمُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ، فَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ وَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ) )
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں، جو تقدیر کو جھٹلانے والے ہیں، پس اگر یہ لوگ مر جائیں تو ان کے جنازوں میں حاضر نہ ہونا اور اگر یہ بیمار ہو جائیں تو ان کی تیمارداری نہ کرنی۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأوّل ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6077»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 225
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ، أَلَا وَذَكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالزَّنْدِقَةِ) )
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں بھی مسخ ہو گا (یعنی شکلیں بگڑ جائیں گی)، خبردار! یہ تقدیر کو جھٹلانے والوں اور زندیقوں میں ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد۔ أخرجه الترمذي: 2153، وابن ماجه: 4061، والترمذي: 2152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5867»
وضاحت: فوائد: … زندیقوں سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو سرے سے ربوبیت اور آخرت کو تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ ہیں جن کے باطن میں کفر ہوتا ہے، لیکن وہ اظہار ایمان کا کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 226
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَمَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا قَدَرَ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ فَلَا تَعُودُوهُمْ وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ فَلَا تَشْهَدُوهُ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِهِ) )
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، اگر ان میں سے کوئی بیمار پڑ جائے تو اس کی تیمارداری نہ کرنی اور اگر کوئی مر جائے تو اس کے جنازے میں حاضر نہ ہونا، یہ لوگ دجال کے پیروکار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ ان کو اسی کے ساتھ ملا دے۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر مولي غفرة ضعيف وقد اضطرب في اسناده، وفيه رجل مبھم۔ أخرجه ابوداود: 4692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23849»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 227
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ) )
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نافرمان و بدسلوک، ہمیشہ شراب پینے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون قوله: ولامكذب بقدر فقد تفرد بھا سليمان بن عتبة الدمشقي وھو ممن لا يحتمل تفرده۔ أخرجه ابن ماجه: 3376 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28032»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 228
عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الْقَدَرِ، قَالَ: وَكَأَنَّمَا تَفَقَّأَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: ( (مَا لَكُمْ تَضْرِبُونَ كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، بِهَذَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ) ) قَالَ: فَمَا غَبَطْتُّ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَشْهَدْهُ بِمَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ، أَنِّي لَمْ أَشْهَدْهُ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور لوگ تقدیر کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ یوں لگا کہ انار کا دانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پھٹ گیا ہے (یعنی غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلے والے لوگ ہلاک ہو گئے۔“ سیدنا عبداللہ نے کہا: جس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تھے، اس میں حاضر نہ ہونے کا اتنا رشک کبھی نہیں ہوا تھا، جو اس مجلس کے بارے میں ہوا کہ کاش میں اس میں موجود نہ ہوتا (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے کا مصداق بننے سے بچ جاتا)۔ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6668»
وضاحت: فوائد: … تقدیر کے بارے میں غلط نظریات کے مختلف انداز یہ ہیں: اگر ساری چیزوں کے وقوع پذیر ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ تقدیر سے متعلقہ ہے، تو پھر ثواب و عقاب کا کیا تک بنتا ہے؟سوال ہو ا کہ ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ جہنم میں، اس کی کیا حکمت ہے؟ جوا ب دیا گیا: اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اختیار اور قوت دی ہے۔ لیکن کہا گیا کہ ان کو یہ قوت و اختیار اور نیکی یا برائی کرنے کی قدرت کس نے عطا کی ہے؟ تقدیر میںجو کچھ طے پا چکا ہے، بندہ ویسے ہی کرنے پر مجبور ہے، اس کو اپنی پسند یا ناپسند کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ برائیاں کر رہے ہیں تو یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کیا ہے، اس میں ان کا کیا قصور ہے۔ بندے اپنے افعال کے خود خالق ہیں اور سارے کے سارے معاملات از سرِ نو ترتیب پا رہے ہیں، قضا و قدر کا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 229
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ) ) وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَرَّةً: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تم اہلِ قدر (یعنی تقدیر کو جھٹلانے والوں) کی مجلس اختیار کرو اور نہ ان کو حاکم بناؤ (یا ان سے بحث مباحثہ نہ کرو)۔“ [الفتح الربانی/كتاب القدر/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حكيم بن شريك الھذلي۔ أخرجه ابوداود: 4710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 206»
وضاحت: فوائد: … مسائل کا تصفیہ ان کی رائے پر مت رکھو۔یہ حقیقت ذہن نشین کر لیں کہ جب عام مسلمانوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں فرقے کے لوگ حق پر نہیں ہیں، لیکن اُن میں ان کے مغالطوں کا جواب دینے کی اہلیت نہ ہو تو انہیں ایسے لوگوں کی مجلسوں سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے، مثال کے طور پر مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قادیانیوں کا دعوی بطلان پر مبنی ہے، لیکن اس کے باوجود بعض سادہ لوح مسلمان ان کے دلائل سے متأثر ہو کر ان کا نظریہ اختیار کر لیتے ہیں، ایسی صورت میں ایسے سادہ مسلمانوں کو اِن لوگوں کی مجالس سے ہی دور رہنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح