🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. بَابٌ مَا جَاءَ فِي مَشْرُوعِيَّةِ ذَلِكَ
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 731
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ فِي السَّفَرِ
سیدنا عمرؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفر میں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 387»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 387
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 732
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 732]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22849»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 205
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 733
عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: امْسَحُوا (وَفِي رِوَايَةٍ: مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ)
سیدنا بلالؓ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موزوں اور پگڑی پر مسح کرو۔ (ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا)۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 733]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح من فعله صلي الله عليه وآله وسلم، لا مِن قوله، و أخرجه مسلم: 275 بلفظ: مسح رسول اللّٰه صلي الله عليه وآله وسلم علي الخفين والخمار۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23884، 23892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24389»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح من فعله صلي الله عليه وآله وسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 734
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ (الْأَسْلَمِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا
سیدنا بریدہ اسلمیؓ سے مروی ہے کہ نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کالے رنگ کے دو سادے موزے بطورِ تحفہ بھیجے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پہنے اور وضوکرتے وقت ان پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 734]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 155، وابن ماجه: 549، 36200، والترمذي: 2820، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23369»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 735
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: ( (لَا بَأْسَ بِذَلِكَ) )
سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں پر مسح کرنے کے بارے فرمایا: ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 82، وعلقه البخاري بصيغة الجزم بعد الحديث رقم 202، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1452»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 82
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 736
عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا أَيُّوبَ نَزَعَ خُفَّيْهِ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا وَلَكِنِّي حُبِّبَ إِلَيَّ الْوُضُوءُ
علی بن مدرک کہتے ہے: میں نے سیدنا ابو ایوبؓ کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے موزے اتار دیئے، جب لوگوں نے (اعتراض کی نگاہ سے) دیکھا تو انھوں نے کہا: خبردار! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن مجھے پاؤں کو دھونا پسند ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 736]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطبراني: 4040، وابن ابي شيبة: 1/ 176، والبيھقي: 1/ 293، وعبد الرزاق: 769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23971»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطبراني: 4040
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 737
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، قَالَ: ( (عَمَدًا صَنَعْتُهُ يَا عُمَرُ) )
سیدنا بریدہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، سیدنا عمر ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے آج ایسا کام کیا ہے، جو پہلے نہیں کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! میں نے عمداً ایسے کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 737]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23361»
وضاحت: فوائد: … موزوں پر مسح کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تواترکے ساتھ ثابت ہے، حدیث نمبر (۶۷۴) کے باب کی احادیث میںموزوں اور جرابوں پر مسح کرنے کی وضاحت کی جا چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23361
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابٌ فِي اشْتِرَاطِ الطَّهَارَةِ قَبْلَ لُبْسِ الْخُفَّيْنِ
موزے پہننے سے پہلے باوضو ہونے کی شرط کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 738
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ؟ قَالَ: ( (لَا، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ) ) ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کووضو کروایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرہ اور بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے موزوں پر بھی مسح کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے موزوں کو اتار نہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، جب میں نے یہ پہنے تھے تو میرے پاؤں پاک تھے اور اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر ادا کی۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 738]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 206، 5799، ومسلم: 274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18322»
وضاحت: فوائد: … میرے پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کی حالت میں تھے۔ اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ ان الفاظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جن موزوں کو وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو، ان پر مسح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بعد میں ان کو اتارا نہ گیا ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 206
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 739
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَادِيًا فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَتَاهُ فَتَوَضَّأَ فَخَلَعَ خُفَّيْهِ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا فَرَغَ وَجَدَ رِيحًا بَعْدَ ذَلِكَ فَعَادَ فَخَرَجَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! نَسِيتَ لَمْ تَخْلَعِ الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: ( (كَلَّا، بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ) )
سیدنا مغیرہؓ سے ہی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک وادی میں داخل ہوئے، قضائے حاجت کی اور پھر باہر تشریف لے آئے اور میرے پاس آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور موزے اتار کر وضو کیا، لیکن جب فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (پیٹ میں) ہوا محسوس ہوئی، اس لیے دوبارہ لوٹ گئے پھر آپ تشریف لائے اور پھر وضو کیا، لیکن اس بار موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ بھول گئے ہیں کہ موزے نہیں اتارے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہر گزنہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو، مجھے اس طرح مسح کرنے کا تو میرے ربّ نے مجھے حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 739]
تخریج الحدیث: «ضعيف بھذه السياقة، تفرد بھا بكير بن عامر البجلي وھو ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18326»

الحكم على الحديث:
ضعيف بھذه السياقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 740
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَضِّئْنِي) ) فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجْلَاكَ لَمْ تَغْسِلْهُمَا، قَالَ: ( (إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وضوء کرواؤ۔ پس میں وضو کا پانی لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کے ساتھ ملا،پھر اس کو دھویا اور وضو کیا، وضو میں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب میں نے موزے پہنے تھے تو پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت باوضو تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 740]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابان بن عبد الله البجلي في حفظه لين، والراوي عن ابي ھريرة مبھم، ويشھد لمسح الخفين احاديث اخري۔ أخرجه الدارمي: 678، وابويعلي: 6136، والبيھقي: 1/ 107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8680»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی جن موزوں پر مسح کرنا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو وضو کی حالت میں پہنے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں