🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. (الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي اسْتِحْبَابِ الْبَدَاءَةِ بِالْيَمِينِ فِي كُلِّ مَا كَانَ مِنْ بَابِ التَّكْرِيمِ وَالتَّزْيِينِ
ہر تکریم و تزئین والے کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرنے کے مستحبّ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 614
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ، مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام امور میں حسب استطاعت دائیں طرف کو پسند کرتے، مثلاً: وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 614]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 168، 426، ومسلم: 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25134»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 168
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 615
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَؤُوا بِأَيْمَانِكُمْ، وَقَالَ أَحْمَدُ: بِمَيَامِنِكُمْ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو تو دائیں طرف سے شروع کیا کرو۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 615]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4141، وابن ماجه: 402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8637»
وضاحت: فوائد: … تمام امورِ شریفہ اور تکریم و تزئین کے کاموں میں دائیں ہاتھ اور دائیں جانب کو مقدم کرنا چاہیے، انسانی زندگی میں چند امور ہی ایسے ہیں کہ جن میں بائیں ہاتھ یا بائیں جانب کو مقدم کیا جاتا ہے، مثلا مسجد سے نکلنا، کپڑے اتارنا، بیت الخلاء میں داخل ہونا، ناک جھاڑنا، وغیرہ۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسندیدہ سنت بھی ہے اور اس سے شیطان کی مخالفت بھی ہوتی ہے، کیونکہ وہ بائیں ہاتھ اور بائیں جانب کو مقدم کرتا ہے، لیکن اگر تمام مسلمانوں کے حوالے سے بات کر دی جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ ہم سب نے اس معاملے میں بہت سستی کی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 4141
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. (5) باب في صفة وضوء النبي صلى الله عليه وآله وسلم وفيه فصول
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کی کیفیت
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: Q616]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِيمَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی کیفیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 616
عَنْ حُمْرَانَ (بْنِ أَبَانَ) قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَاءٍ وَهُوَ عَلَى الْمَقَاعِدِ فَسَكَبَ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَهَا (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهُمَا) ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: وَأَمَرَّ يَدَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا عَلَى ظَاهِرِ لِحْيَتِهِ) ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وَضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ صَلَاتِهِ بِالْأَمْسِ) )
حمران بن ابان رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، جبکہ وہ مقاعد میں تھے، انہوں نے دائیں ہاتھ پر پانی بہایا، ایک روایت کے مطابق دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ہتھیلیوں کو تین دفعہ دھویا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑا اور کہنیوں سمیت بازوؤں کو تین بار دھویا اور پھر سر کا مسح کیا، ایک روایت میں ہے: اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے ظاہری حصے کے اوپر سے گزارا اور پھر ان کو داڑھی کے ظاہری حصے پر پھیر دیا، پھر تین دفعہ اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعتیں اس طرح ادا کیں کہ وہ ان میں اپنے نفس سے گفتگو نہ کرے، تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ ایک روایت میں ہے: اس کے وہ گناہ بخش دیے جائیں گے، جو اس نماز اور کل والی نماز کے درمیان ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 616]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 159، ومسلم: 226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 418»
وضاحت: فوائد: … مقاعد سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں تین اقوال ہیں: سیدنا عثمان ؓکے گھر کے پاس دوکانیں یا سیڑھیاں یا مسجد کے قریب ایک جگہ کا نام، جہاں وہ لوگوں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے بیٹھتے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 159
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 617
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ غَسْلًا
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، تین دفعہ ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پاؤں دھوئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 617]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 527»
وضاحت: فوائد: … احادیث ِ صحیحہ سے وضو کے ثابت ہونے والے احکام:
وضو کا مسنون طریقہ: … ابتدا میں نیت کرنا، بسم اللہ پڑھنا، تین دفعہ ہاتھ دھونا اور انگلیوں کا خلال کرنا، تین دفعہ کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا اور یہ دونوں کام صرف ایک چلو سے کرنا، تین دفعہ چہرہ دھونا اور داڑھی کا خلال کرنا، تین دفعہ دایاںاور پھر بایاں بازو کہنیوں سمیت دھونا، سر اور کانوں کا ایک چلو پانی سے اس طرح مسح کرنا کہ دونوں ہاتھوں کو سر کے سامنے والے حصے سے گدی کی طرف لے جانا اور پھر پیشانی کی طرف واپس لے آنا اور کان کے اندرونی حصے کا انگشت ِ شہادت سے اور بیرونی حصے کا انگوٹھے سے مسح کر دینا، پھر تین دفعہ دایاں اور تین دفعہ بایاں پاؤں دھونا اور انگلیوں کا خلال کرنا، وضو کے بعد ایک چلو پانی شرمگاہ پر چھڑکنا اور مسنون دعائیں پڑھنا۔
ملحوظات: … تین دفعہ اعضا دھونا افضل ہے، اگر تمام اعضا ایک ایک یا دو دو بار دھوئے جائیں یا ایک وضو کے دوران کوئی عضو ایک دفعہ،کوئی دو دفعہ اور کوئی تین دفعہ دھویا جائے تو وضو درست ہو گا۔کلی کرتے وقت منہ میں پانی کو حرکت دی جائے اور سانس کے ذریعے ناک میں پانی چڑھا کر اسے سانس کے پریشر کے ذریعے باہر نکالا جائے، اور یہ دونوں کام ایک چلو پانی سے کیے جائیں، یعنی آدھے چلو سے کلی کی جائے اور آدھے سے ناک کی صفائی۔ سر پر مسح کرنے کے تین طریقے ہیں: مکمل سر پر، مکمل پگڑی پر اور سر کے اگلے حصے پر اور باقی پگڑی پر۔ سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی درست ہے۔ گردن اور اس کے پہلوؤں پر مسح کرنے کی کوئی قابل حجت دلیل نہیں ہے۔ جس حدیث میں وضو کے بعدانگلی اٹھانے کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہے اور آسمان کی طرف دیکھنا بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 435
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا علی بن ابو طالبؓ سے مروی حدیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 618
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ (بْنُ مَهْدِيٍّ) ثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ قَالَ: جَلَسَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحْبَةِ ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِهِ: ائْتِنِي بِالرَّكْوَةِ وَالطَّسْتِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: صُبَّ، فَصَبَّ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً، (وَفِي رِوَايَةٍ: فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ، قَالَ الرَّاوِي: وَلَا أَدْرِي أَ رَدَّ يَدَهُ أَمْ لَا) ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَغَرَفَ بِكَفِّهِ فَشَرِبَ، (وَفِي رِوَايَةٍ: وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ) ثُمَّ قَالَ: هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ
عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز فجر ادا کرنے کے بعد رحبہ میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: ”وضو کا پانی میرے پاس لاؤ،“ پس وہ ایک برتن لایا، جس میں پانی تھا اور ایک چلمچی لایا، عبد خیر کہتے ہیں: ہم بیٹھے دیکھ رہے تھے، انہوں نے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر بہا کر ہتھیلیوں کو دھویا اور ایسے تین بار کیا۔ عبد خیر کہتے ہیں: جب بھی وہ برتن میں ہاتھ داخل کرتے تھے تو پہلے ان کو تین بار دھوتے تھے، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور بائیں ہاتھ سے جھاڑا، ایسے تین بار کیا، ایک روایت میں یہ وضاحت ہے کہ: انہوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور یہ عمل تین دفعہ کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی سمیت دایاں بازو تین دفعہ دھویا اور پھر تین دفعہ بایاں بازو دھویا، پھر انہوں نے دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، یہاں تک کہ اس کے ہر طرف پانی پھیل گیا، پھر اس کو پانی سمیت برتن سے نکالا اور بائیں ہاتھ پر لگایا اور پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، ایک روایت میں ہے: سر کے سامنے والے حصے سے پچھلے حصے تک مسح کیا، راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہیں ہے کہ ہاتھوں کو واپس بھی لوٹایا تھا یا نہیں، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو دھویا اور دائیں ہاتھ سے ہی بائیں پاؤں پر پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک چلو بھر کر پی لیا، ایک روایت میں ہے: اپنے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا اور پھر فرمایا: ”یہ اللہ کے نبی کا وضو ہے، جو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کو دیکھنا چاہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو یہ ہے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 618]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 112، والنسائي: 1/ 67، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1133»
وضاحت: فوائد: … چلمچی: ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 112
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 619
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ خَيْرٍ يُؤُمُّنَا فِي الْفَجْرِ فَقَالَ: صَلَّيْتُ يَوْمًا الْفَجْرَ خَلْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَجَاءَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الرَّحْبَةِ فَجَلَسَ وَسَنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْحَائِطِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: يَا قَنْبَرُ! ائْتِنِي بِالرَّكْوَةِ وَالطَّسْتِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: صُبَّ، فَصَبَّ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، (فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ مُخْتَصَرًا وَفِي آخِرِهِ) فَقَالَ: هَذَا وَضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبدالملک بن سلع رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبد خیر رحمہ اللہ نماز فجر میں ہماری امامت کرواتے تھے، انہوں نے کہا: ایک دن میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز فجر ادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے، وہ چلتے چلتے رحبہ میں آ گئے اور اپنی کمر کو دیوار کا سہارا دے کر بیٹھ گئے، پھر سر اٹھایا اور کہا: ”قنبر! ڈول اور چلمچی لے آؤ۔“ پھر اس کو کہا: ”پانی بہاؤ،“ پس اس نے ان پر پانی بہایا اور انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو تین دفعہ دھویا، … پھر سابقہ حدیث کی طرح بالاختصار ذکر کیا اور اس کے آخر میں ہے: انہوں نے کہا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 619]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه النسائي في الكبري: 161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1008 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1008»

الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 161
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 620
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ أَيْضًا) قَالَ: عَلَّمَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَبَّ الْغُلَامُ عَلَى يَدَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، وَوَصَفَ وَضُوءَهُ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَغَمَزَ أَسْفَلَهَا بِيَدِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِهَا الْأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِكَفَّيْهِ رَأْسَهُ مَرَّةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ اغْتَرَفَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ بِكَفِّهِ فَشَرِبَهَا ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ
(دوسری سند) عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی تعلیم دی، اور وہ اس طرح کہ غلام نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، یہاں تک کہ انہوں نے ان کو صاف کر دیا، پھر سابقہ کیفیت کے ساتھ وضو بیان کیا، یہاں تک کہ کہا: پھر انہوں نے اپنا ہاتھ ڈول میں داخل کیا اور اس کے اندرونی نچلے حصے کو ہاتھ لگایا پھر اس کو نکالا اور دوسرے ہاتھ پر پھیرا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر ٹخنوں تک تین تین بار دونوں پاؤں دھوئے، پھر پانی کا ایک چلو لے کر پی لیا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح وضو کرتے تھے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 620]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 876»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 876
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 621
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْتِي فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَجِئْنَا بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ حَتَّى وَضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَدْ بَالَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ وَأَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ قَالَ: ثُمَّ عَادَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنَ الْمَاءِ فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمَيْهِ وَفِيهِمَا النَّعْلُ ثُمَّ قَلَبَهَا بِهَا ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے گھر میں داخل ہوئے اور وضو کا پانی منگوایا اور ہم ایک ایسا چھوٹا سا برتن لے آئے، جس میں تقریباً ایک مد پانی آتا، حتیٰ کہ وہ برتن آپ کے سامنے رکھ دیا گیا، جبکہ وہ پیشاب بھی کر چکے تھے، انہوں نے کہا: ”اے ابن عباس! کیا میں تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ کر دوں؟“ میں نے کہا: ”جی، کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،“ پس ان کے لیے برتن رکھ دیا گیا، انہوں نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑا، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لیا اور چہرے پر مارا اور کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے ڈالے، پھر تین دفعہ یہ عمل دوہرایا، پھر دائیں ہاتھ سے پانی کا ایک چلو لے کر اس کو سر کے اگلے حصے پر ڈالا اور وہ چہرے پر بہنے لگا، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین بار دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر اور کان کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر دونوں ہتھیلیوں سے پانی لیا اور اپنے پاؤں پر مارا، جبکہ جوتے بھی پہنے ہوئے تھے، پھر اپنے پاؤں کو الٹ پلٹ کیا، پھر دوسرے پاؤں پر بھی اسی طرح کیا۔ میں نے کہا: ”کیا جوتوں سمیت وضو؟“ انہوں نے کہا: ”جی جوتوں سمیت،“ میں نے کہا: ”کیا جوتوں سمیت؟“ انہوں نے کہا: ”جی جوتوں سمیت،“ میں نے کہا: ”کیا جوتوں سمیت؟“ انہوں نے کہا: ”جی جوتوں سمیت۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 621]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود:117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 625»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں وضو سے متعلقہ تین اضافی امور کاذکر بھی ہے: اگر چہرہ دھوتے وقت کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے پھیر لیے جائیں تو سرکا مسح کرتے وقت صرف کانوں کے بیرونی حصے کا مسح کیا جائے گا۔ تین دفعہ چہرہ دھونے کے بعد سر کے اگلے حصے پر ایک چلو پانی ڈال دیا جائے۔جوتے سمیت پاؤں کو دھو لینا، لیکن یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ پورا پاؤں تر ہو جائے کوئی حصہ خشک نہ رہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود:117
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 622
عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحْبَةِ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِي وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَاحِدَةً فَقَالَ: دَاخِلُهَا مِنَ الْوَجْهِ وَخَارِجُهَا مِنَ الرَّأْسِ، وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا وَلِحْيَتُهُ تَهْطِلُ عَلَى صَدْرِهِ ثُمَّ حَسَا حَسْوَةً بَعْدَ الْوُضُوءِ فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ كَذَا كَانَ وَضُوءُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابو مطر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں رحبہ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھائیں،“ جبکہ یہ زوال کا وقت تھا، پس انہوں نے قنبر کو بلایا اور کہا: ”پانی کا برتن لاؤ،“ پس اپنی ہتھیلیاں اور چہرہ تین تین بار دھوئے اور تین کلیاں کیں، پھر بعض انگلیاں اپنے منہ میں ڈالیں اور تین بار ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ بازوؤں کو دھویا اور سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور کہا: ”سر کا داخلی حصہ چہرے سے ہے اور خارجی حصہ سر ہے،“ پھر انہوں نے پاؤں کو ٹخنوں تک تین تین بار دھویا، اس وقت ان کی داڑھی ان کے سینے پر بوندیں ٹپکا رہی تھی، پھر انہوں نے وضو کے پانی میں سے ایک گھونٹ پانی پی لیا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف المختار بن نافع ولجھالة ابي مطر البصري۔ أخرجه عبد بن حميد: 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1356»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف المختار بن نافع ولجھالة ابي مطر البصري ۔ أخرجه عبد بن حميد: 95
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں