🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي صِفَةِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ
پاؤں کو دھونے کی کیفیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 682
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ وَصَفَ لَهُمْ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا)
سیدنا عبداللہ بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر انہوں نے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔“ ایک روایت میں ہے: پھر اپنے پاؤں کو دھویا، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 682]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 191، ومسلم: 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16559»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 191
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 683
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ وَأَبِي الْأَزْهَرِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَاهُمْ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِغَيْرِ عَدَدٍ
یزید بن ابی مالک رحمہ اللہ اور ابو ازہر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھایا، پھر انہوں نے اعضا کو تین تین مرتبہ، البتہ پاؤں کو دھوتے وقت تعداد کا خیال نہ رکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 683]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16980»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث آگے آ رہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین تین بار وضو کیا اور پھر فرمایا: یہ وضو ہے، جس نے اس سے زیادہ مرتبہ دھویا، پس تحقیق اس نے برا کیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔ اگر مذکورہ بالا حدیث میں راوی کی مراد پاؤں کو تین بار سے بھی زیادہ دھونا ہے، تو اس کو کسی ایسی مجبوری پر محمول کیا جائے گا، جس نے تین بار سے زیادہ دھونے کا تقاضا کیا۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 125
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 684
عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَكَّةَ، قَالَ: وَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي بِهَا فَأَدْرَكْنَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَأَسَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْوُضُوءَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ! أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّارِ) )
سالم سبلان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف سفر کرتے تھے۔ سیدہ، ابو یحیی تیمی کے ساتھ جایا کرتی تھیں اور وہ ان کو نماز پڑھاتے تھے، ایک دن ہم نے عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پا لیا، انہوں نے ناقص وضو کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: ”اے عبدالرحمن! وضو مکمل کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’قیامت کے دن ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔‘“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 684]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26744»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 240
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 685
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: تَوَضَّأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ! أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ) )
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں وضو کیا، تو انہوں نے ان سے کہا: ”اے عبدالرحمن! وضو مکمل طور پر کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’ایڑیوں کے اوپر والے حصوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔‘“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 685]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24624»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24624
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 686
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّأُونَ فَلَمْ يَمْسَسْ أَعْقَابَهُمُ الْمَاءُ، فَقَالَ: ( (وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: لِلْعَرَاقِيبِ) مِنَ النَّارِ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور ان کی ایڑیوں تک پانی نہیں پہنچا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 686]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14445»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 454
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 687
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّأُونَ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ فَقَالَ: ( (وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا، لیکن ان کی ایڑیوں کی خشکی واضح طور پر نظر آ رہی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے، پوری طرح وضو کرو۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 687]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6809 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6809»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 241
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 688
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 688]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 165، ومسلم: 242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7122»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 689
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ) )
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے لیے اور پاؤں کے تلووں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 689]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الحاكم: 1/ 162، والبيھقي: 1/ 70، وابن خزيمة: 163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17862»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الحاكم: 1/ 162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 690
عَنْ سَعِيدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي رِبْعِيَّةُ بِنْتُ عَيَاضٍ الْكِلَابِيَّةُ عَنْ جَدِّهَا عُبَيْدَةَ بْنِ عَمْرٍو الْكِلَابِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَأَسْبَغَ الطَّهُورَ، وَكَانَتْ هِيَ إِذَا تَوَضَّأَتْ أَسْبَغَتِ الطَّهُورَ حَتَّى تَرْفَعَ الْخِمَارَ فَتَمْسَحَ رَأْسَهَا
سیدنا عبیدہ بن عمرو کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر وضو کرتے تھے۔ اسی بنا پر جب ربعیہ وضو کرتیں تو وہ ہر عضو کو اچھی طرح دھو دھو کر وضو کرتی تھیں، یہاں تک کہ دوپٹہ اٹھا کر سر کا مسح کرتی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 690]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16841»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں وضو میں خشک رہ جانے والی ایڑھیاں مراد ہیں، اگر کسی اور عضو کا کوئی حصہ خشک رہ گیا تو اس کا بھی یہی حکم ہو گا، جیسے کہنیاں اور پاؤں کے تلوے وغیرہ۔ ان احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ احتیاط اور اہتمام کے ساتھ وضو کیا جائے، لیکن تین بار سے زیادہ اعضا نہ دھوئے جائیں اور اس سلسلے میں شیطانی وسوسوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَيْنِ
پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 691
عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ
صحابی رسول سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو چھنگلی انگلی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 691]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 148، والترمذي: 400، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18173»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 148
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں