🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. بَابُ كَيْفِيَّةِ السَّلَامِ وَلَفْظِهِ وَأَنَّهُ مَرَّتَان
سلام کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس کے دو مرتبہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1826
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ أَوْ خَدِّهِ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے آپ نیچے جاتے، اوپر ہوتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ رخساروں کی سفیدی نظر آجاتی تھی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ایسے کرتے دیکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1826]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف، زھير سمع من ابي اسحاق بعد اختلاطه، لكنه متابع۔ أخرجه النسائي: 2/ 205، والترمذي: 253 (3660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3660»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1827
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَدِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِتَسْلِيمَتِهِ الْيُسْرَى
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار کی سفیدی کی طرف دیکھ رہا ہوں، جبکہ آپ بائیں طرف سلام پھیر رہے ہوتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1827]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف، مغيره بن مقسم الضبي ضعيف في حديثه عن ابراهيم النخعي اذا عنعن ولم يصرح بالسماع، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4432»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1828
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، حَتَّى يُرَى أَوْ نَرَى بَيَاضَ خَدَّيْهِ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں اور بائیں طرف یہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے تھے: اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا چہرہ پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آجاتی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1828]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن لھيعة، وانظر: 751، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3933»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1829
عَنْ وَاسِعٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا وَضَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، ثُمَّ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى يَمِينِهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ عَلَى يَسَارِهِ
جناب واسع نے جب سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: آپ جب بھی نیچے جاتے اور اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر دائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور بائیں طرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1829]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 3/ 62، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6397»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے پتہ چلا کہ بائیں طرف صرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہنا بھی درست ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 3/ 62
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1830
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قَالَ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ دائیں طرف سلام پھیرتے تو آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی، اسی طرح جب بائیں طرف سلام پھیرتے تو رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1830]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1484»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے پتہ چلا کہ بائیں طرف صرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہنا بھی درست ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 582
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1831
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1831]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23252»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1832
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1832]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/298، والطيالسي: 1021، والطبراني في الكبير: 22/ 104، والبيھقي: 2/ 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19059»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/298
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1833
عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ، يُرَى بَيَاضُ إِبْطِهِ، ثُمَّ إِذَا سَلَّمَ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُقْبِلُ بِوَجْهِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ عَنْ يَسَارِهِ
سیدہ عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے توآپ کی بغل کی سفیدی نظر آ جاتی، اسی طرح جب سلام پھیرتے تو اپنے چہرے کو دائیں طرف اس قدر متوجہ کرتے کہ رخسار کی سفیدی نظر آجاتی، پھر جب بائیں طرف سلام پھیرتے تو اپنے چہرے کو اتنا پھیرتے کہ بائیں طرف سے چہرے کی سفیدی نظر آ جاتی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1833]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن حريز۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 263، وابن خزيمة: 650 مختصرا بشطره الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17878»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ سلام کے الفاظ کے دو طریقے ہیں: (۱) دونوں طرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہنا اور (۲) دائیں طرف تو یہی الفاظ کہنا، لیکن بائیں طرف صرف اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ کہنا۔ نیزیہ بھی ثابت ہوا کہ دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت چہرے کو مکمل طور پر دائیں بائیں پھیرنا چاہیے۔ الفاظ کا تیسرا طریقہیہ ہے کہ دائیں طرف چہرہ پھیرتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ کہا جائے اور بائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ (ابوداود: ۹۹۷) صرف ایک طرف سلام پھیرنا بھی درست ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر میں ایک ہی سلام پر اکتفا کیا۔ (صحیح مسلم: ۷۴۶) صرف ایک سلام پھیرتے وقت چہرے کو معمولی سا دائیں طرف پھیرا جائے گا۔ (جامع ترمذی: ۲۹۶) نماز سے خارج ہونے کے لیے سلام ہی پھیرنا چاہیے، مذکورہ بالا دلائل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی عمل پیش کیا گیا ہے، نیز سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں صرف یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھو اور اپنے دائیں بائیں والے بھائیوں پر سلام (یعنی اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ) کہو۔ (صحیح مسلم: ۴۳۱)امام نوویؒ نے کہا: جان لو! سلام نماز کے ارکان میں سے ایک رکن اور فرضوں میں سے ایک فرض ہے، اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے، یہ مذہب جمہور علماء صحابہؓوتابعینؒ اور ان کے بعد آنے والے لوگوں کا ہے۔ (شرح النووی: ۵/۸۳) اٹھارہ (۱۸)صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مبارک فعل روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے خارج ہونے کیلئے سلام کہتے تھے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ)) یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ (صحیح بخاری: ۶۳۱)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُوْرُ وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ
وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ (وَفِیْ لَفْظٍ) مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الْوُضُوْئُ وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ۔)) یعنی: نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر ہی ہے اور اس کی تحلیل سلام ہی ہے۔ (ابوداود: ۶۱، ۶۱۸، ابن ماجہ: ۲۷۵، الترمذی: ۳، مسند احمد: ۱۰۰۶، ۱۰۷۲) تحریم سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام امور حرام ہو جاتے ہیں، جو نماز کے اندر ناجائز ہیں، اور تحلیل سے مطلب یہ ہے کہ جو امور نماز کی وجہ سے حرام ہو گئے تھے، وہ حلال ہو گئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں داخل ہونے کے لیے صرف اللہ اکبر کہا جائے گا اور نماز سے خارج ہونے کے لیے صرف سلام کہا جائے گا۔ چونکہ حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ آخری دو جملوں میں خبر مقدم اور مبتدا مؤخر ہے، اس لیے معنی میں حصر پیدا ہو گیا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں نماز سے خارج ہونے کے لیے سلام کا اہتمام کیا، اسی کا حکم دیا اور اسی کا پابند رہنے کی تلقین کی، لہٰذا ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن احناف کا مسلک یہ ہے کہ نمازی نماز کے منافی کوئی حرکت کر کے نماز مکمل کر سکتا ہے، سلام پھیرنا ضروری نہیں، جیسے کلام کرکے، جان بوجھ کر وضو توڑ کر، کھڑے ہو کر وغیرہ وغیرہ۔ اگر مذکورہ بالا احادیث ذہن نشین کر لی جائیں تو اس قسم کی رائے کے سوچنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَاب حَذْفِ السَّلَامِ وَكَرَاهَةِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ معه
سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1834
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کی تخفیف سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1834]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف قرة بن عبد الرحمن۔ أخرجه ابوداود: 1004، وبأثره: قال عيسي: نھاني ابن المبارك عن رفع ھذ الحديث، وأخرجه مرفوعا ابن خزيمة: 734، والحاكم: 1/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10898»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سلام کے الفاظ کو لمبا کر کے ادا نہ کیا جائے، بلکہ امام کو چاہیے کہ وہ مناسب جلدی کے ساتھ سلام کہہ دے۔ اہل علم نے اسی صورت کو مستحب سمجھا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف قرة بن عبد الرحمن۔ أخرجه ابوداود: 1004
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1835
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ بِأَيْدِينَا يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ أَلَا يَسْكُنُ أَحَدُكُمْ وَيُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى صَاحِبِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ) )
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تو ہاتھوں کے ساتھ دائیں بائیں اشارہ کر کے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیاحال ہے جو نماز میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ یوں اشارہ کرتے ہیں جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیا تم میں سے ہر ایک کو یہ صورت کفایت نہیں کرتی کہ اپنا ہاتھ ران پر ہی رکھے اور دائیں بائیں سلام پھیر دے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1835]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21091»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 431
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں