Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ جَوَازِ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فِيمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَمُضَاجَعَتِهَا وَمُؤَاكَلَتِهَا
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 950
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: حِضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِهِ فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ لِي: ((أَحِضْتِ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكِ ثُمَّ عُودِي))
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بستر پر تھی کہ میں حائضہ ہو گئی، اس لیے میں وہاں سے کھسک گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنا ازار اپنے اوپر کس لے اور پھر واپس آ جا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه مالك: 1/ 58، والطبراني في الاوسط: 549، والبيھقي: 1/ 311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26030»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 951
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بُدَيَّةَ قَالَتْ: أَرْسَلَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) إِلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ بَيْنَهُمَا قِرَابَةٌ، فَرَأَيْتُ فِرَاشَهَا مُعْتَزِلًا فِرَاشَهُ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِهِجْرَانٍ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: لَا وَلَكِنِّي حَائِضٌ، فَأَتَيْتُ مَيْمُونَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَرَدَّتْنِي إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ مَعَ الْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ الْحَائِضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا ثَوْبٌ مَا يُجَاوِزُ الرُّكْبَتَيْنِ
بُدَیّہ کہتی ہیں: زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث ؓ نے مجھے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓکی بیوی کی طرف بھیجا، ان دو کے درمیان رشتہ داری تھی، میں نے دیکھا کہ اس کا بستر سیدنا ابن عباسؓ کے بستر سے الگ تھلگ تھا، میں نے سمجھا کہ ناراضگی کی وجہ سے ایسا ہو گا، لیکن جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کوئی ناراضگی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ میں حائضہ ہوں اور جب میرا حیض شروع ہو تا ہے تو وہ میرے قریب نہیں آتے، پس میں سیدہ میمونہ کے پاس آگئی اور ان کو یہ صورتحال بتائی، انھوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی طرف واپس کر دیا اور ان کی طرف یہ پیغام بھیجا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی حائضہ بیویوں کے ساتھ سو تے تھے، جبکہ ان کے درمیان صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جو گھٹنوں سے بھی تجاوز نہیں کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: ما يجاوز الركبتين وھذا اسناد ضعيف لجھالة بدية مولاة ميمونة، ومحمد بن اسحاق مدلس۔ أخرجه مسلم: 295 بلفظ: عن ميمونة قالت: كان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يضطجع معني وانا حائض وبيني وبينه ثوب۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27356»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. فَصْلٌ فِي جَوَازِ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا
حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جوٹھے کے پاک ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 952
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْتَى بِالْإِنَاءِ فَأَشْرَبُ مِنْهُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ يَأْخُذُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيِّ، وَإِنْ كُنْتُ لَآخُذُ الْعَرْقَ فَآكُلُ مِنْهُ ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيِّ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس برتن لایا جاتا، پہلے میں اس سے پیتی، جبکہ میں حائضہ ہوتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برتن پکڑ لیتے اور میرے منہ کی جگہ پر اپنا منہ رکھتے تھے اور میں ہڈی والی بوٹی لے کر اس سے گوشت نوچ کر کھاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو لے لیتے اور میرے منہ کی جگہ پر اپنا منہ رکھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 952]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24832»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 953
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ فَقَالَ: ((وَآكُلْهَا))
سیدنا عبد اللہ بن سعد ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانا کھانے کے بارے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کھایا کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 953]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 133، وابن ماجه: 1378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19008 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19217»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ جَوَازِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي حِجْرِ الْحَائِضِ وَحُكْمِ دُخُولِهَا الْمَسْجِدَ
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل¤ہونے کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 954
عَنْ مَنْبُوذٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَأَتَاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ! مَا لَكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ قَالَ: أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ، قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ! وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ فَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، ثُمَّ تَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ فَتَضَعُهَا فِي الْمَسْجِدِ وَهِيَ حَائِضٌ، أَيْ بُنَيَّ! وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟
ام منبوذ کہتی ہیں: میں سیدہ میمونہؓ کے پاس تھی، سیدنا ابن عباسؓ ان کے پاس آئے، انھوں نے ان سے پوچھا: میرے بیٹے! کیا وجہ ہے کہ تیرا سر پراگندہ ہے؟ انھوں نے کہا: ام عمار میرے سر کی کنگھی کرتی تھیں اور وہ آج کل حائضہ ہیں۔ سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس آتے، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی گود میں سر رکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے، اسی طرح وہ کھڑی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چٹائی آپ کے لیے مسجد میں بچھاتی، جبکہ وہ حائضہ ہوتی، میرے بیٹے! حیض کا ہاتھ سے کیا تعلق ہے؟ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 954]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ام منبوذ۔ أخرجه النسائي: 1/ 147، 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27346»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 955
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حَجْرِي (وَفِي رِوَايَةٍ: يَتَّكِئُ عَلَيَّ) وَأَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ میری گود میں اپنا سر رکھتے، ایک روایت میں ہے: میرے ساتھ ٹیک لگاتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 955]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 297، ومسلم: 301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24901»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 956
وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ
ایک روایت میں ہے: سیدہؓ کہتی ہیں:رسول اللہ میری گود میں ٹیک لگاتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 956]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26751»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 957
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ: ((نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ)) مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَحْدَثْتُ، فَقَالَ: ((أَوَ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ؟))
سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد سے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ انھوں نے کہا: میں تو حائضہ ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا حیض تیرے ہاتھ میں ہے؟ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 957]
تخریج الحدیث: «الحديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شبية:2/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5382 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5382»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 958
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ)) مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: قُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، قَالَ: ((إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ))
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد سے مجھے فرمایا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ میں نے کہا: میں تو حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 958]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26444»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 959
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْجَارِيَةِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ: ((نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ)) قَالَتْ: أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا فَيُصَلِّي عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: ((إِنَّ حَيْضَهَا لَيْسَتْ فِي يَدِهَا))
سیدہ عائشہؓ سے ہی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تھے، لونڈی سے کہا: مجھے چٹائی پکڑاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، اس نے کہا: میں تو حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اس کا حیض اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 959]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25974»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں