الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابٌ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
حدیث نمبر: 605
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلَاسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ! فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ) غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِي! أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ) ) أَكَذَاكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ
عاصم بن سفیان ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم لوگ غزوہ سلاسل کے لیے گئے، لیکن یہ غزوہ رہ گیا، پس انہوں نے سرحد پر پہرہ دیا اور پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ آئے جبکہ ان کے پاس سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے، عاصم نے کہا: ”اے ابو ایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا ہے، جبکہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوں میں نماز پڑھے گا، اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ انہوں نے کہا: ”بھتیجے! کیا میں تجھے اس سے آسان عمل نہ بتا دوں؟ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جس نے اس طرح وضو کیا، جس طرح اس کو حکم دیا گیا اور اس طرح نماز پڑھی، جیسے اس کو پڑھنے کا حکم دیا گیا، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘ عقبہ! اسی طرح حدیث ہے نا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 605]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1196، والنسائي: 1/ 90، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23993»
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1196
حدیث نمبر: 606
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَتَمَّهُمَا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ مُعَجِّلًا أَوْ مُؤَخَّرًا) )
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”لوگو! بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جس نے وضو کیا اور پورا وضو کیا، پھر مکمل طور پر دو رکعت نماز پڑھی، وہ اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرے گا، وہ اسے جلدی یا بدیر عطا کر دے گا۔‘“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 606]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ميمون ابو محمد المرائي التميمي ضعيف۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:27497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28045»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 607
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو الْفَضْلِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرْضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَخِي! مَا أَعْمَدَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ وَمَا جَاءَ بِكَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، إِلَّا صِلَةُ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: لَبِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا (شَكَّ سَهْلٌ) يُحْسِنُ فِيهِمَا الذِّكْرَ وَالْخَشُوعَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غُفِرَ لَهُ) )
یوسف بن عبداللہ بن سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”بھتیجے! کس چیز نے تجھ سے اس شہر کا ارادہ کروایا؟ کون سی چیز لے آئی تجھے؟“ میں نے کہا: ”جی کوئی چیز نہیں ہے، بس آپ اور میرے والد کے درمیان جو تعلق تھا، اس کے لیے آیا ہوں،“ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ جھوٹ بولنے کا برا وقت ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر کھڑا ہوا اور دو یا چار رکعت نماز پڑھی اور اس میں اچھے انداز میں ذکر اور خشوع اختیار کیا، پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی، اس کو بخش دیا جائے گا۔‘“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔أخرجه الطبراني في الاوسط: 5022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28096»
وضاحت: فوائد: … یہ احادیث وضو کرنے، مساجد کی طرف جانے اور ان میں نماز ادا کرنے، نماز کا انتظار کرنے اور وضو کے بعد نماز ادا کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں، اگر یہ احادیث ذہن نشین کر لی جائیں تو نہ صرف عمل میں رغبت بڑھتی ہے، بلکہ عمل کے وقت خاص سرور نصیب ہوتا ہے۔
ابو درداءؓ یہ بت اس وقت کر رہے ہیں جب ان کو موت کے آثار نظر آ رہے تھے اور راوی کے بقول اسی بیماری میں وہ فوت ہو گئے تھے تو وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولنے کا وقت نہیں۔ اس لیے میں ایک سچی حدیث سنانا چاہتا ہوں۔ (عبدللہ رفیق)
ابو درداءؓ یہ بت اس وقت کر رہے ہیں جب ان کو موت کے آثار نظر آ رہے تھے اور راوی کے بقول اسی بیماری میں وہ فوت ہو گئے تھے تو وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولنے کا وقت نہیں۔ اس لیے میں ایک سچی حدیث سنانا چاہتا ہوں۔ (عبدللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔أخرجه الطبراني في الاوسط : 5022
4. (4) باب في آداب تتعلق بالوضوء وفيه فصول
وضوء سے متعلقہ آداب کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: Q608]
5. (الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي ذَمِّ الْوَسْوَسَةِ وَكَرَاهَةِ الْإِسْرَافِ فِي مَاءِ الْوُضُوءِ
وسوسے کی مذمت اور وضو کے پانی میں اسراف کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 608
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لِلْوُضُوءِ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ الْوَلَهَانُ، فَاتَّقُوهُ، أَوْ قَالَ: فَاحْذَرُوهُ) )
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا ایک شیطان ہے، اس کو «وَلَہَان» کہتے ہیں، پس اس سے بچ کر رہو۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 608]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، خارجة بن مصعب متروك الحديث، وعتي بن ضمرة فيه جھالة، ثم ھو معلول۔ أخرجه الترمذي: 57، وابن ماجه: 421، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21558»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 609
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: ( (مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ؟) ) قَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعد! یہ کیا اسراف کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، اور اگرچہ تو جاری نہر پر ہو۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 609]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحُيَيّ بن عبد الله المعافري۔ أخرجه ابن ماجه: 425، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7065»
وضاحت: فوائد: … اگلے ابواب میں وضو کا مکمل طریقہ بیان کیا جائے گا، اعضاء کو تین سے زیادہ بار دھونے کی اجازت نہیں ہے اور طہارت کے سلسلے میں وسوسوں سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے، وگرنہ شیطان کئی مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحُيَيّ بن عبد الله المعافري۔ أخرجه ابن ماجه: 425
6. (الْفَصْلُ الثَّانِي فِي مِقْدَارِ مَاءِ الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ
وضواور غسل کے پانی کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 610
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْوُضُوءِ؟ قَالَ: مُدٌّ، قَالَ: كَمْ يَكْفِينِي لِلْغُسْلِ؟ قَالَ: صَاعٌ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا يَكْفِينِي، قَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا: ”وضو کے لیے مجھے کتنا پانی کفایت کرے گا؟“ انہوں نے کہا: ”ایک مد۔“ اس نے کہا: ”اور غسل کے لیے مجھے کتنا پانی کفایت کرے گا؟“ انہوں نے کہا: ”ایک صاع۔“ اس آدمی نے کہا: ”یہ پانی مجھے تو کفایت نہیں کرتا،“ انہوں نے کہا: ”تیری ماں نہ رہے۔ یہ مقدار اس ہستی کے لیے تو کافی تھی، جو تجھ سے بہتر تھی،“ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 610]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 11646، والبزار: 255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2628»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني: 11646
حدیث نمبر: 611
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يُجْزِئُ فِي الْوُضُوءِ رِطْلَانِ مِنْ مَاءٍ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کے لیے دو رطل پانی کفایت کرتا ہے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 611]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك النخعي سييء الحفظ۔ أخرجه ابوداود: 95، والترمذي: 609، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12870»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 612
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِإِنَاءٍ يَكُونُ رِطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے برتن سے وضو کر لیتے تھے، جس میں دو رطل پانی آتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل کر لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 612]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12874»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12874
حدیث نمبر: 613
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (يَكْفِي أَحَدَكُمْ مُدٌّ فِي الْوُضُوءِ) )
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کے لیے تم کو ایک مد پانی کافی ہے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 613]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوعوانة: 1/ 233، وابويعلي: 4307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13824»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابوعوانة: 1/ 233