🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَيْنِ
پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ: إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ (وَفِي رِوَايَةٍ: حَتَّى تَطْمَئِنَّا) وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں کوئی سوال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو۔“ آپ کی مراد یہ تھی کہ وضو مکمل طور پر کیا جائے۔ مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: ”جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھ کر (رکوع کی حالت میں) مطمئن ہو جا اور جب تو سجدہ کرے تو اپنی پیشانی کو اچھی طرح زمین پر رکھ، حتی کہ تو زمین کی ضخامت پائے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 692]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 447، والترمذي: 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2604)(693) اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 173، وابن ماجه: 665، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2604»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ دورانِ سجدہ پیشانی کا زمین پر زور آنا چاہیے اور وہ اس طرح ممکن ہو گا کہ سنت کے مطابق بازوؤں کو پہلوؤں سے اچھی طرح جدا کیا جائے، تاکہ ناک اور پیشانی زمین پر اچھی طرح ٹک سکیں۔ ہاتھوں اور پاؤں کو دھوتے وقت ان کی انگلیوں کا خلال کیا جائے، تاکہ ان کا اندرونی حصہ خشک نہ رہ جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 447
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابٌ فِي اللُّمَعَةِ وَالْمُوَالَاةِ وَالْحَثِّ عَلَى إِحْسَانِ الْوُضُوءِ
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے¤اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 693
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مَوْضِعَ الظُّفْرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وَضُوءَكَ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، لیکن اس کے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”لوٹ جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 693]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12515»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12515
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 694
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفْرٍ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ، فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وَضُوءَكَ) ) فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ وضو کر کے آیا تھا، لیکن اس کے قدم کی پشت پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا: ”واپس چلا جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔“ پس اس نے واپس جا کر دوبارہ وضو کیا اور پھر آ کر نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 694]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 134»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 243
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 695
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ
خالد بن معدان رحمہ اللہ ایک صحابی رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جبکہ اس کے قدم کی پشت پر درہم کے بقدر جگہ خشک رہ گئی تھی، اس کو پانی نہیں پہنچا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ دوبارہ وضو کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 695]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15576»
وضاحت: فوائد: … وضو میں موالاۃ ضروری ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اعضائے وضو کو لگاتار اور پے در پے دھویا جائے۔ اس کی مزید وضاحت اس طرح ہے کہ جب آدمی وضو سے فارغ ہو تو اس کے سارے اعضا گیلے ہونے چاہئیں، یہ درست نہیں ہے کہ بیچ میں اتنا وقفہ ڈال دیا جائے کہ جب آدمی پاؤں دھونے سے فارغ ہو تو اس کا چہرہ خشک ہو چکا ہو۔ مذکورہ بالا احادیث کی یہی فقہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ وضو کرنے کا حکم اس بنا پر دیا کہ متعلقہ صحابی کے اعضا خشک ہو چکے تھے۔ اگر بندے کو اس حال میں کسی عضو کے خشک رہ جانے کا پتہ چلے کہ سارے اعضائے وضو ابھی تک تر ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ فوراً خشک جگہ کو تر کر دے، ایسی صورت میں دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، درج ذیل دو احادیث سے بھی اس اجتہاد کا استدلال کرنا ممکن ہے:
(۱)غسل جنابت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غسل کے آخر میں پاؤں دھو کر وضو مکمل کرنا
اور (۲) ایک موقع پر بازو دھونے کے بعد کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا
پہلی حدیث کے مطابق غسل کا وقفہ کا پڑ جانے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف پاؤں دھوئے اور دوسری حدیث کے مطابق کلی اور ناک رہ گئے تھے، لیکن بازو دھونے کے بعد ان کو کر لیا گیا، دوسرے اعضا کو دوبارہ نہ دھونے کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک وہ گیلے تھے، یہ ایک اجتہادی رائے ہے، یہ دونوں احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 175
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 696
عَنْ أَبِي رَوْحِ النَّكَلَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّومِ فَتَرَدَّدَ فِي آيَةٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ( (إِنَّهُ يُلَبَّسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنُ، إِنَّ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الْوُضُوءَ، فَمَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوءَ) )
سیدنا ابو روح کلاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ روم کی تلاوت شروع کی، لیکن ایک آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تردد ہونے لگا، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”قرآن ہم پر خلط ملط کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے بعض لوگ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، لہذا جس نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی ہو، وہ اچھی طرح وضو کر کے آیا کرے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه النسائي: 2/ 156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15969»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه النسائي: 2/ 156
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 697
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: ( (إِنَّمَا لَبَّسَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ الْقِرَاءَةَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ يَأْتُونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وَضُوءٍ، فَإِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوءَ) )
سیدنا ابو روح کلاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان اس وجہ سے ہم پر قراءت کو خلط ملط کر دیتا ہے کہ بعض لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے آ جاتے ہیں، پس جب تم نماز کے لیے آؤ تو اچھی طرح وضو کر کے آیا کرو۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 697]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15967»
وضاحت: فوائد: … چونکہ عہد ِ نبوی میں پانی کی بہت کمی تھی، اس لیے ایسی صورتحال پیدا ہو جانا ممکن تھا، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض مقتدیوں کی اس سستی سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، اس سے ان لوگوں کو اپنی زندگیوں کا جائزہ لے لینا چاہیے، جن کے آگے پیچھے برے لوگ بسیرا کرتے ہیں اور وہ ہر وقت گپوں اور اول فول بکنے میں مصروف رہتے ہیں، اگر کسی کا مقصد ایمان کی سلامتی ہو تو اس کو چاہیے کہ بدوں سے دور ہو جائے اور نیکوں کے قریب ہو جائے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15967
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابٌ فِي الْوُضُوءِ مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا وَكَرَاهَةِ الزِّيَادَةِ
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 698
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ غَسْلَةً وَاحِدَةً ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ
عطا بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے وضو کیا اور ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 698]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3113»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 157
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 699
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضا کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3073»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3073
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 700
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 700]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 149»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 412
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 701
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ اعضاء کو تین تین دفعہ دھو کر وضو کرتے اور اس عمل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے اور سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ اعضاء کو ایک ایک دفعہ دھو کر وضو کرتے اور اس عمل کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: «حديث ابن عمر صحيح موقوفا و ضعيف مرفوعا۔ أخرجه ابن ماجه: 414، والنسائي: 1/ 62۔ حديث ابن عباس أخرجه البخاري: 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3526»

الحكم على الحديث:
حديث ابن عمر صحيح موقوفا و ضعيف مرفوعا۔ أخرجه ابن ماجه: 414
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں