🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابٌ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاسْتِثْنَارِ
کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور اس کو جھاڑنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 643
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَنْشَقَ أَدْخَلَ الْمَاءَ مَنْخِرَيْهِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب استنشاق کرتے تو نتھنوں میں پانی داخل کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 643]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7888 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7875»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 644
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَسْتَنْثِرْ، وَقَالَ مَرَّةً: لِيَنْثِرْ) ) **
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی وضو کرے تو وہ اپنے ناک میں پانی ڈالے اور پھر اس کو جھاڑے۔“ (مسند احمد: 7298) [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 162، ومسلم: 237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7300 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 645
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْثِرْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی وضو کرے تو وہ ناک کو جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے ناک کے نتھنوں یا جڑوں میں رات گزارتا ہے۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3295، ومسلم: 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8607»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اِذَا اسْتَیْقَظَ اَحَدُکُمْ مِنْ مَنَامِہٖ فَتَوَضَّأَ فَلْیَسْتَنْثِرْ ثَلَاثًا فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَبِیْتُ عَلٰی خَیْشُوْمِہٖ۔)) … جب کوئی آدمی نیند سے بیدار ہو اور وضو کرے تو تین دفعہ ناک کو جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے ناک کے نتھنے یا جڑ میں رات گزارتا ہے۔ لہٰذا تین دفعہ ناک جھاڑنے کا مخصوص حکم اس وضو سے متعلقہ ہے، جو رات کو سونے کے بعد کیا جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3295
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 646
عَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: ( (إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَأَبْلِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا) )
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو وضو کرے تو مکمل وضو کر، انگلیوں میں خلال کر اور جب تو ناک میں پانی چڑھائے تو اس میں مبالغہ کر، الا یہ کہ تو روزے دار ہو۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2366، والترمذي: 788، وابن ماجه: 407، و النسائي: 1/ 66، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16497»
وضاحت: فوائد: … ناک میں مبالغہ کے ساتھ پانی چڑھانے سے بعض دفعہ پانی کے قطرے حلق میں اتر آتے ہیں، اس وجہ سے روزے دار کو اس سلسلے میں مبالغہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2366
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. فَصْلٌ فِي جَوَازِ تَأْخِيرِهِمَا عَنْ غَسْلِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ وَفِي حُكْمِ التَّرْتِيبِ فِي الْوُضُوءِ
چہرے اور ہاتھوں کے بعد کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کے جواز اور وضو میں ترتیب کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 647
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح وضو کیا کہ آپ نے تین دفعہ دونوں ہتھیلیاں دھوئیں، تین بار چہرہ دھویا، تین تین مرتبہ بازو دھوئے اور پھر تین تین بار کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا اور پھر تین تین بار دونوں پاؤں دھوئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17320»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازو دھونے کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔
نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عام طریقۂ وضو اسی ترتیب والا ہے، جو عام اور مشہور احادیث میں مذکور ہے اور اسی طرح ہی وضو کرنا چاہیے، لیکن درج بالا روایت سے معلوم ہوا کہ اس معروف ترتیب کے بغیر بھی وضو کرنا ثابت ہے، اس لیے یہ بھی ٹھیک ہے، نتیجہ یہ ہے کہ وضو میں ترتیب کا لحاظ رکھنا مستحب ہے، ضروری نہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 121
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 648
عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُخْرِجُ لَهُ (تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) الْمَاءَ فِي هَذَا فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا (وَفِي رِوَايَةٍ: يَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا) وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا، الْحَدِيثَ
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس برتن میں پانی نکالتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں پر تین بار بہاتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر تین دفعہ چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھاتے، تین بار دایاں بازو دھوتے اور تین بار بائیں بازو کو دھوتے، … …۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 648]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل۔ أخرجه ابوداود: 127، 326، والترمذي: 33، وابن ماجه: 390، 440، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27555»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل۔ أخرجه ابوداود: 127
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 649
عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَاءٍ وَهُوَ عَلَى الْمَقَاعِدِ فَسَكَبَ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَهَا (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهَا) ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، الْحَدِيثَ
حمران بن ابان رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، جبکہ وہ مقاعد میں تھے، پس اپنے دائیں ہاتھ پر پانی بہا کر اس کو دھویا، ایک روایت میں ہے: اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین دفعہ اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، پھر تین بار اپنے چہرے کو دھویا اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اس کو جھاڑا، پھر کہنیوں سمیت بازوؤں کو تین تین بار دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، … …۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 159، ومسلم: 226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 418»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 159
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابٌ فِي غَسْلِ الْوَجْهِ وَتَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ وَتَعَاهُدِ الْمَاقَيْنِ
چہرے کو دھونے، داڑھی کا خلال کرنے اور ناک سے ملے ہوئے گوشۂ چشم کا خیال رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 650
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو پانی کے ساتھ داڑھی کا خلال کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الحاكم: 1/ 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26497»
وضاحت: فوائد: … سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وضوء کرتے تو ایک چلو پانی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرکے داڑھی کا خلال کرتے اورفرماتے: ((ھٰکَذَا اَمَرَنِیْ رَبِّیْ۔)) … مجھے میرے رب نے اس طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔ (ابوداود:۱۴۵، مستدرک حاکم:۱/۱۴۹ یہ حدیث متعدد شواہد کی بناء پر حسن لغیرہ ہے) حسان بن بلال کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر ؓ کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا اور داڑھی کا خلال کیا، پس میں نے کہا: کیا تم داڑھی کا خلال کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اور کون سی چیز مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔ (ابن ماجہ: ۲۹) سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے۔ (ترمذی: ۳۱) ثابت ہوا کہ داڑھی کے بارے میں سنت یہ ہے کہ وضو میں اس کا خلال کیا جائے، اس کاطریقہ یہ ہے کہ پانی کا ایک چلو ٹھوڑی کے نیچے داڑھی کے بالوں میں داخل کر کے داڑھی کے بالوں میں ایک ہاتھ کی انگلیاں پھیر دی جائیں۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الحاكم: 1/ 150
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ تَمَضْمَضَ وَمَسَحَ لِحْيَتَهُ مِنْ تَحْتِهَا بِالْمَاءِ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو کلی کرتے اور داڑھی کے نیچے سے پانی کے ساتھ داڑھی کا خلال کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدّا، واصل بن السائب و ابو سورة ابن اخي ابي ايوب مجمع علي تضعيفھما، ثم ان ابا سورة ھذا قيل: لا يعرف له سماع من ابي ايوب۔ أخرجه ابن ماجه: 433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23937»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 652
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ مِنَ الْعَيْنِ، قَالَ:
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پس تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، گوشہ چشم پر بھی ہاتھ پھیرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کا ایک بار مسح کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”کان، سر میں سے ہیں۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 652]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: والاذنان من الرأس والمسح علي المأقين وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب الاشعري وابي ربيعة سنان بن ربيعة الباھلي، وللاختلاف في رفع ووقف قوله الاذنان من الرأس أخرجه ابوداود: 134، وابن ماجه: 444، والترمذي: 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22310 ترقیم بيت الأفكار الدولية:»
وضاحت: فوائد: … سر کے مسح سے متعلقہ باب میں اَلْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ کے الفاظ پر بحث کی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: والاذنان من الرأس والمسح علي المأقين وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب الاشعري وابي ربيعة سنان بن ربيعة الباھلي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں