🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابٌ فِي النِّيَّةِ وَالتَّسْمِيَةِ عِنْدَ الْوُضُوءِ
وضو کی نیت اور اس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 633
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ) )
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اور صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے، جو وہ نیت کرے گا، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی، پس اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا، اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اسے پا لے گا اور جس کی کسی خاتون کی خاطر ہو گی، وہ اس سے نکاح کر لے گا، بہرحال اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی، جس کی طرف وہ ہجرت کرے گا۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1، ومسلم: 1907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 168»
وضاحت: فوائد: … یہ اتنہائی اہم اور جامع حدیث ہے اور ہر نیکی کے کرنے اور ہر برائی سے بچنے میں اس حدیث ِ مبارکہ کا دخل ہو گا، نیت کی دو قسمیں ہیں، ایک نیت اعمالِ صالحہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے، مثلا ظہر کی چار رکعتیں، عصر کی چار رکعتیں، اِن سے پہلے والی چار چار سنتیں، فرضی روزہ، نفلی روزہ وغیرہ، ہر عمل کو شروع کرتے وقت اس کو دوسرے اعمال سے ممتاز کیا جائے گا۔ نیت کی دوسری قسم عامل کے مقصد کا تعین کرتی ہے کہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کی غرض و غایت ریاکاری، نمودو نمائش یا کسی غیر اللہ کا ڈر خوف ہے۔ چونکہ وضو بہت بڑی نیکی اور عبادت ہے، اس لیے اس کے لیے نیت کرنا بھی ضروری ہے، نیت کے بغیر وضو نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 634
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وَضُوءَ لَهُ وَلَا وَضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کی کوئی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں اور اس آدمی کا کوئی وضو نہیں، جو وضو پر «بِسْمِ اللّٰہِ» نہیں پڑھے گا۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 634]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 101، وابن ماجه: 399، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9408»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن صلاح نے کہا: اِن احادیث کے مجموعہ سے وہی کچھ ثابت ہوتا ہے، جو کچھ حسن حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ (النتائج لابن حجر: ۱/ ۲۳۷) حافظ ابن حجر نے کہا: ان احادیث کے مجموعہ سے پیدا ہونے والی قوت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس مسئلہ کی کوئی اصل ہے۔ (التلخیص الحبیر: ۱/ ۷۵)

الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 101
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 635
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا وَضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس آدمی کا کوئی وضو نہیں، جو اس پر «بِسْمِ اللّٰہِ» نہیں پڑھے گا۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 635]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11391»
وضاحت: فوائد: … ابن ہمام حنفی نے اس حدیث کو حسن قرار دے کر وضو کے شروع میں بسم اللّٰہ پڑھنا واجب قرار دیا۔ (شرح فتح القدیر: ۱/۲۳) اور ابن نجیم حنفی نے بھی حسن کہا۔ (البحر الرائق: ۱/۱۸)

الحكم على الحديث:
قال الالباني: حسن ۔ أخرجه ابن ماجه: 397
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 636
عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وَضُوءَ لَهُ، وَلَا وَضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ) )
رباح بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے وضو پر «بِسْمِ اللّٰہِ» نہیں پڑھی، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 636]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ابي ثفال المري۔ أخرجه مختصرا الترمذي: 25، وابن ماجه: 398، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23624»
وضاحت: فوائد: … نیز سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ((تَوَضَّئُوْا بِسْمِ اللّٰہِ۔)) … بسم اللہ پڑھ کر وضوء کرو۔ (نسائی: ۷۸)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، نیز صرف بِسْمِ اللّٰہ کے الفاظ ادا کرنے چاہئیں، نہ کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمَ کے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابٌ فِي اسْتِحْبَابِ غَسْلِ الْيَدَيْنِ قَبْلَ الْمَضْمَضَةِ وَتَأْكِيدِهِ لِنَوْمِ اللَّيْلِ
کلی سے پہلے ہاتھ دھونے کے مستحب ہونے اور رات کی نیند کے لیے تاکیدی طور پر دھونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 637
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ (يَصِفُ وَضُوءَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، فَعَلَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ( (الْحَدِيثَ) ) (وَفِي آخِرِهِ: قَالَ يَعْنِي عَلِيًّا) هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبد خیر رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: انہوں نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس طرح اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور ہتھیلیوں کو دھویا، ایسے تین بار کیا۔ عبد خیر کہتے ہیں: ہر مرتبہ آپ اپنا ہاتھ تین بار دھو لینے سے پہلے برتن میں داخل نہیں کرتے تھے، …۔ آخر میں ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 637]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 112، والنسائي: 1/ 67، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1133»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 112
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 638
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ عَنْ جَدِّهِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا أَيْ غَسَلَ كَفَّيْهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) يَعْنِي غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ: أَدْخَلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ أَوْ غَسَلَهُمَا خَارِجًا؟ قَالَ: لَا أَدْرِي
سیدنا اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور تین دفعہ پانی بہایا، یعنی تین دفعہ ہتھیلیوں کو دھویا۔ ایک روایت میں ہے: یعنی ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ میں نے امام شعبہ سے کہا: ”ہاتھوں کو برتن میں داخل کر دیا تھا یا برتن سے باہر کر کے دھویا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”یہ تو میں نہیں جانتا۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 638]
تخریج الحدیث: «ضعيف لجھالة ابن ابي اوس۔ أخرجه النسائي: 1/ 64، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16270»
وضاحت: فوائد: … پہلے کئی احادیث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کے شروع میں تین بار ہاتھ دھوتے تھے۔

الحكم على الحديث:
ضعيف لجھالة ابن ابي اوس۔ أخرجه النسائي: 1/ 64
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاوِيَةُ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ) ) قَالَ: وَقَالَ وَكِيعٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي رَزِينٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ ثَلَاثًا، (حَدَّثَنَا) عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا زَائِدَةُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (حَتَّى يَغْسِلَهَا مَرَّةً أَوْ مَرْتَيْنِ) ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً: ( (إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی بیدار ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو تین دفعہ دھو لینے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے، کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے۔“ ایک روایت میں ہے: ایک یا دو دفعہ دھونے سے پہلے۔ ایک روایت میں ہے: جب تم میں کوئی آدمی اپنی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے، جب تک ان کو تین دفعہ نہ دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 639]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10093»
وضاحت: فوائد: … اس حکم کی جو علت بیان کی گئی ہے کہ آدمی کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ رات اور دن کی ہر نیند کے بعد ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے تین دفعہ دھونا چاہیے۔یہ شریعت ِ اسلامیہ کا حسن ہے کہ وہ کسی پہلوسے انسان کے لیے مضرّ اور مشتبہ چیز کو پسند نہیں کرتی، بلکہ اس کی طبع کا بھی خیال رکھتی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 278
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابٌ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاسْتِثْنَارِ
کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور اس کو جھاڑنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 640
عَنْ أَبِي غَطْفَانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اسْتَنْثِرُوهُ ثِنْتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا) ) )
ابو غطفان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، وہ وضو کر رہے تھے، انہوں نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”دو دفعہ ناک کو جھاڑا کرو،“ (ایک روایت میں ہے: دو یا تین دفعہ اچھی طرح جھاڑا کرو)۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 640]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 141، وابن ماجه: 408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3296»
وضاحت: فوائد: … الْمَضْمَضَۃ (کلی کرنا): منہ میں پانی کو حرکت دینا اَلْاِسْتِنْشَاق: سانس کی مدد سے پانی کو ناک میں چڑھانا اَلْاِسْتِنْثَار: ناک میں چڑھائے ہوئے پانی کو سانس کے پریشر سے باہر پھینکنا کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دورانِ وضو ناک کو سنت کے مطابق صاف نہیں کرتے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 141
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 641
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَأَتَيْنَاهُ (يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأُتِيَ بِرَكْوَةٍ فِيهَا مَاءٌ وَطَسْتٍ، قَالَ: فَأَفْرَغَ الرَّكْوَةَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِكَفٍّ كَفٍّ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: هَذَا وَضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوهُ
عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نماز فجر ادا کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے ہاں بیٹھ گئے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، پس ایک برتن لایا گیا، جس میں پانی تھا اور چلمچی لائی گئی، پس انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی بہایا اور دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا، پھر ایک ایک چلو کر کے تین تین کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ ایک روایت میں ہے: ایک ہی چلو سے تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور بازوؤں کو تین تین دفعہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں رکھا اور دونوں ہتھیلیوں کے ساتھ ایک دفعہ سر کا مسح کیا، پھر تین تین بار اپنے پاؤں کو دھویا اور پھر کہا: ”یہ تمہارے نبی کا وضو ہے، اس کو سیکھ لو۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 111، 112، والنسائي: 1/67، وابن ماجه: 404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1027»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصمؓ سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو کر کے دکھائیں، پس انھوں نے وضو کیا، (راوی نے کلی اور ناک کا یہ طریقہ بیان کیا) ثُمَّ اَدْخَلَ یَدَہٗ فَاسْتَخْرَجَھَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ فَفَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا۔ … پھر انھوںنے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس کو نکالا اور ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اس طرح تین دفعہ کیا۔ آخر میں کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ ہی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ، فَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا۔ … میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اس طرح تین دفعہ کیا۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ایک ہی چلو سے کلی بھی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی میں بھی چڑھانا چاہیے، جبکہ ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ کلی اور ناک کے لیے ایک چلو لینے کو وصل اور الگ الگ چلو لینے کو فصل کہتے ہیں۔ وصل کی احادیث تو واضح اور صریح ہیں، لیکن کوئی روایت صراحۃً فصل پر دلالت نہیں کرتی، اگر کسی سے کوئی گنجائش ملتی ہے تو وہ ضعیف ہے، مثلا: صحابی کہتے ہیں: فَرَاَیْتُہٗ یَفْصِلُ بَیْنَ الْمَضْمَضَۃِ وَالْاِسْتِنْشَاقِ۔ … میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں فاصل کرتے تھے۔ (ابوداود: ۱۳۹) پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہے اور طلحہ کا باپ مجھول ہے، دوسری بات یہ ہے کہ یہ حدیث صراحت کے ساتھ دو چلوؤں پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ ایک چلو سے بھی کلی اور ناک میںپانی چڑھانے میں فاصلہ کیا جا سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ آدھا چلو منہ میں ڈال کر کلی کی اور پھر آدھا چلو ناک میں ڈال دیا۔ یہی حال باقی روایات کا ہے، لیکن یہ گزارش ضروری ہے کہ جو احباب فصل کو ثابت کرنے کے لیے زور لگاتے ہیں، ان کو وصل بھی تسلیم کر لینا چاہیے، کیونکہ یہ تو صحیح اور صریح احادیث سے ثابت ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه ابوداود: 111
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 642
عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا (تَصِفُ وَضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَتْ: وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً مَرَّةً
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل۔ أخرجه ابن ماجه: 418، 438، وأخرجه ابوداود: 130 مختصر ا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27556»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل ۔ أخرجه ابن ماجه: 418
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں