الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَبْنِي عَلَى عَادَتِهَا وَفِي وُضُوئِهَا لِكُلِّ صَلَاةٍ
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 970
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهَا مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا بَلَغَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ تَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّي) )
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں ایک عورت نے خون بہانا شروع کر دیا، پس جب سیدہ ام سلمہؓ نے اس کے لیے فتوی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مہینہ میں جتنی راتوں اور دنوں میں اس کو حیض آتا تھا، وہ ان کو دیکھ لے، جب وہ اس مقدار کو پورا کر لے تو غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھنا شروع کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 970]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 1/ 182، وابن ماجه: 623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27252»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 1/ 182
حدیث نمبر: 971
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَإِنَّهَا اسْتُحِيضَتْ فَلَا تَطْهُرُ، فَذُكِرَتْ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ، فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهُ فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ ثُمَّ لِتَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلْتُصَلِّ) )
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بن جحشؓ، جو سیدہ عبد الرحمن بن عوفؓ کی بیوی تھیں، کو استحاضہ کا اتنا خون آنے لگ گیا کہ وہ پاک نہیں ہوتی تھیں، جب ان کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، یہ رحم میں کسی رگ کو ٹھوکر لگ گئی ہے، اس عورت کو جتنے دنوںمیں حیض آتا تھا، اس کو چاہیے کہ ان دنوں میں نماز ترک کر دے اور پھر دیکھ لے کہ ان کے بعد (طہر کے) کتنے دن بنتے ہیں، ان میں ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 971]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: فلتغتسل عند كل صلاة ولتصل فھو غير محفوظ۔ أخرجه مسلم: 334 دون قوله ھذا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25485»
الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله: فلتغتسل عند كل صلاة ولتصل فھو غير محفوظ۔ أخرجه مسلم: 334 دون قوله ھذا
10. بَابٌ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَعْمَلُ بِالتَّمْيِيزِ
اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے
حدیث نمبر: 972
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ هَٰذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي) ) قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ثُمَّ تُصَلِّي، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ ؓ، جو سیدنا عبد الرحمن بن عوف ؓکی بیوی تھیں، کو سات سال سے استحاضہ کا خون آ رہا تھا، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ تو کسی رگ کامسئلہ ہے، جب حیض آ جائے تو تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھا کر۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرتی تھیں اور اپنی بہن سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ٹب میں بیٹھتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر چڑھ آتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 972]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 327، ومسلم: 334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25045»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 327
حدیث نمبر: 973
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) إِنَّهَا قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ، قَالَ: ( (إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي) ) فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: لَمْ يَأْمُرْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، إِنَّمَا فَعَلَتْهُ هِيَ
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتوی پوچھا اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی رگ کا مسئلہ ہے، پس تو غسل کر اور نماز پڑھ۔ پس یہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں، ابن شہاب نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، یہ خود ایسا کرتی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 973]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25028»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25028
11. بَابٌ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ الَّتِي جَهِلَتْ عَادَتَهَا وَلَمْ تُمَيِّزْ، مَاذَا تَفْعَلُ؟
جس مستحاضہ کی عادت بھی نامعلوم ہو اور وہ خون میں تمیز بھی نہ کر سکتی ہو، وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 974
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً شَدِيدَةً كَثِيرَةً، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَالَ: ( (مَا هِيَ؟) ) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَرَى فِيهَا؟ قَدْ مَنَعَتْنِيَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، قَالَ: ( (أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ) ) قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: ( (فَتَلَجَّمِي) ) قَالَتْ: إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًا؟ فَقَالَ لَهَا: ( (سَأَمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ، أَيُّهُمَا فَعَلْتِ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ، فَإِنْ قَوِيْتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمَ) ) فَقَالَ لَهَا: ( (إِنَّمَا هَٰذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ إِلَى سَبْعَةٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَيْقَنْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي فَإِنَّ ذَلِكِ يُجْزِئُكِ وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ بِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيْتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِي ثُمَّ تُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ تُؤَخِّرِي الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِي الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْتَسِلِي وَتَجْمَعِي بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِي، وَتَغْتَسِلِي مَعَ الْفَجْرِ وَتُصَلِّي، وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي وَصَلِّي وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ) ) وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَهَٰذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ) )
سیدہ حمنہ بنت جحش ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا کون آتا تھا، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتوی پوچھنے اور آپ کو اپنا مسئلہ بتانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بہن سیدہ زینب بن جحشؓ کے گھر پایا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا خون آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اس نے تو مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے روئی کی تجویز دیتا ہوں، وہ خون کو ختم کر دے گی۔ میں نے کہا: وہ خون تو اس سے زیادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لنگوٹ کس لے۔ اس نے کہا: میں تو بہت خون بہا رہی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے دو حکم دیتا ہوں، تو ان میں سے جو بھی کرے گی، وہ تجھے کفایت کرے گا، پس اگر تجھے اِن دونوں کو کرنے کی طاقت ہو تو تو خود بہتر جانتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطان کی ٹھوکروںمیں سے ایک ٹھوکر ہے، پس تو چھ سے سات دن اپنے آپ کو حائضہ شمار کر جو بھی اللہ کے علم کے مطابق ہو، پھر اس طرح غسل کر کہ تجھے نظر آنے لگے کہ واقعی تو پاک اور صاف ہو گئی ہے اور تجھے اس چیز کا یقین ہو گیا ہے، پھر تو تئیس یا چوبیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، پس یہ عمل تجھے کفایت کرے گا، پس تو ہر ماہ کو اسی طرح کر، جیسا کہ خواتین کو ان کے حیض اور طہر کے وقت میں حیض آتا ہے اور پھر وہ پاک ہو جاتی ہیں اور اگر تجھ میں اتنی قدرت ہے کہ تو ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کر ے اور اِن دونوں کو اکٹھا کرکے ادا کرے، مغر ب کو مؤخر کر کے اور عشاء کو معجل کر کے ان کیلئے غسل کرے اور اِن دونوں کو اکٹھا کر کے ادا کرے اور فجر کے لیے علیحدہ غسل کر کے اس کو ادا کر لے، تو تو اسی طرح کر اور نماز پڑھ اور روزے رکھ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِن دو حکموں میں سے یہ عمل مجھے زیادہ پسند ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن محمد بن عقيل ضعيف يعتبر به في المتابعات، ولم يتابع ھنا۔ أخرجه ابوداود: 287، والترمذي: 128، ابن ماجه: 627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28022»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
12. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ: تَغْتَسِلُ الْمُسْتَحَاضَةُ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِنْ قَدَرَتْ أَوْ تَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِغُسْلٍ
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
حدیث نمبر: 975
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ سَلَمَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: سُهَيْلَةَ) بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو اسْتُحِيضَتْ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَالصُّبْحِ بِغُسْلٍ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ سلمہ یا سہیلہ بنت سہیلؓ استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور اس بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہر نماز کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ عمل ان پر گراں گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غسل کے ساتھ ظہر و عصر کو اور ایک غسل کے ساتھ مغرب و عشا کو ادا کر لیں اور نماز فجر کیلئے الگ سے غسل کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، وھذا اسناد اختلف فيه علي عبد الرحمن بن القاسم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25391»
الحكم على الحديث: حديث ضعيف
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً سَأَلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ عَائِذٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ استحاضہ والی ایک خاتون نے عہد ِ نبوی میں اپنی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، کسی نے اس کو کہا: یہ اعتدال کی کیفیت سے آگے بڑھ جانے والی ایک رگ ہے، پھر اس کو حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشا کو معجل کر کے ان کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے الگ سے غسل کر لے۔ (مسند أحمد: ۲۵۹۰۵) [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: بدون رقم في النص المقدم»
الحكم على الحديث: حديث ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 294
13. بَابٌ فِي أَنَّ الِاسْتِحَاضَةَ لَا تَمْنَعُ شَيْئًا مِنْ مَوَانِعِ الْحَيْضِ
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 977
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (تُصَلِّي الْمُسْتَحَاضَةُ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ) )
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مستحاضہ خاتون نماز پڑھے گی، اگرچہ اس کا خون چٹائی پر بہتا رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 977]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابو داود: 298، وابن ماجه: 624، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25573»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابو داود: 298
حدیث نمبر: 978
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي
سیدہ عائشہؓ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں ایک خاتون مستحاضہ تھی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا تھا، جبکہ وہ زرد اور سرخ رنگ کا خون دیکھتی رہتی تھی، بسا اوقات تو ہم اس کے نیچے ایک تھال رکھتی تھیں، جبکہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 978]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 310، 2037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25512»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 310
حدیث نمبر: 979
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ: قَالَ: ( (إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ) ) أَوْ قَالَ: ( (عُرُوقٌ) )
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کے بارے میں فرمایا جو طہر کے بعد (ایسا خون) دیکھتی رہتی ہے، جو اسے شک میں ڈالتا ہے: یہ تو کسی رگ کا مسئلہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ام بكر۔ أخرجه ابن ماجه: 646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26323»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة ام بكر۔ أخرجه ابن ماجه: 646