🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ جَوَازِ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فِيمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَمُضَاجَعَتِهَا وَمُؤَاكَلَتِهَا
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 940
عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ وَيَدْخُلُ مَعِيَ فِي لِحَافِي وَأَنَا حَائِضٌ وَلَكِنْ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے جسم کے ساتھ جسم ملاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور آپ میرے لحاف میں میرے ساتھ داخل ہو جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی شرمگاہ پر زیادہ کنٹرول کرنے والے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 940]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 1/ 51، 189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25335»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 1/ 51
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 941
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي، وَكُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ وَأَنَا حَائِضٌ
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے حکم دیتے کہ میں ازار باندھ لوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ لیٹ جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کی کنگھی کرتی تھی، جبکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 941]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: (938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24784»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث رقم: (938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24784
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 942
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشٍ وَأَنَا حَائِضٌ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بچھونے پر سوتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، لیکن مجھ پر کپڑا ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 942]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 7552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24993»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في الاوسط : 7552
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 943
عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَأَنَا حَائِضٌ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے معانقہ کرتے تھے اور میرے سر پر بوسہ وغیرہ دیتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 943]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1517، والدارمي: 1052، وابويعلي: 4487، والبيھقي: 1/ 312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26058»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1517
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 944
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصْغِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہوتے تھے اور اپنے سر مبارک کو میری طرف جھکاتے تھے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنگھی کرتی تھی، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 944]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2028، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24742»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2028
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 945
وَعَنْهَا أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يُبَاشِرُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: ( (لَهُ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ) )
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ازار سے اوپر والا حصہ استعمال کر سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد اس شخص کے بارے میں ہے، جو حائضہ بیوی کے جسم کے ساتھ جسم ملاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 945]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2028، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24940»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2028
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 946
عَنْ مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ مُحْتَجِزَةً بِهِ
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں میں سے حائضہ کے جسم کے ساتھ جسم ملا لیا کرتے تھے، جبکہ اس پر (کم از کم) ایسا ازار ہوتا جو نصف رانوں تک یا گھٹنوں تک پہنچ جاتا تھا، وہ اس سے (مخصوص جگہ کو) محفوظ کر لیتی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 946]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: يبلغ انصاف الفخذين او الركبتين أخرجه مسلم: 295 بلفظ: عن ميمونة، قالت: كان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يضطجع معي وانا حائض، وبيني وبينه ثوب۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27387»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید میں ہے: {وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضُِّ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ} (البقرۃ: ۲۲۲) اور وہ تجھ سے حیض کے بارے پوچھے ہیں۔ کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے۔ پس حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ اس آیت کو سامنے رکھ کر کچھ لوگ اس باب کے تحت آنے والی احادیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں آ رہا ہے کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو۔ جب کہ احادیث باب سے عورتوں کے ساتھ میل جول اور ان کے ساتھ مباشرت (ساتھ لیٹنا، جسم کے ساتھ جسم ملانا) ثابت ہو رہا ہے جو کہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اس لیے اس احادیث جو قرآن کے خلاف ہوں ان کو ایسے صحیح کہا جا سکتا ہے۔ حالانکہ باب کے تحت آنے والے احادیث سے آیت کا مفہوم واضح ہو رہا ہے کہ حائض سے میل ملاقات اور اس کے ساتھ لیٹ جانا منع نہیں بلکہ اس کے قریب نہ جانے سے مراد جماع نہ کرنا ہے۔ اور اس کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جو انسؓ سے مروی ہے کہ یہود میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ گھر میں اس کے ساتھ اکٹھے رہتے۔ صحابہ کرام نے اس بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضُِّ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ} (اس کا ترجمہ شروع ذکر کیا گیا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماع کے علاوہ سب کچھ کرو۔ (مسلم: ۳۰۲) معلوم ہونا مذکورہ الصدر آیت اور احادیث باب کے درمیان کوئی تعارض نہیں بلکہ یہ احادیث کے اندر کیڑے تلاش کرنے والوں کی ذہنی اختراع ہے اور بس۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: يبلغ انصاف الفخذين او الركبتين أخرجه مسلم: 295 بلفظ: عن ميمونة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 947
عَنِ ابْنِ قُرَيْظَةَ الصَّدَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاجِعُكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا شَدَدْتُ عَلَيَّ إِزَارِي وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِذْ ذَاكَ إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ، فَلَمَّا رَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِرَاشًا آخَرَ اعْتَزَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابن قریظہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا: جب آپ حائضہ ہوتی تھیں تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب میں ازار کو اپنے اوپر کس لیتی تھی اور اس وقت سرے سے ہمارا بچھونا ہی ایک تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور بچھونا دے دیاتھا تو میں اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے الگ ہو جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن قريظه الصدفي، وقد اختلف فيه علي يزيد بن ابي حبيب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25113»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن قريظه الصدفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 948
عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا: كَيْفَ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَكَتْ؟ فَقَالَتْ: كَانَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ إِحْدَانَا، اتَّزَرَتْ بِالْإِزَارِ الْوَاسِعِ ثُمَّ الْتَزَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهَا وَنَحْرِهَا
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں: میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا اور میں نے سوال کیا: جب تم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تھی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کیا کرتی تھی؟ انھوں نے کہا: جب ہم میں سے کوئی اس حالت میں ہوتی تھی تو وہ کھلا سا ازار باندھ لیتی تھی اور اپنے ہاتھوں اور سینے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چمٹ جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا شبه موضوع، صدقة بن سعيد الحنفي، تكلموا عليه، حتي قال ابن حبان: كان رافضيا يضع الحديث۔ أخرجه النسائي: 1/ 189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25436»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا شبه موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 949
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِهِ، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ: ( (أَنَفِسْتِ؟) ) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَجَدْتُّ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ، قَالَ: ( (ذَاكِ مَا كُتِبَ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ) ) قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ ثُمَّ جِئْتُ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں میں اس وقت حائضہ ہو گئی، جب میں اوررَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑے میں تھے، پس میں کھسک گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں اسی چیز میں مبتلا ہو گئی ہوں، جس میں خواتین ہو جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز تو پھر بناتِ آدم پر لکھ دی گئی ہے۔ بہرحال میں چلی گئی اور اپنی حالت کو سنوار کر ایک کپڑے سے لنگوٹ کس لیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لحاف میں آ کر لیٹ گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 322، ومسلم: 296، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27060»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 322
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں