الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا وَكَرَاهَةِ الزِّيَادَةِ
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 702
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَبَالَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَهَالَ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهَا مَرَّةً وَعَلَى وَجْهِهِ مَرَّةً وَعَلَى ذِرَاعَيْهِ مَرَّةً وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّةً بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: الْتَفَّ إِصْبَعَهُ الْإِبْهَامَ
سیدنا قیسی ؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کوایک دفعہ دھویا، چہرے کو ایک مرتبہ دھویا، بازوؤں کو ایک مرتبہ دھویا اور دونوں پاؤں کو دونوں ہاتھوں سے ایک ایک بار دھویا۔ انھوں نے اپنی حدیث میں کہا: انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ لپیٹا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 702]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عمارة بن عثمان بن حنيف۔ أخرجه النسائي: 1/ 79، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23506»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عمارة بن عثمان بن حنيف۔ أخرجه النسائي: 1/ 79
حدیث نمبر: 703
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْمَازِنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرْتَيْنِ مَرْتَيْنِ
سیدنا عبد اللہ بن زید انصاری مازنیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعضائے مبارک کو دو دو دفعہ دھو کر وضو کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 703]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16578»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 158
حدیث نمبر: 704
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلُهُ
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 704]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 136، والترمذي: 43، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7864»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 136
حدیث نمبر: 705
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 705]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 403»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 110
حدیث نمبر: 706
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین تین بار ہاتھ دھوئے، تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا وضو تین تین دفعہ کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 706]
تخریج الحدیث: «صحيح لغير ه۔ أخرجه ابويعلي في مسنده الكبير، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 29، والطبراني في الكبير: 7990، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22570»
الحكم على الحديث:
صحيح لغير ه۔ أخرجه ابويعلي في مسنده الكبير
حدیث نمبر: 707
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً فَتِلْكَ وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا، وَمَنْ تَوَضَّأَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُ كِفْلَانِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَذَلِكَ وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا، تو وضو کی کم از کم مقدار ہے، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے، جس نے اعضا کو دو دو دفعہ دھویا، اس کے لیے دو حصے اجر ہو گا اور جس نے تین تین بار دھویا تو ایسا وضو میرا ہے اور مجھ سے پہلے والے انبیاء کا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 707]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي اسرائيل و زيد العمي۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5735»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي اسرائيل و زيد العمي۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 81
حدیث نمبر: 708
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَيْسَ هَكَذَا رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالُوا: نَعَمْ
سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے مقاعد میں تین تین دفعہ وضو کیا، آپ کے پاس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، آپ نے ان سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 708]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 404»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 230
حدیث نمبر: 709
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هَذَا وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
عبد ِ خیر سے روایت ہے کہ سیدنا علیؓ نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 709]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 9، والدارمي: 702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 919»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 9
حدیث نمبر: 710
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: ( (هَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ وضو کے بارے میں سوال کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تین تین دفعہ وضو کر کے دکھایا اور فرمایا: یہ وضو ہے، جس نے اس سے زیادہ مرتبہ دھویا، پس تحقیق اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 710]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابوداود: 135، وابن ماجه: 422، والنسائي: 1/ 88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6684»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع کی تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک یا دو دو یا تین تین بار دھویا جا سکتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ایک ہی وضو میں بعض اعضاء کو ایک بار، بعض کو دو بار اور بعض کو تین بار دھو لیا جائے، تین دفعہ سے آگے بڑھنا درست نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه ابوداود: 135
26. بَابٌ مَا يَقُولُ بَعْدَ الْوُضُوءِ
وضو کے بعد پڑھی جانے والی دعائیں
حدیث نمبر: 711
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ رَفَعَ نَظَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ) )
سیدنا عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر اپنی نظر کو آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا پڑھی: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے، جس میں سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 711]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابن عم ابي عقيل۔ أخرجه مسلم: 234، وابوداود: 170، والدارمي: 716، وابويعلي: 180، 249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 121»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم ثم رفع نظرہ الی السماء کے الفاظ نہیں ہیں، مزید تحقیق کریں۔ جامع ترمذی میں پوری دعا یوں ہے: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ، اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کہ کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ تعالی، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ مجھے بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں میں سے بنا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابن عم ابي عقيل۔ أخرجه مسلم: 234